"ہمارا ٹیکس کلچر اور سبسڈیز"

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

آج کی دُنیا میں کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں وہاں کے ٹیکس نظام کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ ٹیکس حکومتی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے جس سے ملک کی معاشی ضروریات پوری کرنے میں سب سے زیادہ مدد ملتی ہے۔ ٹیکسوں کی وصولی ایک اہم حکومتی ذمہ داری ہے جس کے لیے ایک موثر اور قابلِ عمل نظام کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بد قسمتی سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں ٹیکسوں کا نظام آج بھی اتنا موثر نہیں جس کی وجہ حکومتی آمدنی کا یہ ایک بڑا ذریعہ مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ اپنی آزادی کے بعد سے لیکر آج تک پاکستان میں بھی ٹیکسوں کی وصولی کا نظام انتہائی ناقص رہا ہے جسکی بدولت ہماری آبادی کا انتہائی کم حصہ ٹیکس دیتا ہے۔ اس خرابی کی سب سے بڑی وجہ حکومتوں کی عدم توجہی اور قوانین پر عمل نہ ہونا ہے۔ ٹیکس چوری ہمارے مزاج اور سوچ کا حصہ بن چکی ہے جو جتنا بڑا ہے اُتنا ہی ٹیکس چوری کرتا ہے۔ سارے کا سارا نظام ٹیکس نہ دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور جو ٹیکس دینا چاہتا ہے اُسکی کوئی پذیرائی نہیں۔ ٹیکسوں کی وصولی کا نظام انتہائی ناقص ہے اور جہاں باقی تمام شعبہ ہائے زندگی ایک ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں ٹیکسوں کی وصولی کا وہی پُرانا اور فرسودہ طریقہ کار رائج ہے۔ معاشرے کے بڑے بڑے لوگوں بشمول اعلیٰ حکومتی عہدیدار ٹیکس نہیں دیتے۔ جسکا جتنا بس چلتا ہے اُتنا ٹیکس چُراتا ہے اور انفرادی سطح پر بھی ہر کوئی اسی سوچ کا مالک ہے۔ ہم حکومت سے ہر سہولت تو مانگتے ہیں مگر محاصل میں اپنا حصہ ڈالنے کو تیار نہیں۔ زندگی کے بہت سے شعبے جن سے منسلک لوگ بے انتہاہ منافع کماتے ہیں ٹیکس کے نظام سے ہی باہر ہیں۔ ٹیکس اکٹھا کرنے والے محکمے کرپشن اور اقربا پروری کی آماجگاہ بن چُکے ہیںاور انکے اہلکار خود لوگوں کو ٹیکس چوری کرنے کے طریقے بتاتے ہیں۔ آمدن  اور اثاثے چھپانا ایک عادت بن چکی ہے۔ سب سے زیادہ ٹیکس سرکاری ملازم دیتے ہیں وہ بھی اس لیے کہ اُنکی تنخواہوں سے ہی کٹوتی ہو جاتی ہے۔ ٹیکس دینے والوں کیلئے مراعات اور حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اس سارے ماحول اور نظام میں ملکی معیشت زبوں حالی اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ اس مایوس کن صورت حال میں رہی سہی کسر حکومت کیطرف سے مختلف علاقوں اور شعبوں کو دی جانے والی سبسڈیز نے نکال دی ہے۔ مختلف حالات کے تناظر میں دی جانے والی سبسڈیز کو اب لوگوں نے اپنا حق سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ ان میں سے زیادہ تر ایک مخصوص مدت اور حالات کے لیے دی جاتی ہیں۔ کچھ نہ کر کے کھانا ایک عادت بنتا جا رہا ہے اور اگر کبھی کسی حکومت نے کسی ایک خاص سبسڈی کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تو اُسے عوام دُشمن اقدام قرار دے کر پوری مزاحمت کیجاتی ہے۔ نتیجتاً حکومت کو ایسے اقدامات واپس لینے پڑتے ہیں۔ سبڈیز سے کبھی غربت اور پسماندگی ختم نہیں ہوتی اور نہ ہی دُنیا کا کوئی ملک ایسی معاشی صورت حال میں مستقل طور پر سبسڈیز کے ساتھ چل سکتا ہے۔ آج بھی ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی،گیس،ٹرانسپورٹ،اشیائے خوردو نوش اور زندگی کی دوسری بنیادی ضروریات کی مد میں اربوں روپے کی سبسڈیز دی جا رہی ہیں اور اب تو انہیں اپنا حق  سمجھ لیا گیا ہے۔ ہر سیاسی جماعت انہیں اپنا نعرہ اور منشور کا حصہ بنا لیتی ہے چاہے  یہ قابلِ عمل نہ بھی ہو۔ ملک کے مختلف حصوں میں کسٹم ڈیوٹی کے بغیر گاڑیاں رکھنے کی بھی اجازت ہے اور بہت سارے علاقے ٹیکس فری زونز ہیں۔ یہ ساری صورت حال معاشی ترقی کے منافی ہے اور معاشیات کے بُنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہر کوئی دوسرے پر تو تنقید کرتا ہے مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کو تیار نہیں۔ ان مشکل حالات کے تناظر میں ہر ایک کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ صرف حکومت اکیلے کچھ نہیں کر سکتی بلکہ ہر پاکستانی کو اپنا حق ادا کرنا ہے۔ ٹیکسوں کے نظام میں فوری اور انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تا کہ اسے حقیقت پسندانہ اور حالات کے مطابق بنایا جائے۔ ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے تا کہ ٹیکس بیس میں اضافہ کیا جا سکے۔ زندگی کے وہ شعبے جو ٹیکس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ مثلاً زراعت اور پیشہ ورانہ فیلڈز جیسے ڈاکٹرز، انجینئرز اور وکلا وغیرہ اُنہیں بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ سبسڈ یز کے سارے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور جس علاقے کے معروضی حالات کیوجہ سے اب بھی ضروری ہے اُن جگہوں اور علاقوں کے علاوہ باقی علاقوں اور شعبوں میں سبسڈیز کو بتدریج ختم کیا جائے۔ حقیقی تبدیلی اور معاشی بہتری کیلئے حکومت کو بھی سخت اور دیرپا فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اور عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے حکومت کے ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