”پی پی کا نیا رومانس“

کالم نگار  |  محمد یسین وٹو

دنیائے سیاست میں مسند اقتدار کا راستہ سیاسی اکھاڑنے کی غلام گردشوں سے ہو کر جاتا ہے۔ طاقت کی ان راہداریوں میں ان پاور بروکرز کا راج ہے کہ جنہیں ہم اسٹیبلشمنٹ، عالمی طاقتیں اور لابی میکرز کے طور پر جانتے ہیں۔ دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ہر سیاستدان اور جمہوریت کی بقاءکی خاطر، اس بروکر کا سہارا لیتا ہے۔ چونکہ نظام جمہوریت کے مروجہ اصولوں میں عوام الناس طاقت کا خالص سرچشمہ نہیں ہوتے لہٰذا مسند اقتدار پر پہنچنے والے حکمران ان پاور بروکرز کے ہمیشہ زیربار رہتے ہیں، نتیجتاً کوئی بڑا کام کرنا تو درکنار کوئی بھلا کام بھی نہیں کر پاتے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ بھٹو مرحوم بھی ان ہی پاور بروکرز کے طفیل اقتدار کے زینے چڑھنا سیکھے۔ پھر انہی بروکرز کو زیرنگیں کرکے اقتدار کو دوام بخشنے کی کوشش کرتے رہے مگر جب انہوں نے بساط کو اپنے ڈھنگ سے لگانا چاہا تو بساط ہی سمیٹ دی گئی۔ اس دن سے پیپلز پارٹی کی سیاست اسٹیبلشمنٹ سے بغض و عناد پر استوار ہوگئی۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی دو حکومتیں کرپشن کے الزامات کی نذر ہوئیں مگر انہیں بھی اسکے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ کارفرما نظر آتا تھا۔ انکی تصانیف اور لیکچرز میں بھی ”ملا ملٹری الائنس“ اور اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید ہوا کرتی تھی۔ ایجنسیوں اور سکیورٹی فورسز کے بارے میں پارٹی قائدین کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے مگر پھر یکایک یہی اسٹیبلشمنٹ اس قدر معزز و محترم ہوئی کہ محترم نے این آر او سائن کرکے ان ہی قوتوں سے ہاتھ ملا لیا جن کیخلاف عمر بھر وہ بولتی آئی تھیں۔ پھر زرداری اینڈ کمپنی پر اقتدار کا ہُما مہربان ہوا اور وہ رہبرانِ ملت جو اپنی کرپشن سے لیکر قید تک تمام الزامات اسٹیبلشمنٹ پر ڈالا کرتے تھے۔ یکایک اسی اسٹیبلشمنٹ کے ثناءخوا بن گئے۔پے در پے ہونیوالے غیرمعمولی سکیورٹی نقائص اور قوت کے بیجا استعمال پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقتدر اداروں کی کارکردگی زیربحث آئی ہے۔ ان مقتدر اداروں کے بجٹ اور کارکردگی کے تقابلی جائزے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو کہ سراسر ایک آئینی اور اصولی موضوعِ بحث ہے۔ یہ ادارے اسی قوم کے ہیں لہٰذا ان پر تنقید اور اصلاح کا مطالبہ بھی قوم کا حق ہے۔ سکیورٹی فورسز اور خفیہ ادارے بھی اسی طرح قوم کے سامنے جوابدہ ہیں جیسے پارلیمنٹ اور عدلیہ جوابدہ ہے۔ یہی وہ مطالبہ ہے کہ جو پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو خود کیا کرتی تھیں۔ جب انکی تنقید تعمیری اور مثبت تھی تو پھر اب ہونیوالی تنقید وطن دشمنی اور زہریلا پروپیگنڈہ کیسے ہوگئی؟ اگر تب بے نظیر بھٹو صاحبہ پر لگنے والے سکیورٹی رسک کے الزامات غلط تھے تو اب ناقدین پر ایسے الزامات درست کیونکر ہوگئے۔مگر اب پی پی پی کا نظریہ¿ ضرورت تبدیل ہوچکا ہے۔ اقتدار کے دوام کی خاطر اب انہیں اسٹیبلشمنٹ کی طرفداری بھی منظور ہے۔ پہلی مرتبہ پی پی پی کے جغادری رہنما اسٹیبلشمنٹ کے ثناءخوا بن گئے ہیں۔ فرزانہ راجہ، فیصل رضا عابدی اور بابر اعوان جیسے ”راست گو“ رہنماءاب مقتدر اداروں پر تنقید کو وطن دشمنی بتاتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ وہ پہلے سچے تھے یا اب سچے ہیں!پیپلز پارٹی کو اپنا نیا رومانس مبارک! مگر ضرورت کے عشق کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ پہلے تو اپنی ہر ناکام حکومت کی ذمہ داری پی پی پی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالا کرتی تھی۔ اب اس سیاسی معاشقے کے بعد پی پی پی اپنی کرپشن اور ناکامی کی ذمہ داری کس پر ڈالے گی!
٭٭٭