’’سیاسی باتیں‘‘

’’سیاسی باتیں‘‘

کالم کی ابتدا سے پہلے ایک انتہائی اہم بات حکومت کو ٹیلیفونک خطاب پر فوراً پابندی لگانی چاہئے۔ ’’الطاف بھائی‘‘ پر بلاشبہ پاکستانی عدالتوں میں کئی مقدمات ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ این آر او کے تحت تقریباً 72 مقدمات انکے ختم بھی ہو چکے ہیں۔ انہی مقدمات کی وجہ سے وہ ’’بھگوڑے‘‘ ہیں۔ ایسا انسان جو قانون کی نظر میں ملزم ہو‘ اسے کس قانون کے تحت ٹیلیفونک خطاب کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں اپنی اشتعال انگیز تقاریر سے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ سکیورٹی اداروں کو بھی دھمکیاں دینے سے نہیں چوکتے۔ اگر انہیں یہ اجازت دینی ہے تو پھر ہر ملزم کو یہ سہولت فراہم کی جائے کیونکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ گزشتہ ہفتے جب تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ گئے تو انکے ساتھ جو ہوا سب پر عیاں ہے۔ بلاشبہ عمران خان ایک جذباتی آدمی ہے۔ بات کرنے کے بعد سوچتے ہیں اور اپنی باتوں پر پورا بھی کم ہی اترتے ہیں۔ جوانی میں اکثر کہتے کہ جب بھی شادی کروں گا پاکستانی لڑکی سے کرونگا مگر ’’جمائما‘‘ کو ’’خان‘‘ بنا لیا۔ اپنی جماعت کے بارے میں ان کا واضح نقطہ نظر تھا کہ "Youth" کو آگے لیکر آئینگے مگر ایسا بالکل نہیں ہوا۔ سب جماعتوں سے نکالے گئے پرانے کھلاڑی شامل کرلئے لہٰذا تحریک انصاف اپنی ’’انفرادیت‘‘ کھو بیٹھی۔ تحریک انصاف میں شامل پرانے کھلاڑیوں نے انہیں ’’ڈنگ‘‘ بھی مارے۔ جاویدہاشمی کی واضح مثال ہے جو تحریک انصاف میں رہتے ہوئے بھی اپنا ’’قائد‘‘ نوازشریف کو ہی گردانتے تھے۔ جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کے سارے راز فاش کرکے گویا ایک ’’سیاسی جاسوس‘‘ ہونے کا ثبوت دیا تھا۔ بہرحال 2013ء کے الیکشن کو تحریک انصاف نے تسلیم کرنے سے انکار بھی کر دیا اور ساتھ اسی کے تحت حلف بھی اٹھا لیا اور خیبرپختونخوا میں حکومت بھی بنا ڈالی۔ الیکشن کو دھاندلی زدہ اور جعلی قرار دیتے رہے۔ تقریباً چار ماہ ’’ڈی چوک‘‘ پر یہی تماشا ’’شیخ الابہام‘‘ اور انکے کزن عمران خان کرتے رہے۔ عمران خان کا مطالبہ ’’گو نواز گو‘‘ تھا۔ اب جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں آیا۔ موصوف اسحاق ڈار کی باتوں میں آکر پارلیمنٹ آگئے۔ ’’ڈی چوک‘‘ پر جو کچھ ہوا‘ اس میں نام کی حد تک بھی ’’سنجیدگی‘‘ نہیں تھی۔ شام کو ’’شو‘‘ کا آغاز ہوتا‘ رات گزار کر سب واپس چلے جاتے۔ اگلے دن شام کو پھر وہی تماشا ہوتا ’’شیخ الابہام‘‘ بھی جوکہ پنجاب حکومت کے ہاتھوں مارنے جانیوالے عوامی تحریک کے افراد کے عوض شہبازشریف کو آخری حد تک سزا دلانے کے ’’دعوے‘‘ کرتے رہے۔ قانون پڑھاتے رہے اور حکومت کی خامیاں گنواتے رہے اور اچانک ’’مک مکا‘‘ کرکے اپنے وطن سدھار گئے۔ یہ دونوں قائدین اپنی کسی ایک بات پر بھی قائم رہ سکے اور نہ ہی اسے منوا سکے۔ مگر تحریک انصاف چونکہ ایک سیاسی جماعت ہے‘ اسے زبردست دھچکا لگا ہے۔ اب کون انکی باتوں پریقین کریگا۔ جوکہ اپنی کی ہوئی باتیں خود ہی بھول جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں پہلے دن خواجہ آصف نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ یہ خواجہ موصوف کی پرانی عادت ہے۔ جذبات میں ’’بڑھک‘‘ لگاتے ہیں پھر معافی بھی مانگ لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پاک آرمی کیخلاف بھی موصوف نے ایک بیان ’’داغا‘‘ تھا‘ بعد میں معافی بھی مانگ لی۔ اب شاید وہ معافی نہیں مانگیں گے۔ پارلیمنٹ کے اندر خواجہ آصف کو ایسی ’’زبان‘‘ سے اجتناب کرنا چاہئے تھا۔ لگتا ہے یہ بھی تحریک انصاف کیخلاف ایک منظم سازش تھی۔ اہم حکومتی عہدیدار اسحاق ڈار کے بار بار اصرار پر اراکین تحریک انصاف پارلیمنٹ جاتے ہیں۔ وزیراعظم کی موجوگی میں خواجہ آصف سب کچھ کہتے ہیں۔ بعد میں اسحاق ڈار بھی ’’خواجہ‘‘ کی اس حرکت پر ’’خاموش‘‘ دکھائی دیتے ہیں اگر تحریک انصاف والے خواجہ آصف سے وضاحت مانگ لیتے کہ جناب ہم تو سات ماہ پارلیمنٹ میں نہیں آئے مگر آپ نے پارلیمنٹ میں آکر کون سے تیر مار لئے ہیں۔ کیا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے؟ بہرحال ’’متحدہ‘‘ کے اراکین جوہ اپنے ہر غیر آئینی کام ’’آئین کی پاسداری‘‘ کے ’’ورد‘‘ کے ساتھ شروع کرتے ہیں‘ وہ بھی چپ نہ رہے اور تحریک انصاف کیخلاف خوب بھڑاس نکالی۔ ’’مولوی‘‘ فضل الرحمن بھلا کیسے خاموش رہتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان رکن نہیں مجرم ہیں بہرحال پی پی پی اور (ن) لیگ عوام الناس کی ’’آزمودہ‘‘ پارٹیاں ہیں۔ تحریک انصاف پر امیدیں لگی تھیں مگر شاید اب یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا ’’مک مکا‘‘ اور ’’مفاہمتی‘‘ سیاست کو ہی فروغ ملتا رہے گا۔ ہماری ساری سیاسی پارٹیوں کے اندر ’’قائدین‘‘ تو موجود ہیں مگر وہ ان پارٹیوں کے قائد تو ہو سکتے ہیں‘ ’’عوامی قائد‘‘ کوئی ایک بھی نہیں ہے۔ (ن) لیگ اپنے ’’اقتدار‘‘ میں ہے۔ مسائل جوں کے توں ہیں۔ ایک ’’الطاف بھائی‘‘ ہیں جن کی جماعت نے پورے کراچی کو ’’یرغمال‘‘ بنا رکھا ہے۔ ادھر ’’نواز اور آصف زرداری‘‘ بھائی بھائی ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفظ دینے کی پالیسی جاری و ساری ہے۔ کبھی کوئی ’’بڑا‘‘ مجرم نہیں پکڑا گیا۔ قانون صرف غریبوں‘ بے بسوں‘ بے کسوں کے گریبانوں پر جھپٹتا ہے۔ ان ’’بڑوں‘‘ کو دیکھتے ہی قانون کی نظریں جھک جاتی ہیں۔