ڈاکٹر وں کی آئے روز ہڑتال کیوں؟

کالم نگار  |  ایم۔ اے سلہری
ڈاکٹر وں کی آئے روز ہڑتال کیوں؟

دعا کریں اللہ ہر کسی کو بیماری اور مقدمہ سے محفوظ رکھے۔کہ بیماری انسان کے جسم کو نقصان پہنچا تی ہے اور کبھی موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے جبکہ مقدمہ سے واسطہ اس وقت پڑتا ہے جب انسان کے جسم و جان یا جائیداد کو انسانی فعل کے نتیجے میں گزند پہنچے۔ بیماری کے حملہ آور ہونے کی صورت میں انسان ہسپتال کا رخ کرتا ہے جہاں اس کا واسطہ ڈاکٹروں اور نرسوں سے پڑتا ہے۔بیمار اور اسکے لواحقین مراکز صحت کے ان باشندوں سے ہمدردی اور شفقت کی امید رکھتے ہیں۔ بسا اوقات انکے منہ سے نکلے ہوئے ہمدردی کے دو بول مریض کی آدھی بیماری دور کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔اور اسی طرح مقدمہ کی صورت میں انسان کو عدالت کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں اس کا واسطہ وکیل ،پولیس ،اہلکار اور جج سے پڑتا ہے۔ عدالت کا رخ کرنیوالا ہر شخص ان سے ہمدردانہ و منصفانہ برتائو کی امید رکھتا ہے۔ ہسپتال یا عدالت کا رخ کرنیوالے لوگوں کی یہ امیدیں بر آئیں یا نہ آئیں۔ ان امیدوں یا توقعات کو بلا جواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔مگرسوال یہ نہیں کہ انسان کے دکھوں کی دوائوں کے ان مراکز سے دکھی انسانوں کو مرہم میسر بھی ہے یا نہیںبلکہ سوال یہ ہے کہ رنج و الم سے دوچار انسانیت کے درد میں اضافہ کرنے کا اختیار ان اداروں سے وابستہ افراد کو کس قانون نے دیا ہے۔ وکیلوں کی ہڑتال کا رواج تو پہلے ہی ہے مگر گزشتہ چند برسوں سے حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے حوالے سے ینگ ڈاکٹروںکی تنظیم وائی ڈی اے نے ہڑتال کے آپشن کا کچھ زیادہ ہی استعمال شروع کر رکھا ہے۔وائی ڈی اے جب چاہے اچانک ہڑتال کا اعلان کر دیتی ہے اور جونئیر ڈاکٹر کام چھوڑ کر سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیتے ہیں۔ مطالبہ آجا کے وہی ٟٟ رولا رضائی کا،، کے مصداق تنخواہوں اور دیگر سہولتوں میں اضافے کا ہوتا ہے۔ اگر نوجوان ڈاکٹروں کی واقعی کہیں کوئی حق تلفی ہو رہی ہے تو اپنے حق کیلئے آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرنے میں تو کوئی ہرج نہیں۔مگر یہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاء مریضوں کو بے یارو مددگار کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔سینئر ڈاکٹرز تو قسمت والوں کو ہی دستیاب ہوتے ہیں ۔ جونیئر ڈاکٹروں کے ہڑتال پر چلے جانے سے جو مریض موت کے منہ میں چلے جائیں ان کاذمہ دار کون ہے۔ پاکستان میں رائج لیبر قوانین کے تحت مزدور وںکو ہڑتال کاحق حاصل ہے۔مگر یہ حق غیر مشروط نہیں ۔مزدور اپنا ہڑتال کا حق اس وقت استعمال کر سکتے ہیں جب صنعتی تنازعہ کے حل کی تمام مصالحتی کوششیں ناکام ہو جائیں۔پھر بھی انہیں آجر کو چودہ دن کا نوٹس دینا ہوتا ہیاور جب حکومت محسوس کرے کہ ہڑتال مفاد عامہ کیخلاف ہے تو چند اقدامات کے ساتھ مزدوروں کو ہڑتال سے منع کر سکتی ہے اورایسی صورت میں ہڑتال کا تسلسل قانون کے منافی فعل ہوگا۔مگر یہ ڈاکٹر کس قانون کے تحت ڈھٹائی سے ہڑتال کر دیتے ہیں۔کیا یہ مزدور ہیں؟ کیا مسائل صرف ڈاکٹروں کے ہی ہیں۔کیا پولیس ملازموں کے کوئی مسائل نہیں، کیا عدلیہ سے وابستہ افراد کے مسائل حل ہو گئے ہیںاور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو لوگ جان کی پروا کئے بغیر سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں کیا ان کے کوئی مسائل نہیں۔یقینا ہیں مگر قوم نے جن لوگوں کو بڑی بڑی پوزیشنوں پر بٹھایا ہے اس کا کوئی ارفع مقصد ہے اور انہیں اس کا احساس ہے کہ انکی اوّلین قومی ذمہ داری کیا ہے۔ ہمارے ذہین اور ہونہار نوجوان ڈاکٹر اپنی لیاقت اور ذہانت کے گن تو گاتے ہیں مگر باعث تشویش امر یہ ہے کہ اس سطح کی ذہانت اور لیاقت کے باوجود یہ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انکے ہڑتال پر جانے کے فعل سے کسی مریض کی جان بھی جا سکتی ہے۔ تنخواہ لینے کے باوجود ڈاکٹر کا کام چھوڑنے کا فعل انتہائی بے حسی کے مترادف ہے۔ وہ پڑھے لکھے اور قابل لوگ ہیں لہذا پڑھے لکھے لوگوں کی طرح مہذب طریقے سے احتجاج ریکارڈ کروا کر اپنا مطالبہ حکام بالا تک پہنچا سکتے ہیں ۔ انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی نام نہاد محرومیوں کا انتقام مریضوں سے لینے کی حرکت کریں۔ ہسپتالوں میں بے شمار ایسے مریض آتے ہیں جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاء ہوتے ہیں۔وہ اور انکے لواحقین شدیدکرب سے دوچار ہوتے ہیںوہ ڈاکٹر کی بر وقت توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر کی اخلاقی ذمہ داری تو یہ ہے کہ وہ داخلے وغیرہ کی رسمی کارروائیوں میں وقت ضائع کئے بغیر بلا تاخیر مریض کے علاج میںتوجہ دے۔مگر مریض کو پرچی بنوائو کے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر لواحقین مریض کی فوری طبی امداد کا مطالبہ کر بیٹھیں تو انہیں توہین آمیز طریقے سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ عام حالات میںبھی ہسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی لاپروائی کے نتیجے میں مریضوں کی اموات کے واقعات کچھ کم نہیں، پھربھی مریض چھوڑ ہڑتال کر کے یہ ڈاکٹر قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیا ڈاکٹروں کی معاشی مجبوری انہیں آئے روز اس انسان دشمن فعل کا ارتکاب کرنے پر مجبور کرتی ہے یا در پردہ کوئی سیاست کار فرما ہے۔ وجہ جو بھی ہو عوام اس صورتحال سے سخت نالاں ہیں۔ عوام حکومت سے اس مسئلہ کا مستقل حل چاہتے ہیں۔ڈاکٹروں کے جائز مطالبات پر تو ہمدردانہ غور ضروری ہے مگر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کیخلاف سخت ایکشن بھی عوام کی دلی تمنا ہے ۔تب جا کر بحیثیت مجموعی اس شعبے پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
زندگی اور موت تو اللہ کریم کے ہاتھ میں ہوتی ہے تاہم ڈاکٹر کی قابلیت و ثقافت اور شفیق رویے کا مریض اور اسکے لواحقین کی ڈھارس بندھانے میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ مریض مر بھی جائے تو لواحقین مریض کو بچانے کے حوالے سے ایک اچھے ڈاکٹر کی کوشش کا اعتراف ضرور کرتے ہیں۔ مگر ڈاکٹروں کی جانب سے مریض چھوڑ ہڑتال کا تصور بالکل ناقابل فہم ہے۔ایسی ہڑتالوں کی ہر صورت حوصلہ شکنی ضروری ہے ورنہ یہ صورتحال نہ صرف پورے شعبے کی بدنامی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ عوام کے اضطراب میں اضافہ کر کے مزید مسائل کو جنم دے سکتی ہے اور وائی ڈی اے کواسکی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