معاشی بحالی کیلئے حکومتی اقدامات

کالم نگار  |  ناصر اقبال چودھری
معاشی بحالی کیلئے حکومتی اقدامات

مضبوط معیشت ایک خود مختار خارجہ پالیسی کیلئے اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا میں ترقی کے پہلو کو معاشی پیمانے ہی پرتولا جاتا ہے۔ معیشت کی بنیادیں جتنی پائیدار ہوں گی اتنی ہی ترقی یافتہ قوم ہوتی چلی جائے گی۔ہمارے ملک میں بدقسمتی یہی رہی ہے کہ 1947سے لے کر آج تک نہ تو کوئی  دوررس نتائج کی حامل قومی معاشی پالیسی بنائی گئی اور نہ کسی رہنما نے ملک کو مضبوط بنانے کیلئے کوئی قابل عمل ویژن دیا۔سابقہ حکومت کے بعد معاشی ابتری کی صورتحال یہ تھی کہ پاکستان دیوالیہ ہونے جا رہا تھا۔ لوڈ شیڈنگ کے عذاب نے پورے ملک کی صنعت کو جکڑ رکھا تھا اور رہی سہی کسر دہشت گردی کے عفریت نے نکال دی تھی۔ ایسی حالت میں کسی بھی پارٹی کے لئے حکومت کرنا ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔نواز شریف نے جب تیسری دفعہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو ان کے سامنے تین بنیادی چیلنجز تھے۔1۔معیشت کی بحالی  2۔ خود مختار خارجہ پالیسی کا قیام 3۔ دہشت گردی کا خاتمہ۔…معیشت کی بحالی کیلئے زراعت، انڈسٹری اور سروسز سیکٹر میںاقدامات کی ضرورت تھی۔اور ان تمام کے لئے بجلی کے بحران سے نمٹنا تھا۔ چنانچہ وزیراعظم نے جنگی بنیادوں پر لوڈ شیڈنگ کے بے قابو ہوتے ہوئے جن کوکنٹرول کیااور حکومت سنبھالتے ہی اربوں روپے کا گردشی قرضہ ادا کیا جس سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہو گئی اور انہوں نے ملکی مفاد کیلئے بجلی کی پروڈکشن از سر نو شروع کردی ۔ نیشنل گرڈ میں اضافی بجلی لانے  کیلئے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نندی پور اور چیچو کی ملیاں پراجیکٹس پر کام شروع کروایا اور اسی طرح نیلم جہلم پاور پروجیکٹ اور داسو ڈیم کی قسمت بھی جاگی۔ ان  منصوبوں سے نہ صرف بجلی کی قیمت میں کمی واقع ہوگی بلکہ صنعت کو بھی تقویت ملے گی ۔ وفاقی وزیر برائے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارمز احسن اقبال کے مطابق  22  ہزار میگا واٹ بجلی  5 سے 7 سال کے عرصہ میں انرجی کے مختصرمنصوبوں کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ چائینیز حکومت نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تقریباً 32  بلین روپے ا نرجی و ترقیاتی منصوبوں میں پورے ملک میں لگائیگی۔ مسلم لیگ ن نے سندھ میں صنعتی انقلاب تھر کوئلے کے ذریعے لانے کا عزم کیا ہے جس سے اگلے دو سو سال تک کی بجلی پیدا کی جا سکے گی۔  نواز شریف حکومت  اِس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز جن میں غربت، بیروزگاری، لاقانونیت، دہشت گردی اور صنعتی و معاشی بدحالی شامل ہے جس کااگلے پانچ سالوں میں خاتمہ کر دینگے۔نوجوانوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے وزیراعظم نے نوجوان یوتھ سکیم کا اجراء کیا جس کے تحت کاروبار کے اہل شخص کو آسان شرائط پر قرضہ دیا جانا ہے۔