اندازِ سیاست؟

کالم نگار  |  سید روح الامین
اندازِ سیاست؟

گزشتہ دنوں کراچی سانحہ صفورا میں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں‘ اس پر قائم علی شاہ صاحب کو مستعفی ہونے کا کہا جا رہا تھا جبکہ زرداری صاحب نے واضح طورپر کہہ دیا تھ کہ قائم علی شاہ صاحب استعفیٰ نہیں دینگے۔ تحریک انصاف کی طرف سے بھی ایسا ہی سننے کو مل رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایسی کوئی روایت ہی نہیں ہے۔ یہاں پر حکمران مسائل حل کرنے نہیں آتے بلکہ اقتدار کے مزے لوٹنے آتے ہیں لہٰذا قائم علی شاہ صاحب کیوں استعفیٰ دیں؟ کے پی کے میں آرمی سکول میں ننھے بچوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ 

کیاپرویز خٹک نے استعفیٰ دیا ہے‘ پنجاب پولیس نے عوامی تحریک کے درجن سے زائد افراد گولیوں سے چھلنی کردیئے۔ کیا خادم اعلیٰ پنجاب مستعفی ہوئے یا ان پولیس والوں کو کوئی سزا ہوئی؟ بلوچستان میں آئے روز ایسی اموات ہوتی ہیں۔ 70 ہزار پاکستانی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ کیا کسی بھی حکمران نے خود کو ان معصوم شہریوں کی اموات کا ذمہ دار ٹھہرایا یا استعفیٰ دینے کا کہا‘ نہیں۔ ہمارے ہاں اقتدار سے چمٹے رہنے کا رواج ہے۔ کروڑوں روپے دیکر ٹکٹیں لیکر جو اقتدار میں کئی جتن کرکے آتے ہیں‘ سب کچھ لٹ جائے‘ ان کی بلا سے۔ انہوں نے تو الیکشن میں لگائے اپنے نہ صرف اخراجات پورے کرنے ہیں بلکہ منافع بھی حاصل کرنا ہے۔ قائم علی شاہ کی جگہ کوئی اور بھی مسند اقتدار پر براجمان ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کام تو شرجیل میمن نے ہی تمام کرنا ہے۔ وہ بھی زرداری صاحب کے اشاروں پر۔ پارٹیوں کے اندر آمرانہ رویہ پایا جاتا ہے۔
قانون صرف غریب اور بے کس افراد کیلئے حرکت میں آتا ہے۔ بڑوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ صولت مرزا نے پوری دنیا کے سامنے اقرار کیا کہ بابر غوری نے ہماری بات الطاف حسین سے کرائی اور الطاف حسین نے کہا کہ فلاں شخص کو مارنا ہے۔ صولت مرزا نے یہ بیان اس وقت دیا جب اسے علم تھاکہ آج یا کل اسے پھانسی ہونی ہے۔ لہٰذا اسے تو پھانسی پر لٹکا دیا گیا مگر الطاف حسین اور بابر غوری کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟ کبھی نہیں ہوگی کیونکہ قانون نے ”مفاہمت“ کی بنا پر ادھر سے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ چند روز قبل سندھ میں بجلی کی تاروں کے نیچے ہونے کی وجہ سے کئی اموات ہوئیں۔ کسی بھی متعلقہ افسر نے استعفیٰ دیا۔ مستعفی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر ”غیرت“ حب الوطنی اور ”فرض شناسی“ نام کی کوئی چیز ہو۔ دہشت گردی میں اموات ہوں یا حادثاتی‘ کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کی اخلاقی جرا¿ت نہیں کرتا۔ بس ”کرسی“ کے ساتھ چمٹا رہنا چاہتا ہے۔ حکومتی اراکین ”مذمتی“ بیانات جاری کر دیتے ہیں۔ کیا یہ ان کی طرف سے کم ”کارنامہ“ ہے۔ اب عرصے سے بجلی ہے ہی نہیں مگر کبھی بھی کسی وزیر نے بجلی کی وزارت قبول کرنے سے معذرت کی ہے یا انکار کیا ہے؟ بھئی اسے ذاتی مفادات عزیز ہیں‘ قوم نہیں۔ اسے گاڑی بھی ملے گی‘ تنخواہ بھی ملے گی‘ دیگر مراعات علیحدہ ہیں۔ (ن) لیگ کے خواجہ آصف اور عابد شیر علی اگر لوڈشیڈنگ کی وزارتیں لینے سے یہ کہہ کر انکار کرتے کہ ہم فضول قومی خزانے پر بوجھ کیوں جھوٹے دلاسے دینے کا جو کام ہم دو وزراءنے کرنا ہے‘ تو واپڈا کے چیئرمین یا کسی ملازم سے بھی لیا جا سکتا ہے۔ بس عوام کو تاریخیں ہی دینی ہیں اور جھوٹے وعدے ہی کرنے ہیں مگر خواجہ آصف اور عابد شیر علی نے پھر بھی وزارتوں کو قبول کیا۔ کیا انہوں نے مل کر بجلی پیدا کرنی تھی؟ مہذب معاشروں میں لوگ حرام تنخواہیں لینا گوارا نہیں کرتے۔ ہماے ہاں سب چلتا ہے۔
پرویز رشید کو تحریک انصاف میں ”پپو“ کی تلاش تھی حالانکہ (ن) لیگ کے اندر بڑے نامی گرمی تین ”پپو“ ہیں۔ ان تینوں کا کوئی کام نہیں سوائے عمران خان پر تنقید کرنے کے۔ ہر لمحہ ہر وقت یہ ”حضرات“ تیار رہتے ہیں۔ (پپو) معاشرے میں اسی کو کہا جاتا ہے جو خود کوئی کام نہ کرے۔ بس دوسروں کے ”دل بہلاتا“ رہے۔ عمران خان زیادہ ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ بے موقع بولتے ہیں۔ اس سے انکی شخصیت کافی مجروح ہوئی ہے۔ انسان کی شخصیت کا راز اسکے خاموش رہنے میں ہوتا ہے۔ بجائے یہ کہ عمران ہر لمحہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے‘ وہ پوری توجہ کے پی کے مسائل حل کرنے پر صرف کرتے۔ یہ ان کی پہلی حکومتی کارکردگی کا ثبوت تھا۔ دھرنوں میں فضول وقت ضائع نہ کرتے۔ عمران خان کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ موجودہ حکومت حل نہیں کر پائے گی۔ 2018ءمیں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے (ن) لیگ‘ پی پی اور تحریک انصاف نئے دعوﺅں اور نئے سہانے وعدوں کے ساتھ جلوہ گر ہونگی۔ اقتصادی راہداری پر اگر ایمانداری سے کام ہوا تو پاکستان کو ترقی کرنے سے کوئی بھی نہیں روک پائے گا۔ مگر جس معاشرے میں اقتدار کے حصول کیلئے لوگ جعلی ڈگریاں لینے سے نہیں شرماتے اور پانچ سال جعلی ڈگری کی بنا پر مالی آسودگیاں سمیٹ لیتے ہیں۔ وہاں ”ایمانداری“ اور ”دیانتداری“ کا ملنا مفقود ہے۔ اقتصادی راہداری کے معاہدات کو نقصان کوئی غیر نہیں پہنچائے گا‘ ہمارے اپنے ہی کرپشن کی نئی راہیں تلاش کریں گے۔ ذوالفقار مرزا کھل کر زرداری صاحب پر دوسروں کے قاتل ہونے کا الزام لگا رہے تھے۔ زاہد سرفراز نے بھی کہا تھا کہ ”زرداری اور رحمن ملک نے دبئی میں بینظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔“ اب زرداری صاحب کی خاموشی ان کیلئے نقصان دہ ہوگی۔ انہیں عوام کے سامنے کھل کر اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی وہ پیپلزپارٹی کو تو وہ ڈبو ہی چکے ہیں۔ انہیں خود بھی سیاست سے علیحدگی اختیار کرنا پڑے گی۔ لہٰذا قائم علی شاہ صاحب کوا بھی وزارت اعلیٰ کے منصب پر قائم رہنے دیجئے۔ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہیں ہوئی مگر رانا ثناءاللہ دوبارہ وزیرقانون بن چکے ہیں۔ یہی ہے اندازِ سیاست؟