وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے نام کھلا خط

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے نام کھلا خط

آپ کی خدمت میں بعد از اسلام و علیکم و دل کی گہرائیوں سے دعائوں کے ساتھ مبارکباد کے پھولوں کا ہدیہ پیش کرتا ہوں کہ آپ نے قوم کے ساتھ کئے ہوئے ایک بظاہر ناممکن وعدے کو عملی جامع پہنا کر قوم کے ہر فرد کے دل میں خوشی اور مسرت معجز کر دی ہے۔ چند ہفتے قبل جب ڈالر کی قیمت کا گراف بڑھتے بڑھتے 114 روپے تک جا پہنچا تھا تو ماہرین مالیات و اقتصادیات گھبراہٹ کا شکار ہونے لگے تھے کہ روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی شرح کہیں پاکستان اکنامک COLLAPSE کا باعث نہ بن جائے۔ لیکن وزیر خزانہ کی حیثیت سے آپ کے پائوں نہ ڈگمگائے۔ آپ نے پراعتماد انداز میں مناسب اقدامات سے اقتصادی بحالی کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے جب ڈالر کی شرح میں روپیہ کی قیمت کو 114 روپے سے کم کرتے کرتے 110 روپے تک لے آئے تو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک تخلیاتی اقتصادی چھلانگ لگاتے ہوئے آپ سے اس خواہش کا اظہار کیا ’’ڈار صاحب کیا آپ موجودہ TREND کو جاری رکھتے ہوئے ڈالر کی شرح 100 روپے تک لا سکتے ہیں؟‘‘ تو آپ نے وزیراعظم کی خواہش کو پورا کرنے کا وعدہ کر لیا۔ جس پر سب ماہرین اقتصادیات حیران بھی تھے اور پریشان بھی کہ آپ یہ معجزہ کیسے کر سکیں گے۔ لیکن آج آپ کی وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ماہرین کی ٹیموں نے عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے ڈالر کی اس شرح کو98 روپے تک کم کر کے سب کو حیران کر دیا ہے تو راقم اسے ایک اقتصادی دھماکہ کرنے کے بعد تو اگرچہ بظاہر پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے لیکن ہمارے ایٹمی اور نیوکلیئر اثاثے اپنے مخصوص زیر زمین تہہ خانوں میں بند پڑے ہیں اور عام بھوکے بیمار بے کس اور بے کار‘ بے گھر شہری کی حالت پر جو امن و امان اور اپنی جان و مال کے تحفظ کیلئے ترستا ہے اور دہشت گردی کا شکار ہو کر اس حالت کو آ پہنچا ہے جس کی آئینہ داری صحرائے تھر کی قحط سالی اور سینکڑوں بچوں کی بے وقت اور بلا جواز اموات سے ہو رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں آپ کی حکومت کا برپا کیا ہوا موجودہ اقتصادی دھماکہ فوری طور پر اربوں روپے کا منافع کما کر نہ صرف بیرون ملک پاکستان کے رونما ہونے والے اقتصادی انقلاب سے پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بن جانے کی طرف پیش قدمی کا معجزہ ہو گا بلکہ تمام ترقیاتی منصوبہ جات میں معجزانہ بحالی اعتماد کا باعث بنے گا۔اس خوشی کے موقع پر جبکہ میں آنے والے اقتصادی ترقیاتی انقلاب کے قدموں کی آہٹ سن رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اور آپ کی وزارت عوام کی بہتری اور فلاح و بہبود کے ایسے منصوبوں کی طرف بھی ترجیحی سطح پر توجہ دینگے۔ جن سے بچوں سے لیکر بوڑھوں تک کی زندگی پر سہولتوں کے دروازے کھل جانے کے امکانات روشن ہوں جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے اور جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے۔ چنانچہ خوشحالی کے امکانات پیدا ہونے پر میری آپ سے استدعا ہے کہ آپ سینئر سٹیزن یعنی بزرگ شہریوں جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ملک اور قوم کی خدمت میں گزار کر اب حکومت اور میڈیا سب کی بے توجگی کا شکار ہیں اور یہ عمر کا وہ حصہ ہے جب خون کے رشتے بھی اپنے والدین کی بجائے اپنی اولاد اور اگلی نسل کیلئے زیادہ توجہ صرف کرتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا 70 سے لیکر 75 اور 80 سال کی عمر کے پاکستانیوں میں ایک طبقہ ایسا ہے جس نے اپنی زندگی بھر کی کمائی کا تمام سرمایہ حکومت کی بنکاری کے اس شعبہ میں جمع کروا رکھا ہے جس کا نام مرکز قومی بچت ہے۔ جیسے انگریزی میں NATIONAL SAVING CENTERS کہتے ہیں اور آپ کی وزارت آپ کو بہتر اعداد و شمار مہیا کر سکتی ہے کہ ان قومی بچت کے مراکز میں ضعیف شہریوں نے کتنے اربوں روپے آپ کو قومی معیشت کی بحالی کیلئے مہیا کر رکھا ہے۔ وہاں یہ ضعیف مرد و زن جب اپنے اخراجات کیلئے اپنی جمع کی گئی پونجی سے گزر اوقات کیلئے کچھ رقم لینے جاتے ہیں تو یوں سمجھ لیجئے جیسے کوئی برصغیر کی تاریخ میں کلکتہ کے شہر میں واقع BLACK HOLE کے تنگ و تاریک جیل خانہ میں داخل ہو رہاہو۔ میرا قلم وہ جگہ جیسے آپ سرکاری طور پر قومی بچت مرکز کا بورڈ لگا کر اربوں روپے سرکاری خزانہ میں وصول کرتے ہیں ان کی حالت زار اتنی شرمناک ہے کہ نہ مناسب سٹاف تعینات ہے۔ نہ آنے والوں کیلئے بیٹھنے کی کوئی موزوں جگہ ہے۔ ایک بڑے کمرہ میں لوگوں کا ہجوم کھڑاہے۔ ہر کائونٹر کے پیچھے لوگوں کی قطار ہاتھ پھیلا کر اپنی اکائونٹ بک یا چیک بک فضا میں بلند کئے کائونٹر کے پیچھے کلرک کی طرف بڑھنے کی کوشش میں سرگردہ ہوتا ہے۔ گرمیوں میں چھت سے لٹکا ہوا بجلی کا خاموش پنکھا لوڈشیڈنگ کے باعث لوگوں کو پسینہ میں شرابور ہونے کا اُداسی کے عالم میں نظارہ کرتا رہتا ہے اور سردیوں میں ایک ٹوٹا پھوٹا بجلی کا ہیٹر لوڈشیڈنگ کا نوحہ پڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ کسی مرکز میں بھی سال کے کسی حصے میں آپ کو پورا سٹاف ڈیوٹی پر نظر نہیں آئے گا۔ چنانچہ ناکافی سٹاف اور کافی سے زیادہ ہجوم کی صورت میں حاجت مند معذور سینئر سٹیزن صبح 9 بجے سے بعد دوپہر 2 بجے تک کسی ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنے کے عمل سے دوچار رہتے ہیں۔ اس لئے گزارش ہے کہ اپنے شہر لاہور جس کے اندر درجنوں کی تعداد میں ایسے قومی بچت مراکز قائم ہیں۔ آپ کسی وقت اندرون شہر یا شمالی لاہور کی ٹریفک بھیڑ بھاڑ سے محفوظ رہ کر لاہور چھائونی کے کشادہ اور ماڈرن حصہ میں کنٹونمنٹ ایگزیکٹو بورڈ جو CMH سے ملحقہ واقع ہے وہاں اپنی وزارت کے قومی بچت کے مرکز میں اس طرف سے گزرتے ہوئے اندر جھانکنے کی زحمت گوارا فرمائیں تو میری اوپر بیان کردہ شرمناک صورتحال آپ پر واضح ہو جائے گی۔ حیران ہوں گے کہ اگر صوبہ کے دار الحکومت میں اور پھر لاہور چھائونی کے اندر جہاں قومی بچت مرکز کی بلڈنگ سٹاف کی کارکردگی اور مرکز میں آنے والے بزرگوں یعنی سینئر سٹیزنز کے ساتھ برتائو اس محکمہ کو خوبصورت چہرہ پیش کرنا چاہئے۔ وہاں معاملہ بالکل الٹا ہے۔ ان مراکز کا انتظام و انصرام کم از کم اوسط درجہ کے بینک میں مہیا کی گئی بلڈنگ سٹاف اور انتظامی سہولتوں کو مہیا کرنا حکومت کا فرض منصبی اور ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا بنیادی تقاضا ہے۔
اگرچہ مندرجہ بالا معروضات راقم نے جناب اسحاق ڈار کی خصوصی توجہ کیلئے اس کھلے خط کے ذریعے میں نے نوائے وقت کے حوالے سے اس لئے پیش کی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ڈار صاحب نوائے وقت کا خصوصی طور پر خود مطالعہ کرتے ہیں۔