کوئی دستِ قضا کو روکے

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
 کوئی دستِ قضا کو روکے

 زندگی کی رونق اور جینے کی تمنا اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب گردوپیش میں ایسے احباب میسر ہوں جن کی دل کی دھڑکنوں میں ساز محبت نشہ آوری کے ساتھ بجنے اور بدن کا قالب بھی دوست کی تمنا میں مصروف ذکر آئے اور یہ حقیقت ہے کہ محبت کی ایسی چاشنی سے ہر شخص زندگی کے کسی بھی مرحلے میں آشنا ضرور ہوتا ہے اور ہر پل دوستوں کی مجلس کی نذر ہوتا ہے۔
 ایسا ہی ایک خوشگوار تجربہ راقم کی زندگی کا ہے، جب بھرے شہاب میں لاء کالج پنجاب یونیورسٹی میں جہاں دیدہ، محبت رسیدہ اور اخلاص کے پیکر دوستوں کا ساتھ ہوتا تھا اور سب کی زندگی مواخات و اشتراک کی تسبیح میں پروئی ہوئی نظر آتی تھی۔ زندگی ایک حسین تحرک کا نام تھا۔خیالات اپنے اپنے ،جذبات میں سانجھا اور درد میں شرکت تھی مسلک و جماعت کے دائرے اپنی جگہ برقرار لیکن کوئی دائرہ شکل حریفانہ میں نظر نہ آتا تھا۔
 اقبال جاڑا  خیال جدید کا نمائندہ، اختلافِ رائے و طرز حیات میں ایک ہیجان بڑے مقاصد کی تکمیل کیلئے کشتیٔ دوستاں کا زور آور چپو تھا۔ عرصہ ہوا وہ جواں مرگ اب بھی یاد آتا ہے اور رلا کے چلا جاتا ہے۔سلمان کھوکھر اپنی دنیا کا ایک مرد غیور تھا۔ دوستوں پر جان چھڑکتا تو یوں محسوس ہوتا کہ اس نے سب کی لڑائیوں کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔
عبدالمتین چوہدری پنجاب بار کے ممبر رہے اور اب گھریلو جھنجھٹوں میں الجھے معاش و معاشرت میں ایک رفیع المقام نام ہیں۔ ایک اور بڑا باہمت اور ذہین مگر جذباتی دوست شاہین نیازی تھا وہ بھی اس بساط دوستی کا اہم ترین ہی مہرہ تھا۔اب انکم ٹیکس میں زندگی کو ٹیکس زدہ کئے ہوئے مولانا احمد علی قصوری، ذات کے مولوی، صفات کے قابل رشک، کھلے دل اور وسیع افکار کے مالک، خود داری اس درجہ کہ ہر بلند کردار  ان پر رشک کرے۔ایک اور دوست گوجرانوالہ سے میاں عارف صاحب تھے۔ مولویوں سے قدیم یاد اللہ لیکن انجمن دوستاں میںبریشم کی طرح نرم اور دل کے گداز احوال لئے سیاست دوران میں رک رک کے قدم رکھتے تھے لیکن پھر پائوں جما کر ڈٹ جاتے تھے۔ ذوق تصوف غالب تھا، نشہ سیاست میں بھی مخمور تھے اسلئے جس پیر سے دست گرفتہ ہوئے وہ بھی وراثتی سیاست کار تھے۔ مولانا عبیداللہ انور سے سلسلہ قادریہ راشدیہ میں بیعت تھے۔اس لئے جمعیت علماء اسلام سے ان کی فکری و روحانی رشتے داری بہت مستحکم تھی۔
 راقم کو مولانا عبدالستار خان نیازی کی قربت اور صاحب طرز مفکر عالم عملاً درویش مولانا شاہ احمد نورانی سے نیاز مندی حاصل تھی اسلئے میاں عارف اور فقیر کا سلسلہ ذوق روحانی اور سیاست مختلف تھا۔ میا ں عارف اس ذو ق کو کبھی بھی بیگانگی کے خانے میں نہیں رکھتے تھے۔