پنجاب حکومت کے بجٹ پر ایک نظر

عنازہ احسان بٹ
پنجاب حکومت کی جانب سے 2011-12ءکےلئے پیش کئے جانے والا بجٹ شدید گرمی اور بجٹوں کی حدت کے اس موسم میں خوشگوار جھونکا ثابت ہوا ہے۔ وفاق کے بعد سندھ‘ خیبرپی کے اور پنجاب اسمبلیوں کے بجٹ پیش کئے جا چکے ہیں، کئی بجٹ اپنے اپنے پہلوﺅں میں مستحسن تجاویز سمیٹے ہوئے ہیں تاہم مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے پنجاب کےلئے پیش کئے جانے والے 654 ارب روپے کے بجٹ میں غریبوں، بے روزگاروں اور خصوصی طور پر تعلیم یافتہ بے روزگاروں کےلئے جن مستحسن اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ماضی میں اُس وقت کے وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی جانب سے ییلوکیپ سکیم اور موٹر وے جیسے دو ایسے قیمتی تحائف قوم کو پیش کئے گئے کہ اب بھی لوگ نہ صرف اُس سے استفادہ کر رہے ہیں بلکہ اس عظیم فیصلے کو ہمیشہ سراہتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ بجٹ میں اُسی وژن کو ارتقاءبخشتے ہوئے پنجاب میں اربوں روپے کی لاگت سے پنجاب روزگار سکیم کے نام سے ایک جامع پالیسی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت پڑھے لکھے بے روزگار افراد کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کےلئے آسان شرائط پر بیس ہزار ییلوکیب گاڑیاں فراہم کی جائیں گی اور اس مقصد کےلئے بجٹ میں ساڑھے چار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے صرف اسی پر اکتفاءنہیں کیا بلکہ زرعی ویٹرنری گریجویٹس کو ساڑھے بارہ سے پچیس ایکڑ فی کس کے حساب سے سرکاری زمین پندرہ سال کےلئے لیز پر دینے کے ساتھ ساتھ ماڈل زرعی فارم بنانے کےلئے نو لاکھ روپے فی زرعی گریجویٹ قرضہ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان میں گذشتہ 6دہائیوں سے یہ تو رائج رہا ہے کہ وڈیروں، جاگیرداروں اور جرنیلوں کو چند روپوں کے عوض نوے نوے برس کےلئے سینکڑوں ایکڑ اراضی لیز پر فراہم کی جاتی رہی لیکن پنجاب حکومت نے پہلی بار یہ پالیسی متعارف کرائی ہے کہ زرعی گریجویٹس اپنی علمی قابلیت کو زمین پر آزماتے ہوئے زیر کاشت رقبہ بڑھائیں تاکہ ملک کی زرعی پیداوار میں اضافہ کرکے سرسبز پاکستان کے حسین خواب کو شرمندہ¿ تعبیر کیا جا سکے۔ پنجاب حکومت کو اپنے صوبے کے تعلیم یافتہ بے روزگار اور ہنر مند نوجوانوں کا اس قدر شدید احساس ہے کہ وہ ایک لاکھ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بلاسود قرض دینے جا رہی ہے تاکہ یہ لوگ دہشت گردی، بدامنی اور جرائم کی طرف راغب ہونے کی بجائے چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کرکے اپنے پیٹ پالتے ہوئے قوم و ملک کی تعمیر و ترقی کےلئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح اس بجٹ میں آشیانہ سکیم میں 10 فیصد گھر یتیموں، بیوگان اور شہداءکے ورثاءکو دینے کے علاوہ ان 10فیصد گھروں کی پہلی واجب الادا 25 فیصد قسط خود پنجاب حکومت نے ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی نہیں تعلیم، صحت اور پولیس میں 10ہزار آسامیاں پیدا کرکے بےروزگاری کا خاتمہ کرنے کی ایک اور جدوجہد کا بھی عزم کیا گیا ہے۔ میرا مقصد (ن) لیگ کی طرف سے پیش کئے جانے والے بجٹ کی قصیدہ خوانی نہیں، تاہم تمام تقابلی بجٹوں کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ”ڈار نثاربجٹ“ کی پھبتی کسنے والوںکے منہ پر یہ بجٹ یقینا ایک طمانچے کے طور پر لگا ہو گا اور آئی ایم ایف سے درآمد کئے ہوئے نام نہاد ماہرین معیشت کے پیش کردہ بجٹ کے مقابلے میں اپنی افادیت کو خود ببانگ دہل دہراتا دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب حکومت کے بجٹ میں نوجوان بے روزگاروں ہی نہیں خواتین کےلئے بھی 13ارب روپے کے منصوبے تجویز کئے گئے ہیں جبکہ فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان اور بہاولپور میں خواتین کی یونیورسٹیوں کےلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی اور اُس کے اتحادیوں کی حکومت جو پنجاب کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر سرائیکی صوبے کا ”لولی پاپ“ دینے کےلئے کوشاں ہے اپنے وفاقی بجٹ میں تو سیلاب سے تباہ حال اس پسماندہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی کوئی مدد کرنے میں کامیاب دکھائی نہیں دی تاہم سرائیکی صوبے کی مخالفت کے الزامات کی زد میں آئی ہوئی (ن) لیگ کی حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی کےلئے 70ارب روپے مختص کئے ہیں جو پنجاب کے مجموعی بجٹ کا 32 فیصد ہے۔
پنجاب حکومت کو دہشت گردی سے ستائے ہوئے اپنے عوام کی خوشی، مسرت اور تفریح کا بھی خیال ہے اسی لئے سرکس اور تھیٹر پر تفریحی ٹیکس 65فیصد سے کم کرکے 20فیصد جبکہ سینما انڈسٹری کو سہارا دینے کےلئے 3برس کےلئے تفریحی ٹیکس بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح چیئرلفٹس پر بھی عائد ٹیکس 3 برس کےلئے ختم کر دیا گیا ہے تاکہ بے روزگاری، بدامنی، دہشت گردی، افراتفری اور معاشی زبوں حالی کے ہاتھوں درماندہ و خستہ حال لوگ زندگی کی مسرتوں سے مستفید ہو سکیں۔
مجھے اس بجٹ میں تجویز کئے جانے والے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی شرح میں اضافے اور دیگر بعض ٹیکسوں کے نفاذ پر اگرچہ ذاتی طور پر کسی حد تک اعتراض ہے لیکن شاید معاشی ضروریات کی تکمیل کےلئے ان کا اطلاق ناگزیر ہے۔ تاہم اپنی قیادت کو میرا یہ مشورہ ضرور ہے کہ اگر گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی شرح بڑھانی ہی ہے تو اس کا اطلاق کم از کم 2000 سی سی گاڑیوں سے شروع کیا جائے۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں 12 فیصد اضافے اور ترقیاتی اخراجات میں 14 فیصد اضافے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ تنخواہوں اور پنشنوں میں اضافہ اور دیگر مراعات تو ویسے ہی اپنی مثال آپ ہیں، توانائی کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے کالا باغ ڈیم کےلئے علامتی طور پر 10 لاکھ روپے مختص کرکے جو پیغام دینے کی کوشش کی ہے خدا کرے کور چشموں اور بند دماغوں کی سمجھ میں کچھ آسکے۔ سچ پوچھئے تو اس شاندار بجٹ کے پیش کئے جانے کے بعد مجھے مسلم لیگ (ن) سے اپنی وابستگی اور خدمات پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔ آپ بھی اس کے ثمرات سے مستفید ہونے کے بعد یقینا نہال و شادماں ہوں گے۔