گل کھلائے کیا کراچی کا الیکشن دیکھئے

کالم نگار  |  ظفر علی راجا
گل کھلائے کیا کراچی کا الیکشن دیکھئے

ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کمال یہ ہے کہ بات سچی ہو یا جھوٹی، وہ پریس کانفرنس اور ٹی وی کے سامنے بے جھجھک ٹھوس دلائل کے ساتھ اپنے مؤقف پر اصرار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آج کل ملک بھر کی نظریں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 پر لگی ہوئی ہیں۔ نظروں کے علاوہ لوگوں کے کان بھی ادھر لگے ہوئے ہیں لیکن وہاں اتنا سیاسی شور شرابا مچا ہوا ہے کہ کان پڑی آواز تک سنائی نہیں دے رہی۔ ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے پہلوان انتخابی اکھاڑے میں اترے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کچھ سیاسی پہلوان بھی مقابلے کی تیاری کے لئے جماعتی پنڈال میں بیٹھکیں مارتے رہے لیکن آصف علی زرداری کو یہ بیٹھک بازی پسند نہیں آئی لہذا انہوں نے اپنے متوقع امیدواروں کو نہ صرف دودھ کی جھاگ کی طرح بٹھا دیا بلکہ ایم کیو ایم کے امیدوار کی خاموش حمایت کر کے اپنی پارٹی کے منہ پر مہر سکوت ثبت کر دی۔ اس سکوت کا مطلب یہ تھا کہ ایم کیو ایم سے شکست انگیز مقابلہ کر کے خود کو تماشا نہ بنائیں۔ زرداری صاحب سیاسی تماشا گری اور تماشا بینی کے ماہر ہیں۔ مرزا غالب نے شاید ان ہی کی زبان میں یہ مصرعہ کہا تھا …ع
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
بات ہو رہی تھی جھوٹ اور سچ کی۔ اس مہینے کے پہلے ہفتے میں تحریک انصاف کے جلوس اور ایم کیو ایم کے حامیوں میں تو تو میں میں ہو گئی۔ پھر بات لڑائی جھگڑے تک پہنچی۔ تحریک ا نصاف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم والوں نے سیاسی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے ببانگ دہل اس کی تردید کی اور انکشاف کیا کہ دراصل انصافیوں نے الطاف کی شان میں گستاخی کی تھی جو ہمارے کارکنوں کو ہضم نہیں ہو سکی اور اس بدہضمی کی اصل وجہ الطافیئے نہیں انصافیئے ہیں عمران خان نے کراچی جانے کا پروگرام بنایا تو الطاف حسین نے الطاف خسروانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کو دعوت دی کہ وہ جلسے سے پہلے بیگم سمیت ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو تشریف لائیں جہاں انہیں لذیذ کھانا اور تحائف پیش کئے جائینگے۔ اسکے بعد وہ تحریک انصاف کے انتخابی جلسے میں تقریر فرمائیں لیکن عمران خان نے یہ پیشکش قبول نہیں کی عین ممکن ہے ان کے دل میں یہ خوف ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایم کیو ایم والے انہیں تحفے میں نیٹو کا چوری شدہ اسلحہ پیش کریں اور عین اسی لمحے پیپلزپارٹی کے حکومتی افسر چھاپہ مار کر انہیں سیدھا جیل لے جائیں۔ یا پھر کھانے میں کوئی ایسی چیز ملا دی جائے کہ جب وہ تقریر کرنے کے لئے اٹھیں تو ان کا گلا بیٹھ جائے اور وہ تقریر کے قابل نہیں رہیں۔ عمرانی انکار پر ایم کیوایم کی کشور زہرہ نے انکشاف کیا کہ بیگم عمران کے لئے دو لاکھ نوے ہزار روپے مالیت کا ہار اور عمران کو قیمتی تحائف دئیے جانے تھے جو ابھی تک نائن زیرو میں موجود ہیں۔
جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم میں بھی منہ ماری اور مارا ماری کا سلسلہ جاری ہے۔ بارہ اپریل کو جماعت نے ریلی نکالی۔ لیاقت آباد نمبر10 کے قریب کچھ دس نمبریوں نے ریلی پر ڈنڈا باری شروع کر دی اور کاروں کے شیشے بھی توڑ دئیے۔ ایک ٹی وی چینل کے مطابق یہ حملہ ایم کیو ایم کے کیمپ سے کیا گیا تھا جبکہ ایم کیو ایم کا دعویٰ تھا کہ حملے کی ابتداء جماعت کے لٹھ برداروں نے کی تھی۔ جماعت کی ریلی الاعظم سکوائر پہنچی تو یہاں بھی نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں جماعت کے تین ارکان زخمی ہو گئے۔ ایک اطلاع کے مطابق کئی ارکان لاپتہ ہیں۔ ایم کیو ایم نے جوابی وضاحت میں بتایا ہے کہ جماعتی ڈنڈا برداروں نے متحدہ کے امیدوار کے انتخابی کیمپ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جماعتی ریلی پر حملے کے بعد حکم جاری کیا کہ حملے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے لیکن آج تک اس ’’فوری‘‘ کو فوری نہیں بنایا جا سکا۔ بارہ اپریل کو الطاف حسین نے ایسا طریقہ کار طے کرنے کے لئے تحریک انصاف ا ور ایم کیو ایم کی مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز دی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھول کر محبتوں کے نئے دور کا آغاز کریں۔ جیو اور جینے دو کی پالیسی اختیار کی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود الطاف حسین مہاجرانہ تلخیاں بھولنے کو تیار ہیں۔ ان کی سیاست کا بنیادی عنصر ہی سندھی مہاجر تضاد سے ابھرا ہے۔ بارہ اپریل ہی کو ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے مہاجروں کو عزت سے جینا سکھا دیا ہے۔ عمران خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ الطاف حسین دوغلی پالیسی چلا رہے ہیں۔ ایک طرف ہمیں دعوت دیتے ہیں دوسری طرف ہمارے کارکنوں کے سر پھاڑے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق نے بھی الطاف حسین کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ تھری جی کا دور گزر گیا ہے عوام کو راشد نسیم اور ’’اجمل پہاڑی‘‘ میں سے کسی ا یک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ اس صورتحال میں کراچی کے حالات پر ہمیں ایک ستارہ شناس کا شعر یاد آرہا ہے کیونکہ قوم کی تجسس بھری نظریں اس انتخابی معرکے پر لگی ہوئی ہیں؎
حادثے کچھ ہونے والے ہیں، نجومی نے کہا
گل کھلائے کیا کراچی کا الیکشن دیکھئے