ہم آپ کی جاگیر ہیں

کالم نگار  |  مسرت قیوم
ہم آپ کی جاگیر ہیں

’’چھاچھروتھر پارکر‘‘ میں 3 سال سے جاری قحط کی صورتحال سنگین ہو گئی۔۔3 ماہ میں 130 سے زائد بچے جاں بحق ۔۔جبکہ دوائوں کی عدم دستیابی باعث’’40‘‘ہسپتال داخل۔۔ہزاروں بچے۔۔ بزرگ ۔  مرد اور عورتیں غذائی کمی سبب بیماریوں کا شکار ہو کر بستر سے لگ چُکے ہیں۔۔اب اگر بھوک۔پیاس اور فرشتہ اجل ’’چولستان‘‘ کا رُخ کر رہا ہے تو ’’میڈیا‘‘ کا ہے کو ’’شاہ‘‘ کی نیند خراب کرنے کے درپے ہو ا ہے۔۔ ’’آقا‘‘ آپ کی بات صحیح ہے کہ صورتحال اتنی گھمبیر نہیں جتنا میڈیا +اپوزیشن اُچھال رہے ہیں۔۔میرے آقا ہم آپ کی ’’جاگیر ہیں اور اس جاگیر میں میں آپ آزاد ہیں‘‘۔۔اس لئے ہم اِس کو تاہی یا مجرمانہ لغزش کو ہرگز دل پر نہیں لیں گے۔۔ ’’17لاکھ‘‘ کی آبادی  میں ’’3 لاکھ‘‘ لوگ متاثر ہوئے۔۔کروڑوں کی آبادی میں 3 لاکھ کی کوئی حیثیت نہیں۔۔ہمیں اِس دعویٰ میں کوئی شبہ نہیں کہ گذشتہ پانچ سالوں میں سندھ میں ترقیاتی کاموں کی مد میں ’’500 ارب‘‘ روپے خڑچ کیے گئے۔۔ہم اِس دعویٰ پر کیوں شک کریں جبکہ اِس کا بڑا ثبوت ہماری موجودہ خوشحالی ہے۔۔ ’’میرے آقا‘‘ ہم اِس رپورٹ کو بھی نہایت گمراہ کُن قرار دیتے ہیں کہ’ ’ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سندھ ‘‘کے مطابق ’’سندھ‘‘ کے 71 فیصد خاندان خوراک کے عدم تخفظ کا شکار ہیں۔۔ایک ایسے صوبے میں قحط سے اموات یقیناً سازش ہیں۔۔جس کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد فاضل گندم برآمد بھی کر سکتا ہے۔۔بھوک ۔اموات کا مسکن بنا 20ہزار کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ’’تھر ‘‘ اگر قحط کا شکار ہوا ہے تو یہ کونسی انوکھی یا پریشانی والی بات ہے جو یوں ’’میڈیا‘‘ چیخ رہا ہے۔۔یہ علاقے ’’ہمارے  آقائوں کی آمدورفت کے لیے موزوں ۔اچھی سڑکیں نہیں رکھتے۔۔ٹوٹے پھوٹے راستے۔بے ہنگم آبادی کا غیر منظم۔۔ غیر متمدن حصہ کیا اس قابل ہے کہ ہمارے ’’قیمتی آقا‘‘ یہاں تشریف لاتے رہیں۔۔اُن کا یہ احسان کیا کم ہے کہ وہ یہاں ہمارے بے وقعت ووٹ لینے آتے ہیں۔۔ وہ ہمیں اپنی جاگیر ما تنے ہیں۔۔ تو ایسے میں ہم ’’اپنے آقائوں‘‘ کے چین میں۔ آرام میں مخمل ہونے والی چھوٹی چھوٹی ہلاکتوں کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟؟
قحط ایک دن میں پڑ گیا یا گھنٹوں میں رونما ہو گیا ۔۔یا پھر اِس کی شروعات سالوں سے ہو چکی تھیں اِس بحث میں ہم کو دلچسپی نہیں ۔۔ ’’میرے آقا‘‘۔۔ہماری بس یہی خواہش ہے کہ اِس بھوک کے سائے کبھی آپ  کی متبرک دیواروں اور مبارک دروازوں پر نہ پہنچیں۔۔’’سروے ‘‘ ڈرا رہے ہیںکہ 2035؁ء میں آبادی ’’40 کروڑ‘‘ ہو جائے گی۔۔ اس کے نتیجہ میں بے روزگاری ۔معاشی ابتری بھی بڑھ جائے گی۔۔ ہم یہ پڑھ کر بھی بالکل پرشان نہیں ہوئے۔۔ کیونکہ ہم اِس واحد نکتے پر متفق ہیں کہ آپ کے ’’محلات‘‘ آباد رہیں۔۔ روشنی سے جگمگاتے رہیں۔۔ ہمارے گھروں میں بڑھتے اندھیرے کبھی آپ کی گزرگاہوں میں نہ پہنچیں۔۔ اب اگر بے ہنگم آبادی کا ایک بڑا بوجھ اُتر گیا تو تب بھی گڈ گورننس سے اس سے بھی بڑا بوجھ اُتر جائے گا اب ’’130‘‘ (بچوں) کے تعلیم ۔۔روزگار کی فراہمی جیسی لازمی ضروت سے ’’ریاست‘‘ تو فارغ ہوئی۔۔میرے آقا ہم آپ کی جاگیر ہیں۔۔
بطور مسلمان ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہر زی نفس نے ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔۔موت کا ایک دن معین ہے جو رات قبر میں ہے وہ ٹل نہیں سکتی۔۔ اس لئے آپ دل پر بوجھ مت ڈالیں اور نہ ہی اس بات پر غم کھائیں کہ ’’60 ہزار بوری گندم‘‘ کیوں گوداموں میں پڑی رہ گئی۔۔ہم پریشان ہیں تو صرف اِس بات پر کہ بے وقوف میڈیا نے ہمارے ’’نا بغہ روزگار آقائوں‘‘ کی نیند۔۔ رنگ جماتے میلوں اور دھمال ڈالتے ثقافتی پروگرامز میں کچھ لمحوںکے لیے تھوڑا سا بھی خلل کیوں ڈالا؟؟ ہم بے حد خوش ہیں کہ بھوک ۔۔پیاس اور موت کے پھریرے لہراتے علاقے میں آپ کی تواضح بریانی۔کوفتوں اور تکے کباب سے لی گئی۔ میرے آقا فکر نہ کریں۔۔غمگین  مت ہوں یہ کیڑے مکوڑے تھے۔۔ اُنھوں نے کسی کا تو پیٹ بھرنا تھا سو ’’بھوک‘‘ نے اُن کو کھا لیا۔۔ اِس دُنیا نے جینا اجیرن کر رکھا تھا۔۔اِس قحط نے مزید تلخی  حالات سے بچا لیا۔۔مشکلات سے نجات دلا دی۔۔ شور شرابہ ۔۔الزامات سب جھوٹ ہے۔۔لغو ہے۔۔سیاست بازی ہے۔۔ سازشیں ہیں ہم آپ سے راضی ہیں۔۔خوش ہیں اور ملتمس ہیں کہ ہم کو اپنی ’’جاگیر‘‘ سے کبھی بے دخل مت کیجئے گا۔۔ ورنہ ہم بے موت مر جائینگے۔۔کوئی بھی تباہی اور بربادی ہمیں ذہنی یا جسمانی آزار نہیں دیتی سوائے اِس کے آپ ہم سے کہیں نا خوش ہو جائیں۔۔ ہماری زندگیاں توہین۔تذلیل اور تحقیر نامی صفات سے خالی ہیں اگر کوئی نقش ہے تو صرف یہ کہ میرے آقا ’’ہم  آپ کی جاگیر ہیں  اور اِس جاگیر میں آپ آزاد ہیں‘‘۔