جھوٹی موت!

کالم نگار  |  نازیہ مصطفی
جھوٹی موت!

وہ مشہور برطانوی سیاست دان تھا، 1970ء میں اُس نے اپنی ریگولر آمدن میں اضافے کیلئے کاروبارشروع کیا اور یوں مختلف کاروباری کمپنیاں قائم کرلیں۔ اسی سال کے آخر میں عام انتخابات ہوئے، لیکن اِن انتخابات میںاس کی لیبر پارٹی شکست سے دوچار ہوگئی تواُس کا کاروباربھی نقصان میں جانے لگا، بینکوں کا سود سر پر چڑھ گیا، ٹیکسوں کی ادائیگی ناممکن ہوگئی اور اُس نے کاروبار کیلئے جن لوگوں سے پیسہ لیا تو وہ بھی رقم کی واپسی کیلئے منہ کو آنے لگے۔ ایکسائز اور ٹیکسیشن کا محکمہ مسلسل اس کے پیچھے لگا ہوا تھا، لیکن اکاؤنٹس میں اعدادوشمار کے ہیر پھیر (Creative Accounting)کے ذریعے اُس نے خود کو بچائے رکھا۔1974ء میں عام انتخابات ہوئے تو نہ صرف لیبر پارٹی پھر جیت گئی بلکہ وہ بھی ایک مرتبہ پھر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوگیا، لیکن اپنی حکومت بننے کے باوجود اس کا کاروبار سنبھل نہ سکا۔ اُدھر وزارت صنعت و پیداوارنے اُس پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی، یہی وجہ ہے کہ اُس نے اپنے اکاؤنٹس میں جتنی ’’دو نمبریاں‘‘ کی تھیں، وہ آہستہ آہستہ کرکے طشت از بام ہورہی تھیں۔ سولہ برس کی عمر میں سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھنے والے سیاستدان کے کیریر کا یہ سیاہ ترین دور تھاجب وہ سونے کو ہاتھ لگاتا تووہ مٹی ہوجاتا۔ یوںپریشانی سے دور رکن پارلیمنٹ اِس صورتحال سے نجات کیلئے ہر وقت سوچ بچارمیں لگا رہتا۔ اس نے سگریٹ نوشی اور مئے نوشی میں بھی اضافہ کردیا تھا۔نومبر 1974ء میں وہ امریکہ کی ریاست فلوریڈا چلا گیا اورخود کو پرسکون رکھنے کیلئے اُس کا زیادہ وقت ساحلوں پر گزرنے لگا۔ بیس نومبر کو وہ ہوٹل سے نکلا لیکن واپس نہ آیاتوہوٹل انتظامیہ فکرمند ہوئی اور مقامی پولیس کو اس کی اطلاع کردی۔پولیس نے اُس کی تلاش شروع کی تو’’میامی بیچ‘‘ سے اس کے کپڑے تو مل گئے، لیکن کافی عرصہ تک تلاش کے باوجودبحر اوقیانوس کے پانیوں کے اندر یا باہر اُس کا کوئی سراغ نہ ملا۔چند روز بعد برطانیہ کے اخبارات اس کی موت کی خبروں سے بھرے پڑے تھے، کسی نے اس کی موت کو حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکرخودکشی کا اقدام قرار دیا اور کسی نے لکھا کہ ساحل پر نہاتے ہوئے اسے کوئی شارک نگل گئی تھے، لیکن یہ المناک خبر سن کر یار دوستوں پر تو جیسے بجلی ہی گر گئی تھی۔بحرِ اوقیانوس کے پانیوں کے پیچھے گم ہونے والا یہ برطانیہ کا سابق رکن پارلیمنٹ اوروزیراعظم ولسن کے دور میں لیبر پارٹی کی جانب سے وزیر ٹیکنالوجی اور وزیر ڈاک ومواصلات ’’جون سٹون ہاؤس‘‘ تھا۔ موت تو سب کو آتی ہے، لیکن جن حالات میں جون اسٹون ہاؤس کے مرنے کی خبر میڈیا میں آئی، اسے سن کر جون کو’’اچھی طرح ‘‘جاننے والے بھی ہمدردی جتانے پر مجبور ہوگئے۔
دسمبر 1974ء میں آسٹریلیا کی پولیس کو مخبروں نے ایک ایسے شخص کے بارے میں اطلاع دی جو ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔ یہ شخص ہوٹل کی لابی میں روزانہ لندن کے اخبارات منگواتا اور اُس میں کرائم کی اسٹوریاں بالخصوص بڑی توجہ سے پڑھتا یا پھر ٹی وی اور ریڈیو پر جرائم کی خبریں سنتا رہتا۔ خفیہ پولیس نے اُس کی نگرانی سخت کردی کیونکہ اُن دنوں پولیس کو لندن کے ایک مفرور قاتل کی تلاش تھی جو اپنے دو بچوں کو قتل کرکے غائب ہوگیا تھا۔ آسٹریلوی پولیس کو اس شخص پر اُسی مفرور قاتل کا شبہ ہوا تھا۔ شبہ بڑھا تو پولیس نے اس شخص کو کرسمس کے روز اُٹھاکر جیل میں پھینک دیا اور پھر جیسے اُسے بھول ہی گئی۔ ایک عرصہ گزرنے کے بعد تفتیش میں جب اُس کا نمبر آیا تو دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ گرفتار ہونے والا شخص قاتل نہیں بلکہ برطانیہ کا وہی رکن پارلیمنٹ جون اسٹون ہاؤس تھا،میامی بیچ پر جس کی ’’موت‘‘ واقع ہوگئی تھی۔ تفتیش میں جون اسٹون نے اعتراف کیا کہ اُس نے حالات سے بچنے کیلئے دراصل اپنی موت کا ڈرامہ کیا تھا، آسٹریلیا میں پہنچ کر وہ آہستہ آہستہ اپنی دولت بیرون ملک منتقل کررہا تھالیکن ایک قاتل کے شبہے اور مشکوک حرکات پر وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ جون کو واپس لندن لایا گیا، جہاں اُس کی ’’جھوٹی موت‘‘ پر داخل ِ دفتر ہونے والے تمام مقدمات دوبارہ کھول دیے گئے۔ یہ تو قانون کے سامنے بے بس برطانیہ کے بااثر طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ کی کہانی ہے جس نے اپنی تمام تر خباثتوں کے باوجود اُس صورتحال میں ’’زندہ‘‘ رہنے کی بجائے گمنامی کی زندگی میں چلے جانے کو ترجیح دی اور جھوٹی موت (Fake Death) کو گلے لگانے کی بھرپور کوشش کی کیونکہ جتنی بدنامی وہ کما چکا تھا اور جو الزامات اُس پر لگ چکے تھے، اُن الزامات کے ساتھ وہ برطانوی معاشرے میں گمنامی کی زندگی بھی نہیں گزار سکتا تھا۔ جھوٹی موت کا ڈرامہ رچانے کی دوسری وجہ برطانوی قانون تھا۔ جون کو علم تھا کہ وہ قانون کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکے گا ، حتیٰ کہ جون کی اپنی پارٹی کی حکومت بھی اُسے بچا نہیں پائے گی۔معلومات تک رسائی کے برطانوی قانون کے تحت چند برس پہلے جون اسٹون ہاؤس سے متعلق حقائق سامنے آئے تو اِس نے پورے یورپ میں تہلکہ مچادیا۔ جان اسٹون ہاؤس پر ہزاروں مضامین لکھے گئے، کتابیں بھی تحریر ہوئیں اور اُس پر فلمیں بھی بنائی گئیں۔جون پر دھوکہ دہی، فراڈ،چوری، کرپشن، سازش اورپولیس کی جھوٹی تفتیشی رپورٹ تیار کرنے سمیت اکیس دیگر الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور 1978ء میںجون کو سزا سنادی گئی۔ جون سزا بھگت کر واپس آیا تواپنے اوپر لگے بدنامی کے داغ دھونے اور الزامات کی خجالت مٹانے کیلئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے سماجی کاموں کا ’’مبلغ ‘‘ اور سوشل ورکر بن گیا۔
قارئین کرام!اِس کہانی میں سب سے دلچسپ حقیقت جان کر یقینا آپ ہنس پڑیں گے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ جان اسٹون پرسب سے سنگین الزام (رشوت لینے کی شکل میں )پانچ ہزار ڈالرکی کرپشن کا الزام تھا۔ یہی وہ الزام تھا جس کی تلخی جون اسٹون برداشت نہ کرپارہا تھا اور اپنی جھوٹی موت کا ڈرامہ رچا کر گمنامی میں چلا جانا چاہتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان جہاں اربوں روپے سے کم کی کرپشن کو کرپشن ہی نہیں سمجھا جاتا ، وہاں جون اسٹون پر لگنے والے الزامات مذاق ہی محسوس ہوتے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہاں کرپشن کے الزامات پر شرم بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ایک کرپشن ہی کیا یہاں تو انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے والوں کو بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ اب یہی دیکھیں کہ جن سرکاری اور سیاسی حکام کی غفلت کے سبب تھر میں موت کا رقص جاری ہے،آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ شرم سے ڈوب مریں گے یا انہیں سولی چڑھادیا جائے گا؟ جی نہیں! اِنہوں نے شرم سے ڈوب کر تو کیا مرنا ہے، وہ تو اپنی جھوٹی موت کا ڈرامہ رچا کر گمنامی کی زندگی میں جانا بھی پسند نہیں کریں گے کیونکہ اُن کیلئے مکمل سرپرستی کے ساتھ نئے عہدے، نئی وزارتیں اور نئی شکار گاہیں تیار ہیں۔