قبل ازیں بہت سی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں مگر عملی اقدامات کے حوالے سے کسی نے کچھ نہ کیااور بھولے بھالے عوام کو وعدوں ہی پر ٹرخادیا گیا۔ تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا کہ جو وعدے کئے گئے عملی اقدامات کے ذریعے سے انہیں پورا کرنے کا آغاز کیا گیا۔معیشت میں مضبوطی کا اندازہ ملکی کرنسی کے استحکام سے ہوتا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کچھ عرصہ قبل اس بات کا اعلان کیا تھاکہ چند ہی روز میں ڈالر کی قیمت واضح طورپر کم ہو جائے گی۔سننے والوں کو پہلے تو یہ خالی دعویٰ ہی لگا مگر حکومتی معاشی ٹیم کے مناسب اقدامات کی بدولت بلندیوں کو چھوتا ہوا ڈالر بھی  99.80روپے تک آن پہنچا۔چند روز قبل سینیٹر انور بیگ نے اسحاق ڈار سے ملاقات میں اس بات کا اظہار کیا کہ اگر اوور سیز پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے تو پاکستان سالانہ 25 ارب ڈالر تک زرمبادلہ کما سکتا ہے ۔ حکومت انتہائی سنجیدگی سے صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ بیرونِ ملک ورک فورس میں اضافہ کیا جاسکے۔ وزیر خزانہ نے یہ بیا ن بھی دیا کہ جلد ہی پاکستان کے رزمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے ۔ ہم جانتے ہیں کہ حکومتی معاشی اصلاحات کی آئی ایم ایف نے بھی تعریف کی ہے اور ان پر اطمینا ن کا اظہار کیا ہے ۔
اب اگر دہشت گردی کی جانب نظر دوڑائیں تو یہ بالخصوص 2001 سے ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے ۔ جب سے ہم امریکہ کی جنگ میں کو دے ہیں دہشت گردوں کے حملے ہمارے معصوم بچوں پرمتواتر ہو رہے ہیں ۔ گلی گلی ہمارا لہو بہہ رہا ہے اور قدم قدم آنسوئوں کا سمندر ہے۔  سینے غم سے نڈھال ہیں اور آنکھیں ہیں کہ کچھ نظر نہیں آتا ۔ ظالموں نے ہماری سمت چھین لی ہے اور ہمیں کمزور کرنے کے در پے ہیں۔ اس صورت حال میں ہمیں ایک دوسرے کا دامن تھام کر چلنا ہوگا۔ دشمن ہمارے اندر نفاق کے بیج بونا چاہتا ہے لیکن ہمیں حالات کی نزدیکیوں کو سمجھنا ہوگا۔ یہاں بغیر کسی مبالغہ کے کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے طالبان کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کی پیش کش کو قبول کرنے پر آمادہ کر کے عوام کی نظر میں اپنا مقام بہتر کر لیا ہے ۔یہ بات بھی باعثِ اطمینان ہے کہ حکومت اور مسلح افواج اِس حکمتِ عملی میںہم آہنگ اور متفق ہیں۔ جب دہشت گردی ہمارے ملک سے ختم ہوئی تو امن و آشتی آئے گی اورجب یہا ں امن اور قانون کا بول بالا ہوگا تو ہر کوئی چین کی بنسری بجائے گا ۔ یہا ں سرمایہ کاری بھی آئے گی اور ٹورازم بھی ڈویلپ ہوگا۔ اسی طرح معاشی استحکام آئے گا۔ جس قوم کے رہنما  دیارِغیر میں بھیک مانگنے جاتے تھے،  وہ دن دور نہیں کہ اس قوم کے بچے کل فخر سے جینا سیکھیں گے ۔ اگر ہمیں برابری کی بنیاد پر جینا ہے تو وقت کی سختی جھیلنا پڑے گی ۔ کڑوی گولی کھاناہوگی کیونکہ اگر آج ہم نے اپنے آپ کو نہ سدھارا تو کل اندھیر نگری ہو گی جو ہمیں منظور نہیں۔