انتخابات میں منظم دھاندلی اور عدالتی کمیشن کا قیام

کالم نگار  |  ادیب جاودانی
انتخابات میں منظم دھاندلی اور عدالتی کمیشن کا قیام

انتخابات میں منظم دھاندلی تحقیق و تفتیش کیلئے قائم کئے جانے والے تین رکنی ’’عدالتی کمیشن‘‘ نے باضابطہ طور پر اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ جمعرات کو عدالتی کمیشن کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان معاہدے کے بعد صدر مملکت نے عدالتی کمیشن کے قیام کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ صدارتی حکم نامے کی روشنی میں عدالت عظمیٰ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے اپنی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ عدالتی کمیشن کو 45 روز میں اپنی رپورٹ تیار کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ عدالتی کمیشن کی تشکیل کے معاہدے کے بعد ہی تحریک انصاف پارلیمان میں واپس آئی ہے عدالتی کمیشن کو کم از کم اصولی طور پر تمام سیاسی جماعتوں بشمول حکومت نے تسلیم کر لیا ہے کہ انتخابات کے آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ انعقاد پر سوالات موجود ہیں۔ عدالتی کمیشن اس لئے بھی قابل اطمینان ہے کہ ایک بہت اہم سنجیدہ سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے باقاعدہ پیش رفت ہو گئی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فوجی آمریتوں کیخلاف تحریک کے علاوہ انتخابی دھاندلیوں کیخلاف بھی دوبارہ عوامی تحریکیں سامنے آئی ہیں۔ پاکستان میں سب سے بڑی موثر اور نتیجہ خیز تحریک 1977 میں ذوالفقار بھٹو کی حکومت کی دھاندلی کیخلاف چلائی گئی تھی‘ اگر اس وقت حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہوتے تو ملک طویل مارشل لا کی بربادیوں اور تباہیوں سے محفوظ رہتا۔ ماضی کے اسی خدشے کے پیش نظر انتخابات میں دھاندلی کے الزام کی حمایت کرنیوالی کئی سیاسی قوتوں نے ملک کو فوجی آمریت کے گڑھے میں جانے سے بچانے کیلئے سیاسی مفاہمت پر زور دیا۔ عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کسی فریق کی فتح اور شکست نہیں ہے۔ یہ تمام سیاسی اور جمہوری جماعتوں کی ضرورت ہے کہ منصفانہ شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات کے انعقاد کی ضمانت حاصل کی جائے۔ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم تین رکنی جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں طریقہ کار یہ طے پایا ہے کہ اس کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کو کمیشن کے روبرو پیش ہونے کا موقع ملے گا اس لئے عام انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو کمشن میں تجاویز دینے کیلئے مدعو کیا جائیگا اور سیاسی جماعتیں اپنی جانب سے کسی بھی شخص یا وکیل کو پیش ہونے کا اختیار دے سکتی ہیں۔ موصول ہونیوالی شہادتوں پر 16 اپریل کو سماعت ہو گی۔ نجی ٹی وی کیمطابق جوڈیشل کمیشن نے 2013 کے انتخابات میں حصہ لیتے والی تمام جماعتوں سے تجاویز بھی مانگی ہیں اور دھاندلی کے ثبوت بھی مانگے ہیں۔ تحریک انصاف نے جوڈیشل کمیشن کو دھاندلی کے ثبوت فراہم کرنے کیلئے آٹھ رکنی ٹاسک فورس قائم کر دی جس کے کوآرڈینیٹر اسحاق خاکوانی ہوں گے۔ پیپلز پارٹی نے بھی عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن میں ثبوت پیش کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اسکی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے مبینہ دھاندلی کے حوالے سے موجود تمام ثبوت مرتب کر لئے ہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ ملک کی تاریخ میں جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں سب میں دھاندلیوں کے الزامات لگے اور ہماری سیاسی جماعتوں کا وطیرہ بھی یہی رہا ہے کہ حقیقتاً یا پھر عادتاً وہ ہارنے کی صورت میں اپنی شکست خوش دلی سے قبول کرنے کی بجائے اس میں میخ نکالنے کی عادی ہیں۔ اس مرتبہ تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے کئی سال گزرنے کے بعد اسے باقاعدہ ایشو بنا کر دھاندلی کی تحقیقات کرانے کا نہیں بلکہ اسمبلیوں کی تحلیل اور حکومت کی رخصتی کا مطالبہ کیا گیا جو بہرحال عدالتی کمیشن کے قیام پر منتج ہوا اگر یہ اس کمیشن کے سامنے دھاندلی کے شواہد پیش کرنے کا ہر سیاسی جماعت کو موقع بھی دیا گیا ہے اور یہ انکی ذمہ داری بھی بنتی ہے لیکن چونکہ اس محرک کا بہرحال تحریک انصاف ہی ٹھہرتی ہے لہٰذا عدالتی کمیشن کے قیام کے تحریک انصاف پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عام انتخابات میں دھاندلی کے بے شمار الزامات کے ٹھوس ثبوت عدالت کے سامنے پیش کرے۔ ہمارے تئیں عدالتی کمیشن کا قیام اگر حکومت کا امتحان تھا تو اب اس کمیشن کے سامنے ثبوت پیش کرکے اپنے موقف کو ثابت کرنا تحریک انصاف کیلئے اس سے بڑا امتحان ہے۔ کمیشن کی انکوائری کا مخصوص دائرہ کار ہے جس کیمطابق کمیشن اس بات کی انکوائری کریگا کہ آیا انتخابات کا ایمانداری انصاف اور قانون کیمطابق منظم اور غیر جانبدارانہ انعقاد ہوا۔ کیا انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں اور کیا نتائج ووٹرز کی جانب سے مینڈیٹ کی مجموعی بنیادوں پر ہیں یا نہیں؟ کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مختلف تحقیقاتی اداروں کی مدد حاصل کر سکتا ہے جن سے تحقیقات اور ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری لی جائیگی۔ اس کمیشن کے قیام اور دائرہ کار کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس قطع نظر کمیشن کا قیام اور چھ ہفتوں کے دوران جو نتائج سامنے آئینگے اسکے بڑے دوررس نتائج سامنے آئینگے۔ اگر دھاندلی ثابت ہو گئی تو وزیراعظم کو مستعفی ہونا پڑیگا۔ خود مسلم لیگ ن کے ارکان بار بار اس امر کا اعادہ کرتے رہے ہیں کہ اس صورت میں ان کے مینڈیٹ کی وقعت باقی نہیں رہے گی۔ اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی اور نئے انتخابات کرانا پڑینگے اس لئے فریقین کو دھاندلیوں کے حق یا مخالف میں اپنے دعوئوں کی صداقت کو ٹھوس دستاویزات اور مستند شہادتوں کے ذریعے ثابت کرنا ہو گا یہ ایک بڑا چیلنج ہے اس سے نہ صرف 2013 کے انتخابات کی شفافیت پر اعتراضات کا فیصلہ ہو گا بلکہ مستقبل میں ہونیوالے تمام انتخابات کے منصفانہ و غیر جانبدارانہ انعقاد کو یقینی بنانے کی راہ ہموار ہو گی۔ اس لئے جوڈیشل کمیشن کی محرک جماعت تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو چاہئے کہ کمیشن کی کارروائی کے دوران تعاون کا مظاہرہ کرکے معاملے کی تہہ تک پہنچے اور استحکام جمہوریت میں اپنا مثبت قومی کردار ادا کریں۔