کیا غریب اپنی حالت کا خود ذمہ دار ہے؟

کالم نگار  |  محمود فریدی
کیا غریب اپنی حالت کا خود ذمہ دار ہے؟

کالم کی مثال کمان کی ہے جہاں نکلنے والا تیر کسی نہ کسی مسئلے کو بناتا ہے یوں کالم پر کالم لکھنا تیر پر تیر داغنے کے مترادف ہے مگر کیا کیجئے جب تیر ہی غلط سمت میں جا رہا ہو! انہی صفحات میں گزشتہ روز محترمہ مسرت قیوم کا کالم بعنوان ’’غریب اپنی حالت کا خود ذمہ دار ہے‘‘ پڑھ کر یوں لگا جیسے تیر غلط سمت میں پھینک دیا گیا محترمہ کے قلم کا سٹار پوائنٹ موبائل بہ کف چوکیدار بنا جسے گھریلو نوکرانی کے گھر میں دبکے ہڈحراموں کی فلم بینی نے بھڑکا دیا یوں یہ تیر غریبوں کے عمومی انفرادی و اجتماعی رویوں پر برس گیا۔ اس طنز و تنقید سے کسی غریب کو احساس زیاں میں تو شاید ہی مبتلا کیا ہو البتہ اخبار بینی کی دسترس رکھنے والے طبقہ اشرافیہ کو ضرور خوش کیا ہو گا جسے عام طور پر معاشرے کی ساری خرابیوں اور کوتاہیوں کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے ۔
یہ بہت کڑوا اور بنیادی سوال ہے۔ جب پاکستان بنا تو طبقہ امراء انتہائی محدود اور گنا چنا تھا سب غریب ہی تھے۔ منشی، پٹواری، کلرک، بابو، کاریگر، مزدور، گھر کے چوکیدار کا تصور نیا نیا ہے آبائو اجداد خود ہی چوکیدار، خاکروب اور وزن بردار ہوا کرتے تھے۔ پدرم سلطان بود کا سفید جھوٹ مروج ہوئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں رہی موبائل فون کی کثرت کی بات تو حضور! یہ ایجاد (معہ دیگر ایجادوں کے) غریبوں کے ہاتھوں میں تو کم گند گھولتی ہے زیادہ تر امراء میں نت نئے اداروں اور مہنگے ڈیزائنوں کے ذریعہ Chating ڈیٹنگ اور سلیمانی ٹوپی کے سے کرتب دکھاتی ہے۔ موبائل تو چلتا پھرتا پرائمری سکول اور یونیورسٹی ہے۔ گنتی، حروف الجد اور ابتدائی تعلیم بالغاں و نسواں کے سارے ڈھنگ اسی کے ذریعے ان پڑھ عوام کو ازبر ہو گئے ہیں۔ غریب کی فلم بینی کو حکومت سے پہلے آپ امراء کی انٹرٹینمنٹ کے انداز و اطوار پر نگاہ ڈال لیں وی سی آر تو متروک ہوا لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، اور مہنگے موبائلوں کے کونوں کھدروں میں کیا کچھ چھپا ہے الاماں و الحفیظ آپ کی نظر صرف شہری غریب کا نقشہ ہے جو دن میں زیادہ تر امراء کی خدمت اور صحبت میں رہتا ہے اور سستی، حسد، رشک، تعلیم اور دیگر منفی و مثبت رجحانات کی تربیت وہی سے حاصل کرتا ہے۔ صاف سادہ غربت کی نمائندہ اکثریت تو کارخانوں میں متمکن ہے جو سر جھکائے محنت کئے چلی جا رہی ہے اور ہماری امارت اور شان و شوکت کا بوجھ اپنی گردن پر لادے ہوئے ہے۔
ہمارا غریب تو پائوں چومنے کے لائق ہے۔ دوپہر کی کڑی دھوپ، اترامت اور بے خبری کی آدھی رات اور علی الصبح کوئی مانیٹر تعاقب میں نہیں ہوتا۔ مگر یہ فرشتے ڈیوٹی دیتے انہی مردو زن کی محنت کشوں کے دم سے پاک سر زمین شاد باد ہے اور پے در پے سونا چاندی مل رہی ہے اور وطن عزیز تمام تر خرابیوں کے باوجود اشیائے ناگوں اور اجناس ہر رنگ میں خود کفیل ہے۔ ملک کی غربت کا ایک سبب وہ درآمدی بل بھی ہے جو سراسر امیر طبقہ اور اشرافیہ کے چونچلوں کا عکاسی ہے وگرنہ غریب کا بیٹا تو بیرون ملک سے بھی کثیر زر مبادلہ ڈھوئے چلا جا رہا ہے امیروں کی اولاد بغرض محال اگر باہر جاتی ہے تو اعلیٰ تعلیم کے بعد پردیس میں ہی رہ جاتی ہے یا پھر سیر سپاٹے کے بعد الیکشنوں کے ذریعہ بالائی اتارنے چلی آتی ہے۔ تو صرف غریبوں کے دم سے تمام ملکی اداروں بشمول فوج اور سارے پھل پھول پات غریب کی بیل سے جڑے ہیں اور اس بیل کی جڑ وطن عزیز کے چپے چپے میں دبی ہے۔غریب کے ووٹ بیچنے کی بات وہ استہزا ہے جسے اشرافیہ نے بطور فیشنی طعنہ رائج کر رکھا ہے کہ جب بھی غریب کے مفاد کی بات ہو تو اسے اختیار بیچنے یا ہاتھ کٹوانے کا طعنہ دے کر منہ ٹھپ دیا جائے۔ اول تو انتخابی نتیجے کو جمہوریت میں صرف عارضی فیصلے کی حیثیت حاصل ہوتی ہے جمہوریت میں الیکشن کے بعد وقفے وقفے سے عوامی رائے کی پیمائش اور ہر ہر حکومتی فیصلے پر عوامی رد عمل کو جانچنے کا طریق کار مسلم ہے۔ پھر بھی رائے بحث سوال یہ اٹھتا ہے کہ ابتدا میں آزادی کے وقت سب غریب تھے تو خرابی زمینوں کی تقسیم کیسے ہوئی؟ وسائل پیداوار کی الاٹمنٹ ، لائسنسوں کا اجرائ، اجارہ داریوں کی تشکیل، اور جائیدادوں کی بندر بانٹ کس کس نے کیسے کی؟ سب غریب تھے زیر و لائن پر کھڑے تھے اول اول ووٹ کس نے بیچا؟جناب گستاخی! انصاف کیجئے یہ لعنت بھی نو زائیدہ اشرافیہ کے اس حصے نے رائج کی جس کی لاٹری لگی اور پیسہ یا اختیار حکومت ہاتھ لگا۔ غریبوں کی اولاد پڑھی لکھی، افسر شاہی، طبقہ نو دولتیہ، جاہل، کاروباری طبقے، موقع پرست سیاست دان اور کوتاہ اندیش جاگیردار کے گٹھ جوڑنے عوام کی وہ بھس بھری ٹرافی اور تابوت تیار کیا جسے سرمایہ دارانہ نظام کے دفاع میں ہونے والی علمی بحث کی چاندماری کے لئے لیا جاتا ہے آج غریب پر طعن و تشنیع اور طنز و تنقید کا تیر پھینکنے سے قبل یہ ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ چند سال قبل ہم اور ہمارے آبائو اجداد سب غریب ہی تھے۔