لہو تلاش کروں میںکس کے ہاتھ پر

حسین محی الدین القادری
قائد اعظمؒ پاکستان کی خارجہ پالیسی اسکی جغرافیائی اہمیت اور حیثیت کے تناظر میں برابری کی بنیاد پر تشکیل دینا چاہتے تھے تا کہ خطے میں اسکے مفادات کو مکمل تحفظ حاصل ہو سکے اورپاکستان معاشی اور سیاسی خود مختاری کی راہ پر چلتے ہوئے نہ صرف نا قابل تسخیر بنے بلکہ دیگر مسلم ممالک کےلئے بھی تقویت کا باعث ہو۔انکی رحلت کے بعد بچے باپ کےخلاف چلنے کا جرم ڈھٹائی سے کئے جا رہے ہیں اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وطن عزیز کی سا لمیت اور قومی یکجہتی کو شدید خطرات لا حق ہو چکے ہیں۔قائد اعظم پاکستان کےلئے جو دوست چاہتے تھے ان سے ہاتھ ملانے کی بجائے بے اعتنائی برتی گئی، افسوس آج بھی اسی خارجہ پالیسی کا تسلسل جاری ہے ۔ زخم پر زخم لگ رہے ہیں مگر اب تو بے حیثیت ہونے کا احساس بھی نہیں ہے۔ نہ جانے کیوں چین کےساتھ جب بھی تعلقات بہتری کی جانب بڑھتے ہیں رکاوٹوں مزاحمتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ،اس پر بھی غور کرنا ہو گا ۔پاکستان کو اپنے مفادات کے تناظر میں بابائے قوم کے دئےے ہوئے اصولوں اور منشاءکے مطابق خارجہ پالیسی ازسرنوتشکیل دینا ہو گی۔موجودہ پالیسی تو خارجی عناصر کے مفادات کو تحفظ دے رہی ہے اور ملکی مفادات کو چند سکوں اور چند روزہ اقتدار کی خاطر بیچا جا رہا ہے۔
سری لنکن ٹیم پر حملہ کی منظم کوشش کوصرف دہشت گردی کی کارروائی قرار دےکر پلو جھاڑ دیا گیا ،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کے دن تک کوئی ٹیم پاکستان کا رخ کرنے کو تیار نہیں ۔بیرونی دنیا کا پاکستان کے بارے میں ایک غیر محفوظ ریاست ہونے کا تصور پختہ ہوتا جا رہا ہے۔جو ملکی معیشت کے کھوکھلے پن کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے جسکے انتہائی منفی اثرات نظر آرہے ہیں۔ حکومت اور دفاعی اداروں کو سوچنا ہو گا کہ ایسے منظم اور گھناﺅنے واقعات کرا کے ملک دشمن طاقتیں کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ایبٹ آباد واقعہ کے فوراً بعدمہران بیس کراچی پر حملہ حکمرانوں اور دفاعی اداروں کے سربراہان کےلئے سوچ و بچار کا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور ان واقعات نے یقیناًہمارے عسکری ذمہ داران کو بھی ہلا دیا ہے ۔ اگر ایسے واقعات کو بھی صرف دہشت گردانہ کارروائیوں کے زمرے میں ڈال کر فراموش کر دیا گیا تو اسکے بہت ہی سنگین نتائج مستقبل قریب میں دیکھنے کو ملیں گے۔ خدارا اس حقیقت کو سمجھا جائے کہ دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان براہ راست بیرونی جارحیت کا شکار ہے اور اسکے خلاف غیراعلانیہ جنگ چھیڑ دی گئی ہے مگر اسے محض دہشت گردی ہی سمجھا جا رہا ہے۔
آج ریمنڈ ڈیوس جیسے سینکڑوں ایجنٹ ویزوں کے بغیر گھوم رہے ہیں قوم کڑے حالات سے گزر کر ابھرنے والی عدلیہ سے بھی سوال کر تی ہے کہ وہ کیوں خاموش ہے ؟ یہاں ایک کہانی کی مدد سے پاکستان کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک ملک کی رانی نے محل کی چھت پر ٹہلتے ہوئے اپنا بھاری بھرکم قیمتی ہار اتار کر دیوار پر لٹکا دیا ،اچانک ایک پرندہ آیا اور ہار لے اڑا۔رانی کو وہ بہت محبوب تھا اس نے بادشاہ سے شکایت کی \\\"میرا نایاب ہار پرند ہ لے گیا بازیابی کےلئے کچھ کیا جائے\\\" بادشاہ نے سلطنت میں منادی کرا دی اورہار لانے والے کےلئے پر کشش انعام کا اعلان کر دیا ۔رعایا ہار ڈھونڈنے میں لگ گئی،ایک دن اطلاع ملی کہ دریا کے کنارے پر پانی کے اندر ہار نظر آ رہا ہے ۔بادشاہ وزیروں کےساتھ وہاں پہنچا،دیکھا تو پانی کے اندر ہار دکھائی دے رہا تھا ۔غوطہ خوروں نے سر توڑ کوشش کی مگر ہار پانی سے نہ مل سکا۔ ان میں سے ایک سیانے نے کہا کہ باہر سے ہار نظر تو آتا ہے مگر اندر ہے نہیں،ہار کہیں اور ہے اور اسکا عکس پانی میں دکھائی دیتا ہے ۔اس پر بادشاہ نے عکس کے اوپر دیکھا تو کنارے پر دریا کی طرف جھکے درخت کی باہر والی شاخ پر ہار لٹک رہا تھا۔مگر ساری رعایا اور بادشاہ کے اہلکار اسے دریا کے اندر تلاش کر رہے تھے ۔ وہ سب عکس سے دھوکا کھا کر حقیقت کو فراموش کر بیٹھے تھے۔بات خارجہ پالیسی کی ہو ،دہشت گردی کے خاتمے کی یا دہشت گردی اور بیرونی جارحیت میں فرق کی،ہمارے حکمران اور دفاعی اداروں کے ذمہ داران عکس کے پیچھے پڑے رہنے کی بجائے اصل حقیقت پر نگاہ دوڑائیں۔دوست دشمن میں تمیز کی جائے اور ملکی پالیسیوں کو زمینی حقائق کے تناظر میں تشکیل دیا جائے ۔ملکی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کےلئے عکس کی بجائے ٹھوس حقیقت تک پہنچ کر حکمت عملی کو ترتیب دیا جائے تبھی کامیابی مقدر ہو گی ،اسکے بغیر کی جانیوالی بڑی سے بڑی کوشش بھی ثمر بار نہ ہو سکے گی۔