ایک مرتبہ مرحوم جمعیت علماء پاکستان کے کچھ قائدین( ظہور الحسن صوبائی، احمد یوسف اور عثمان کینڈی) لاہور جماعتی دورے پر آئے تو ہم ان کو پنجاب یونیورسٹی میں استقبالیہ دیناچاہتے تھے لیکن پنجاب یونیورسٹی کی ایک نیم سیاسی نیم مذہبی طلبہ تنظیم نے بہت کی عصبیت کا مظاہرہ کیا اور تقریب کے انعقاد کو مرنے جینے کا مسئلہ بنالیا،میاں عارف کو معلوم ہوا تو غصے سے بپھرے اور بولے کہ یار غازی یہ یونیورسٹی کسی کے ابا کی جاگیر ہے کہ کسی مہمان کا اکرام بھی ان خدائی جاگیرداروں سے پوچھ کرکریں۔ اصغر نے پوچھا کہ پھر کیا کریں؟ جواب دیا کہ لاہور ہاسٹل( خالد بن ولید ہال) کے کامن روم میں مہمانوں کو استقبالیہ دیں گے اور پھر میاں صاحب نے یہ سب کچھ کرکے دکھایا، چالیس سال پہلے کی یادیں دل کو ایک کروٹ چین نہیں لینے دے رہی ہیں کیونکہ اب میاں صاحب ہم میں نہیں رہے۔اب وہ عالم برزخ کے باسی ہیں میاں صاحب نے کوراہ بقاء کی جانب قدم بڑھا دئیے۔چند روز شکایات دل پر لاہور کے ایک مقامی ہسپتال میں داخل ہوئے تو احقر  مزاج پرسی کیلئے ہسپتال میں ممتاز صحافی مجیب الرحمن شامی کے ساتھ تھے۔محمد عارف میاں بہت ہی متفکر مگر حوصلہ بردار تھے اور ملک کی موجودہ صورتحال پر بہت محتاط مگر پریشان کن تبصرہ کررہے تھے۔میاں صاحب مولانا سمیع الحق گروپ کے نائب امیر تھے۔اسلئے درون میخانہ کی حکایات خاموش کے بڑے راوی تھے۔اب وہ سب قومی امانتیں عالم برزخ میں محفوظ کئے عالم استراحت کے مزوں میں محو ہیں۔
 اس گزشتہ ہفتہ کو ہفتہ مرگ کہوں تو بے جانہ ہوگا۔ ہمارے ایک دیرینہ دوست چوہدری ظفر علی نے بھی اسی ہفتے داعی اجل کو لبیک کہا اور عدلیہ کی تاریخ میں ایک خلا چھوڑ گئے۔چوہدری صاحب ضلعی عدالت میں جج تھے۔سیالکوٹ میں ایک مرتبہ عدلیہ دشمن لوگوں نے بری طرح سے یلغار کی تو پوری عدالت کو یرغمال بنالیا لیکن چوہدری صاحب جبل استقامت بنے اپنے کام میں مشغول رہے اور ان کا دوسرا انسانی رویہ نہایت قابل ذکر ہے کہ وہ اپنے ملازمین سے بھی برادرانہ اور مشفقانہ سلوک روا رکھتے تھے ان کی وفات پر ماتحت ملازمین اپنے آپ کو بے پر کا پرندہ محسوس کرتے ہیں اور دوست کسی گمشدہ شے کی یاد میں سراپا حیرت نظر آتے ہیں۔ اسی ہفتے کا ایک بڑا سانحہ قاری غلام رسول کا انتقال بھی ہے۔ قاری غلام رسول دنیائے اسلام میں صاحب طرز امام المقرئین تھے۔ حجاز لہجے میں پنجاب کے ساندل باری لہجے کو اس طرح سے پیوست کرتے تھے کہ قرآن کی عالمگیر آہنگ دلنواز کا معجزہ دل میں جگہ کرتا تھا اور سر چڑھ کر بولتا تھا کہ…ع
 لائو قرآن کی مثل اگر کوئی ہوتو
 قاری صاحب ایک جہاں دیدہ مبلغ دین بھی تھے قرآن کی تلاوت اور صحیح تلفظ و لہجے کی تلاوت کے فروغ کیلئے انہوں نے یورپی ممالک میں بھی بہت سے مراکز قائم کئے جو ان کی دینی خدماتِ جلیلہ پر ایک روشن شہادت ہیں ، قاری صاحب مرحوم اگرچہ ایک پیشہ ور قاری تھے لیکن انہوں نے اپنے پسینے پر بھی غلبۂ عشق کا غلاف چڑھایا، قرآن پڑھتے تھے تو دلوں کو دہلا دیتے تھے اور جب نعت پڑھتے تھے تو آنکھوں کی دنیا  کو فیضان آشنا کرتے تھے۔…؎
 کوئی دستِ قضا کو روکے
 ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں