متفقہ قرارداد کی وضاحتیں

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
 متفقہ قرارداد کی وضاحتیں

ہمارے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ یمن میں منصور ہادی حکومت کی بحالی چاہتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ سعودی عرب ایسا چاہتاہے۔ اب سعودی عرب کی چاہت حکمرانوں کی حد تک سوائے ایران عمان اور شام کے پوری مسلم امہ کی چاہت ہوگئی ہے۔ میاں صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ حوثیوں نے قانونی حکومت کو ختم کر کے بدامنی کی بنیاد رکھی۔جنرل مشرف نے میاں نواز شریف کی یمن سے بھی زیادہ قانونی حکومت توڑی۔ اس پر کتنے ممالک نے ایسا ردعمل دیا جیسا آج میاں نواز شریف دے رہے ہیں؟
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میںچودھری اعتزاز احسن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر کے بعد اس تضاد کی نشاندہی کی کہ ایک طرف سعودی عرب کی فوجی امداد کیلئے اجلاس بلایاگیاہے دوسری طرف آپ کہتے ہیں ہماری توکسی نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مدد نہیں کی۔ خواجہ آصف کا بیان اُس وقت جن کی سمجھ نہیں آیا تھا اب میاں نواز شریف کی پریس کانفرنس کے دوران بیان سے سمجھ میں آگیا ہوگا۔میاں صاحب نے بھی اپریشن ضربِ عضب کا ذکر کیااور فوج کی شہادتوں کا شمار کرایا۔امارات کے وزیر کا شدید ردعمل اور خود سعودی مذہبی امور کے وزیر پاکستان آئے تو میاں نواز شریف وضاحتیں پیش کرنے لگے ۔ میڈیا سے خصوصی گفتگو میںکہا ’’پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد حکومت کی پالیسی کے عین مطابق ہے تاہم میڈیا میں قرار داد کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ہم نے خلیج تعاون کونسل پر واضح کر دیا کہ قرار داد پر عدم اطمینان غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ہمارے خلیجی اتحادی شاید پارلیمان کی قرار داد کو سمجھ نہیں سکے۔ہمارا موقف واضح ہے سعودی عرب پاکستان کا اہم اسٹریٹیجک پارٹنر ہے اور پاکستان مشکل وقت میں اپنے دوستوں اور اسٹریٹیجک پارٹنرز کو تنہا نہیں چھوڑے گا ۔ قرار داد میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو کسی بھی قسم کا خطرہ ہوا تو پاکستان کا ردعمل سخت ہو گا۔‘‘
سعودی عرب نے یمن میں لڑنے کیلئے فوج مانگی۔ مشترکہ اجلاس میں پارلیمنٹ نے غیر جانبدار رہنے کی تجویز دی۔ قرارداد میں کوئی ابہام نہیں۔اس سے کوئی غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے اور نہ کوئی اس حوالے سے کسی کو گمراہ کر سکتا ہے۔اس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے مطالبے پر معروضی حالات میں جبکہ سعودیہ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں‘فوج نہیں بھیج رہا۔ سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں نے اس کا صحیح مفہوم سمجھا اور اسی کے مطابق سعودی عرب اور اتحادی ممالک میں ہلچل مچ گئی۔ امارات کے نائب وزیر خارجہ تومشتعل ہوگئے۔ڈاکٹر محمدقرقاش نے کہا کہ پاکستان کو یمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یہ بات کسی باجگزار ریاست کیلئے کہی جا سکتی ہے۔ پاکستان آزاد اور خود مختار ملک ہے تاہم حکمرانوں کی ذہنیت غلامانہ ضرورہے لیکن وہ بڑے فیصلوں میں من مانی نہیں کرسکتے۔فوج راضی ہوتی تو معاملہ پارلیمنٹ میں نہ جاتااور پھر حکومت کی بھی وہی خواہش ہوگئی جو فوج کی تھی۔قرقاش کی دھمکی کا وزارت خارجہ کی طرف سے جواب نہ آیا تو چودھری نثار نے ذاتی حیثیت اماراتی وزیر کی دھمکی کو قوم کی توہین اور ناقابل قبول کہہ کر فرضِ کفایہ ادا کردیا۔پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کے بعد عرب دنیا ہل کر رہ گئی۔فوری طور پر سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور الشیخ ڈاکٹر صالح عبداللہ بن عبدالعزیز پانچ رکنی وفد کے ساتھ ہنگامی دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اماراتی وزیر کا بیان شکایت ہے اور شکایت اپنوں سے کی جاتی ہے۔ اس بیان سے پتا چلتا ہے قرقاش کا بٹن کس نے دبایا تھا۔سعودی عرب یمن میں لڑنے کیلئے فوج مانگ رہا ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں ہم دل و جان سے سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کے ساتھ ہیں۔ دل تمہارے ساتھ ہیں تلواریں نہیں کیونکہ ہم خود ایک خوفناک جنگ لڑ رہے ہیں۔سعودی عرب کی خاطر یمن میں پاک فوج بھجوانے کیلئے سیاسی سطح پردُہرے معیارات کا اظہارنظر آتاہے۔ حکومت یمن فوج بھجوانے کی بظاہر تیاری کر رہی تھی۔ اسکی جن لوگوں کی طرف سے مخالفت کی گئی ان میں حضرت مولانا فضل الرحمن بھی شامل تھے جو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرنے والوں میں وہ ہراول دستہ تھے۔ اب کہتے ہیں یمن کے معاملے پر پارلیمنٹ کی قرارداد پر حیرت ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے پہلے کہا تھا ’ یمن میں طاقت کے استعمال سے اسلام مخالف قوتوں کو فائدہ پہنچے گا‘ اب کہہ رہے ہیں ’ جوائنٹ سیشن کا تھیٹر لگا کر برادر اسلامی ملک کو ناراض کیا گیا‘۔ سعودی عرب کے حامی حلقے حکومت کو یمن جنگ میں فوج بھجوانے پرپریشرائزکر رہے ہیں۔ اگر سعودی عرب کے سامنے دشمن اسرائیل ہو تو اہل ایمان کے قافلے شوقِ شہادت سے سرشار ہو کر نکلیں گے۔ حضرت مولانا فضل الرحمن‘ مفتی نعیم‘ ساجد میر‘ حافظ محمد سعید،امین الحسنات اور دیگر وہ علماء کرام اور مذہبی رہنما جو یمن جنگ میں پاک فوج نہ بھجوانے پربظاہر ناراض دکھائی دیتے ہیں وہ بتائیں کہ کیا خود یمن میں لڑنے کیلئے تیار ہیں۔ 1973ء کی اسرائیل کے ساتھ جنگ میں پاک فضائیہ کے 16 پائلٹوں نے رضاکارانہ طور پر شام اور مصرکی طرف سے لڑنے کی پیشکش کی۔اس سے وزیراعظم بھٹوکو آگاہ کیا گیا تو انکی اجازت سے یہ پائلٹ وہاں جاکر لڑے۔ (اس موضوع پر پھر کبھی سہی) آج دیکھنا یہ ہے کہ پاک فضائیہ کے کتنے پائلٹوں نے یمن میں لڑنے کیلئے خود کو پیش کیا ہے؟شاید ایک نے بھی نہیں۔ قوم کے جذبات جاننے کا یہی بیرو میٹرہے۔ اگر یہی صورتحال اسرائیل کیخلاف جنگ کی صورت میں سامنے ہو توقوم کے جذبات یقینا وہ نہیں ہونگے جو جنگ یمن کے حوالے سے ہیں۔پاکستان میں کچھ لوگ شاید حوثیوں کو شیعہ سمجھ کرجذباتی ہورہے ہوں۔ ان کو یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ یمن کے شیعہ صحابہ کرام کی حرمت کے قائل ہیں ان کو تفضیلی کہا جاتا ہے۔
حوثی باغیوں کی تعداد 60 ہزار جبکہ سعودی عرب اور اسکے اتحادی ممالک کی فوج کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ بھی جدید ترین اسلحہ سے لیس۔ گویا پندرہ سولہ فوجیوں کے حصے میں ایک باغی آتا ہے۔ شاید وہ چاہتے ہیں کہ شہادتوں کی سعادت صرف پاکستانیوں ہی کے حصے میں آئے۔