مولانا سراج‘ حسینہ واجد کا عذاب اور شہدا سے مذاق

کالم نگار  |  نواز خان میرانی
مولانا سراج‘ حسینہ واجد کا عذاب اور شہدا سے مذاق

انسان خواہ کتنا ہی غیر جانبدار ہو اور اپنی رائے کو غتر بود اور براہٹ اور فضول خیالات و عقائد سے مبرا سمجھنے پہ مصر ہو مگر انسانی جبلت و خاصیت کی وجہ سے قدرتی اور غیر محسوس انداز میں اسکی رائے اور پلڑا کسی انسان کسی بھی چیز کسی سیاستدان اور کسی جماعت کے حق میں قدرے جھکا دیتاہے‘ جب سے علامہ اقبالؒ نے یہ فرمایا تھا کہ :
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
 غالباً اس فرمان سے متاثر ہو کر ہمارے ملک کی کوئی بھی دینی جماعت سوائے تبلیغی جماعت کے غیر سیاسی نہیں بلکہ اکثر تو وزیر مشیر رہ کر بھی دیں کا کوئی قابل ذکر کام کئے بغیر ہی منصب سے جاتے رہتے ہیں‘ دینی جماعتوں میں میرا بھی جھکاؤ متفیقین میں شامل ہوئے بغیر جماعت اسلامی کو منظم‘ نظریاتی اور فعال سمجھتے ہوئے قدرے زیادہ رہا ہے۔ اتفاقاً مودودی صاحب کے تین بیٹوں فاروق مودودی‘ حسن مودودی اور حیدر مودودی سے یاد اللہ اور دو سے بے تکلفی اور دوستی رہی ہے‘ مولانا طفیل محمد کی پامردی استقامت اور توکل تعارف کا ذریعہ بنا۔قاضی حسین سے تعارف پی ٹی وی میں اور منور حسن سے فاروق مودودی نے کرایا ۔ میں سراج الحق صاحب کے ایک مدح خواں اور دوست کا دوست ہوں گذشتہ دنوں ایک شادی کی تقریب میں انکے ساتھ تصویر اتروانے کا بھی اعزاز حاصل ہوا‘ ان سے بالمشافہ ملکر یہ احساس ہوا کہ اخبارات و چینلز پر انکی شخصیت کا بلکہ جسمانی کمزوری کا جو غلط تاثر ابھرتا ہے‘ حقیقت میں وہ اسکے برعکس ہیں دراز قد چاق و چوبند اور چست و فعال اور لیڈر و راہ نما لگتے ہیں‘ انکی حب الوطنی پر غیر ملکی امداد کے حصول کا جو الزام جماعت اسلامی پر لگتا ہے اسکے باوجود بھی میرا حسن ظن ذرا بھی نہیں دھندلایا مگر جب کل جماعت اسلامی کے لیڈر قمر الزمان کو بنگلہ دیش میں بھارت کی اطاعت‘ احکام و فرماں برداری کی انتہا کرتے ہوئے پھانسی دے دی گئی ہے۔ تو پھر میرا جماعت اسلامی پر اعتماد مرجھا گیا اور ہمارا دین بقول علی ہجویریؒ یہی کہتا ہے کہ دین کی پابندی کرو اگرچہ لوگ تمہیں ملامت کریں‘ حسینہ واجد نے حدیث رسولؐ کے برعکس مشوروں پر عمل کرکے یہ فرمان فراموش کر دیا ’’جس نے جان بوجھ کر باطل کی تائید میں جھگڑا کیا اس نے ہمیشہ کیلئے خدا کی ناراضگی مول لے لی‘‘ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے محب وطن اور سچے مسلمان لیڈروں کو پھانسی دینے کا نہ ختم ہونے والا جو سلسلہ شروع کیا ہے۔ میرا اضطراب‘ تشویش‘ فکر‘ اندیشے‘ غم والم میں ڈھلنے لگے ہیں‘ اس ضمن میں میں نے جماعت اسلامی کے فاروق چوہان کو فون کیا اور ان سے اب تک تختہ دار پر لٹکا دیئے جانیوالے شہید جنہوں نے کلمہ طیبہ کے نام پہ اپنی جان قربان کرکے اور تب و تاب جاودانہ حاصل کرکے اپنا آجکل کی تحریک اسلامی کو روشن کرنے کیلئے امر کر دیا‘ اس سے قبل عبدالقادر جیسے مجاہد اور بڑے لیڈر کو بھی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تختہ دار پر لٹکا دیا تھا‘ انکی تفصیل مانگی‘ موصوف نے خوش خلقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے جماعت کے ایک شخص کا نام اور نمبر دیا جنہوں نے شہدائے بنگلہ دیش پر کتاب لکھی ہے‘ میری گزارش محض اتنی تھی کہ میں شہدا کے ناموں کی تعداد جاننا چاہتا تھا‘ میری درخواست پر مصنف نے مجھے یہ پیشکش کی کہ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ کل دوپہر تک مطلوبہ کتاب آپکے گھر پہنچا دی جائے مگر افسوس کہ یاددہانی کے باوجود انفرادی مجرمانہ غلطی کی وجہ سے میرا کالم چھ ماہ کی تاخیر کے بعد لکھا گیا ہے۔
اب قمر الزمان کی شہادت پر بھی چودھری نثار نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں 45 سال بعد جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی پھانسی پر پاکستانیت خون کے آنسو روتی ہے‘ حیرت ہے کہ واجپائی کے دورہ لاہور میں قرارداد پاکستان کے حق میں تقریر اور مسئلہ کشمیر کے حل پر پیشرفت پر جماعت اسلامی سراپا احتجاج بن گئی اور کشت و خون پر اتر آئی تھی مگر اب قمر الزمان کے عدالتی قتل پر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ٹرائل عالمی معیار کے مطابق شفاف نہیں تھا‘ آخری منٹ تک بھی یورپی یونین انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ پھانسی رکوانے کی کوششیں کرتی رہیں‘ قمر الزمان نے صدر سے رحم کی اپیل کی تجویز مولانا مودودی کی طرح مسترد کر دی۔جماعت اسلامی کی یہ مجرمانہ خاموشی محبان پاکستان کیلئے باعث آزار ہے۔ مولانا سراج الحق کو حسینہ واجد کے عذاب کو مذاق سمجھنے کی بجائے سراپا احتجاج بن جانا چاہئے تھا‘ عالمی عدالت انصاف‘ اقوام متحدہ اور عالمی برادری اور خصوصاً مسلم ممالک کے دورے کرکے انہیں اصل حقائق بتا کر ان کی چشم کشائی کرکے کچھ اشک شوئی کی سبیل کرنی چاہئے تھی‘ دورہ کراچی تو مولانا سراج کے اپنے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ امت مسلمہ کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے فرض سے کوتاہی کے مذاق کو روز محشر اللہ اور اسکا رسولؐ کیسے معاف فرمائیگا‘ شاید یہی وجہ کہ عمران خان نے کہا تھا کہ میں مولانا سراج الحق کو ابھی تک سمجھ نہیں سکا‘ شہدائے پاکستان کا خون رنگ ضرور لائے گا مگر اس خون اور قتل اور ظالم و مظلوم کی مدد نہ کرکے سنت رسول سے روگردانی کرنیوالے لوگوں سے نادانی کی توقع ہم جیسے وطن کا درد رکھنے والے قلمکاروں کو قطعی نہیں تھی‘ کاش امت کا درد رکھنے والے اور بنگلہ دیشی بہاریوں کے حق میں جہاد کرنیوالے مجید نظامی کی عمر وفا کرتی تو وہ وطن کی محبت پہ ایمان رکھنے والے شہیدوں کے حق میں پاکستانیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہوتے کیونکہ
تیغ و تفنگ دست مسلمان میں ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر