قرآنی دستور سے نئی صبح کا آغاز ہو گا

کالم نگار  |  تنویر ظہور
قرآنی دستور سے نئی صبح کا آغاز ہو گا

گزشتہ دنوں یوم دستور منایا گیا۔ اس روز سپریم کورٹ کی طرف سے بیان چھپا کہ ملک میں ابھی تک استعمار کی کالونی ہے۔ آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ معاشرے میں طبقاتی و لسانی تفریق پیدا ہو رہی ہے، آئین کا مکمل اطلاق نہیں ہوا۔میں سمجھتا ہوں کہ جو نظام عدم مساوات پر ہو اور جہاں جبر و استبداد کا عمل دخل ہو، وہ نظام غلط ہے۔ ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ فساد، خوف، حزن، ان پڑھتا، مجبوری محرومی، بھوک اور استحصال سے نجات ملے۔ عاجزی ہی میں برکت ہے۔ تکبر اور غرور انسان کو ذلت اور تاریکی کی طرف لے جاتا ہے جبکہ عجز و انکسار انسان کو رفعتوں کا ضامن بنا دیتا ہے۔
 انسان کی زندگی کا مقصد منفی کام نہیں بلکہ مثبت کام ہونا چاہئے۔ غرور اور جہالت انسان دشمن رجحان پیدا کرتے ہیں۔ بابا فرید گنج شکر کے کلام کا میں مطالعہ کر رہا تھا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ بابا جی نے جو منشور پیش کیا وہ روحانی جمہوریت کا ہے اور اسی طرز عمل کو عام کرنے کی انہوں نے تحریک چلائی۔اس سلسلے میں خواجگان نے عوامی رابطہ کی گراں قدر روایت کا اضافہ کیا۔ ان بزرگوں کے رویوں نے امراء اور سلاطین پر واضح کیا کہ عوامی رابطہ ہی ایک کسوٹی ہے جس سے اچھے یا برے حکمران، اچھے یا برے انسان کی پہچان ہو سکتی ہے۔
ہر دور کے انسان کو اکابرین سے امید ہوتی ہے۔ کوئی حاکم حکمرانی کے شفاف طریقہ کار کے بغیر مقبول نہیں ہو سکتا۔حضور نبی اکرمؐ نے مدینہ منورہ کی مسجد کو کمیونٹی سنٹر بنا دیا تھا۔ تعلیم و تعلم سے لے کر امور حکومت اور جنگ وصلح کے فیصلے مسجد ہی میں ہوتے تھے۔
 اس پس منظر میں ہم سمجھتے ہیں کہ مسجد ایک ایسا مقدس مقام ہے جہاں سے پیغام الہی لوگوں تک پہنچتا ہے اور مسجد وہ جگہ ہے جہاں چھوٹی سطح پر ایک مکمل نظام نافذ ہوتا ہے۔حاکم طبقہ خوف و حزن کا ماحول برقرار رکھ کر خلق خدا کو محکوم رکھتا ہے۔ بابا فریدؒ نے لوگوں کو احتجاج کا حق استعمال کرنے کی تعلیم دے کر ہیئت حاکمہ کی ریاستی پالیسی کی نفی کر دی۔ انہوں نے اس رجحان کی نفی کی کہ درویشوں کو دولت کے ذریعے خریدا جا سکتا ہے۔
آپ نے اشرافیہ کا مرشد بننے کے بجائے اجلافیہ کے درمیان رہتے ہوئے ان جیسی زندگی گزار کر انہی محرومین کا مرشد اور پیر طریقت بننا قبول کیا تاکہ عملی طور پر آپ انسانوں میں طبقاتی تقسیم کی نفی کریں اور ثابت کریں کہ معاشرہ میں زیادہ حق دار محرومین کا طبقہ ہے۔نظریہ وہی ہے جو انسان کے لئے فکری سمت مہیا کرے۔ نظریہ وہ ہے جس سے انسان اجتماعی سطح پر سکون حاصل کریں۔ نظریہ وہ جو معاشرتی عدل کی ضمانت دے، نظریہ وہی قابل قبول ہو گا جو خوف و حزن کو دور کرے۔ اپنی زندگی کے لئے ہر قیمت پر سہولتیں حاصل کرنا چاہئے۔ معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو جائے، لغو طریقہ ہے، یہ انسان دشمن رویہ ہے جو قابل قبول نہیں ہو سکتا۔بابا فرید گنج شکرؒ کا جماعت خانہ ایک ایسا ادارہ تھا جس نے بین الاقوامی سطح پر اہم پیغام بھیجے۔ مختلف بلکہ متضاد ادیان و مسالک اور مختلف تہذیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر امن و سکون اور علمی فضا میں اکٹھا کرکے مکالمہ یعنی ڈائیلاگ کا آغاز کرانا ایسا انقلابی اقدام تھا جو چشتی اکابرین سے پہلے اس خطے پر کسی نے بھی شروع نہیں کیا تھا۔ ان مختلف النوع عناصر کے اجتماعات میں نہ تو جبر کا پہلو تھا نہ سرکاری سرپرستی تھی، نہ کسی قسم کا لالچ یا لوبھ شامل تھا۔ اس ڈائیلاگ کا ایجنڈا انسانی زندگی تھی۔ فکری سطح پر مباحثے ہوتے اور لوگ ایک دوسرے کے اعمال اور نیتوں سے باخبر ہوتے، نئے نئے نظریات اور تصورات سے آگاہی ہوتی اور انسانی صلاحیتوں کی وسعت کا احساس اجاگر ہوتا۔ ذہنی اور فکری تبدیلی کا عمل اس مرکزی جماعت خانے نے شروع کر دیا تھا اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا تھا کہ رواداری، اعلی اخلاق، دوسروں کا نکتہ نظر جاننا، انسان کی تکریم، حریت فکر اور تدبیر منزل جیسی اعلی اقدار کو انسانی زندگی کا عملی حصہ تسلیم کرے اس کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے پینے نے وطن کے مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کے اور قریب کر دیا تھا۔ ان اجتماعات میں شامل ہونے والے یہ بھی جانتے تھے کہ ان اجتماعات کی کامیابی دراصل عوام کی کامیابی ہے کیونکہ سارے کام امداد باہمی کے تحت چل رہے تھے۔ عوام کی آزادی کی بنیاد ایسے رویوں کی مرہون منت ہوتی ہے جماعت خانے کے ادارے نے آفاقی روحانی جمہوریت کے تصور کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بابا جی کا یہ احسان قابل قدر ہے کیونکہ آج ماڈرن دنیا اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ مسائل کا حل ڈائیلاگ میں ہے، جنگ میں نہیں۔
 علامہ اقبالؒ نے بیسویں صدی کی پہلی تہائی میں قائداعظمؒ کو ایک خط میں لکھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان میں مسلمانوں کی فلاکت، غربت، بے سروسامانی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ قائداعظمؒ نے مسلمان مزدوروں اور کسانوں کی بے سروسامانی کو دیکھ کر کہا تھا کہ انہیں ایسا پاکستان نہیں چاہئے جہاں پاگل نظام لوگوں کو مفلوک الحال بنا دے۔
 آج بھی پاکستان کا بنیادی مسئلہ معاشی عدم توازن ہے یعنی آزادی کے ثمرات نچلی سطح پر نہ پہنچتے ہیں اور نہ انہیں پہنچنے دیا گیا ہے۔قرآنی دستور نافذ کرکے ہی عدل و انصاف پر معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو حوصلہ دیا جائے اور ان کا اعتماد نیک اعمال پر بحال کیا جائے۔ توبہ کا تصور بھی یہی ہے کہ جب انسان برے کام چھوڑ کر اچھے کام شروع کرتا ہے تو پھر برائیاں دھل جاتی ہیں اور نئی صبح کا آغاز ہوتا ہے۔ کیا صبح قریب نہیں ہے۔
٭…٭…٭