یہ ابہام کہاں سے نازل ہوا؟

صحافی  |  عطاء الرحمن

مولانا فضل الرحمن نے کیا کمال دکھایا ہے، چشم کشا بیان داغ دیا ہے۔ یوں سمجھئے بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے ایبٹ آباد کے سانحے پر تحقیقاتی کمشن قائم نہیں ہونا چاہئے۔ اگر یہ کمشن اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ واقعہ فوج کی غفلت کی وجہ سے ہوا تو عساکر پاکستان کی بدنامی ہو گی۔ اس سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا۔ کمشن نے ابھی کام نہیں شروع کیا۔ اس کا جیسا بھی وجود ہے متنازعہ بنا ہوا ہے لیکن مولانا کو پہلے ہی علم ہو گیا ہے۔ وہ کس نتیجے پر پہنچے گا۔ کس ادارے کو مورد الزام ٹھہرائے گا۔ کون بدنام ہو گا۔ غیب کی یہ خبر جناب مولانا کو کہاں سے ملی۔ کس نے سجھائی۔ مولانا کے بیان سے یہ اور کئی دوسرے سوالات جنم لیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ وکی لیکس کے انکشافات سے معلوم ہوتا ہے امریکہ کے ساتھ بھی اعتماد کے تعلقات میں کمی نہیں لہٰذا ان کے بہت باخبر سیاستدان ہونے میں شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بیان سے ایک بڑے سوال کا جواب بھی مل گیا ہے۔ حکومت نے کمشن کی تشکیل کرتے وقت ہی اس میں خرابی کی صورت کیوں پیدا کر دی تھی تاکہ پیدائش کے ساتھ ہی اس پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہو۔ اول تو کام کرنے کے قابل نہ ہو۔ اگر اپنی کارروائی شروع بھی کر دے تو عوامی سیاسی حلقے قبول نہ کریں۔ مسلسل تنقید اور ناپسندیدگی کا نشانہ بنا رہے۔چنانچہ کمشن کے قیام کے نوٹی فکیشن میں اعلان کیا گیا سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جاوید اقبال اس کی سربراہی کریں گے۔ قانونی طور پر اس کے لئے ضروری تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے اس کی منظوری حاصل کی جاتی۔ جس کا تکلف نہیں کیا گیا۔ یہ بات نہیں کہ حکومت اس قانونی تقاضے سے بے خبر تھی لیکن اس نے تو نہ ٹوٹے گا بانس نہ بجے کی بانسری کی اپروچ اختیار کر رکھی ہے۔ چیف جسٹس کی رائے حاصل کرنے کی زحمت نوٹی فکیشن جاری کرنے کے بعد بھی نہیں کی گئی۔ اگرچہ اس کا سیکرٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے لیکن اسے تسلیم کون کرے گا۔ اس پر مستزاد یہ کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کے مطابق قائد حزب اختلاف سے باقاعدہ مشورہ نہیں کیا گیا ان کے ایک خط کو اس مقصد کے لئے کافی سمجھا گیا۔ قرارداد کے متن کو سامنے رکھئے تو ایک مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جسٹس (ر) فخرالدین ابراہیم کا نام چودھری نثار علی کے خط میں کچھ دیگر خواتین و حضرات کے ساتھ تجویز کیا گیا تھا۔ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کا بھرم رکھنے کے لئے انہیں شامل کر لیا۔ لیکن انہوں نے ایسے کمشن کا رکن بننے سے صاف انکار کر دیا۔ معاملہ یہاں تک پہنچا تھا کہ گذشتہ جمعرات کو راولپنڈی میں کور کمانڈرز کا اجلاس ہوا۔ انہوں نے اعلان کیا ہمیں یہ کمشن منظور ہے۔ کون سا کمشن کیسا کمشن۔ یہ ہرگز نہ سوچا گیا اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
اب حضرت مولانا نے دست تعاون بڑھایا ہے۔ کمشن کی ضرورت پر عدم اتفاق کا اظہار کیا۔ دلیل یہ دی ہے کہ فوج بدنام ہوئی تو پاکستان کو نقصان ہو گا۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔ غلطی یا غفلت جس کی بھی سامنے آئی۔ وہ فوج ہو آئی ایس آئی یا حکومت اسے اپنی اصلاح کا موقع ملے گا۔ اسی میں فوج اور ملک دونوں کا فائدہ ہے۔ ریت میں منہ چھپا لینے سے پہلے کچھ حاصل ہوا ہے نہ اب ہو گا۔ حمودالرحمن کمشن کی رپورٹ کو عرصہ دراز تک چھپا کر نہ رکھا جاتا اس کی سفارشات پر عمل کیا جاتا تو یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے 2 مئی کو ایبٹ آباد اور 22 مئی کو مہران نیول بیس کراچی کے صدموں سے ہمیں دوچار نہ ہونا پڑتا۔ مولانا فضل الرحمن نے کمشن کے خلاف بیان دے کر فوج کی خدمت کی ہے نہ ملک کی۔ البتہ کچھ چوٹی کے لوگوں کی خوشی اور اطمینان کا سامان ضرور کیا ہے۔ مولانا نے یہ کہہ کر ہماری حیرت میں مزید اضافہ کیا ہے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وہ خود شریک نہیں ہوئے۔ اگر وہاں ہوتے تو کمشن کی تجویز کی مخالفت کرتے۔ گویا ان کی جماعت کے دیگر نمائندوں نے جو اس کی حمایت کی وہ مولانا کی خواہش اور مرضی کے خلاف تھی۔ اگر ان کی اپنی جماعت کے ڈسپلن کا یہ عالم ہے تو وہ اقتدار میں آ کر ملک کیا سنواریں گے۔ شائد حضرت پر تازہ الہام پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد نازل ہوا ہو۔ اگر وہ اس کا سورس بتا دیں تو سب کا بھلا ہو گا۔