صبح ہونے میں دیر ہی کتنی ہے

کالم نگار  |  محمد اظہار الحق

اٹھو۔ خدا کےلئے یہاں سے نکلو۔ ابھی رات کا کچھ حصہ باقی ہے۔ ابھی وقت ہے۔ تباہی کےلئے صبح کا وقت مقرر ہے اور صبح ہونے میں دیر ہی کتنی ہے!
ساری حدیں پھلانگی جا چکی ہیں۔ ساری حجتیں تمام ہو چکی ہیں۔رسی جتنی ڈھیلی ہو سکتی تھی کی جا چکی اس سے زیادہ وقت نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے زیادہ وقت کبھی کسی کو دیا بھی نہیں گیا۔کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ فرشتوں کے پر ایک افق سے دوسرے افق تک پھیل چکے ہیں۔ کیا تم پھڑ پھڑاہٹ کی آوازیں نہیں سن رہے؟ تمہاری زمین اور آسمان کے اس ٹکڑے کے درمیان جو تمہاری زمین کے اوپر ہے‘ سارا خلا بھر چکا ہے۔ فرشتے آرہے ہیں اور جا رہے ہیں۔ تباہی کےلئے صبح کا وقت مقرر ہے۔ اٹھو‘ خدا کےلئے نکلو‘ صبح ہونے میں دیر ہی کتنی ہے!خلق خدا کی گردنوں پر سوار ان پیران تسمہ پا نے اس لکیر پر پا¶ں رکھ دیا ہے جس پر نہیں رکھنا تھا۔ انہوں نے چادر اور احرام کو لوٹا۔ لوٹنے والوں کے ڈانڈے جس شہر سے ملے‘ سب نے دیکھا اور سنا‘ لوٹنے والوں کا سرپرست کون تھا اور کہاں تھا‘ سب کو معلوم تھا۔لوگوں کے حقوق چھین کر اقربا کو دے دئیے گئے‘ ریاست میں روزگار کے جتنے مواقع تھے‘ وہ سب ایک مخصوص طبقے کو سونپ دئیے گئے۔اللہ کی مخلوق کو مزارع اور کرسی کو جو امانت تھی گدی سمجھا گیا۔ فرشتوں نے گرز اٹھا لئے لیکن انہیں روک دیا گیا کہ ہو سکتا ہے یہ سمجھ جائیں‘ ہو سکتا ہے بدحال مخلوق ہمت سے کام لے اور انہیں اپنی گردنوں سے اتار پھینکے!
صرف ایک ادارے پورٹ قاسم اتھارٹی میں چھ سو اٹھاسی غیر قانونی بھرتیاں اور ناجائز تعیناتیاں! اور وہ بھی صرف کراچی کے دو حلقوں سے‘ سپریم کورٹ کہتی ہے کہ خدا کےلئے مغل بادشاہوں والا رویہ نہ اپنا¶ اور اٹارنی جنرل کہتا ہے کہ وزیراعظم سے رابطہ ہوا ہے اور ہم انکوائری کمیشن قائم کرنے کو تیار ہیں۔ کیا چھ سو اٹھاسی مستحق خاندانوں کےساتھ ہونےوالی ناانصافی پر یہی ردعمل ہونا چاہئے تھا؟ اس ننگی بھوکی بلکتی قوم کے منہ سے تین ارب روپے چھین کر پارلیمنٹ کے ارکان کی ایک سو چھ رہائش گاہوں پر لگانے کا حکم دےدیا گیا ہے۔ پونے تین کروڑ روپے فی رہائش گاہ! ان لوگوں کےلئے جو ٹیکس چوری کرتے ہیں! اور عام آدمی کے ساتھ تکبر کا رویہ اپناتے ہیں۔ جو قانون کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں اور انصاف کا مذاق اڑاتے ہیں۔ انکی ایک ایک رہائش گاہ پر تین تین کروڑ روپے! ساڑھے سات کروڑ روپے ان کےلئے حفاظتی انتظامات پر جبکہ عوام کے جسموں کے پرخچے اڑ رہے ہیں۔ پشاور سے کوئٹہ تک اور کراچی سے لاہور تک انسانی گوشت کی بوٹیاں ہوا¶ں میں تیر رہی ہیں۔ ایک کروڑ اسی لاکھ روپے ان گردن بلندوں کےلئے ائرکنڈیشننگ کے انتظامات پر‘ جبکہ ٹیکس دینے والے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے برقی رو کے بغیر‘ آسمان کی طرف منہ اٹھائے بددعائیں دے رہے ہیں‘ یہ سب کچھ یہ بے پناہ جرائم بھی برداشت کئے جا رہے تھے لیکن انہوں نے اس لکیر پر پا¶ں رکھ دیا جس پر نہیں رکھنا تھا۔
تکبر‘ آسمان کو چھوتا تکبر‘ انہیں ”سردار“ کہہ کر نہ خطاب کیا جائے تو انکی تیوریاں چڑھ جاتی ہیں اور اگر انکے قبیلے کے عام آدمی کو سردار کہہ دیا جائے اگرچہ وہ گورنر ہی کیوں نہ ہو‘ تو انکی پیشانیاں شکن آلود ہو جاتی ہیں۔ سردار قوم کو سینہ تان کر بتاتا ہے کہ محلات کا شہر کاغذوں میں فارم ہا¶س ہے اور فارم ہا¶س پر ٹیکس نہیں دیا جا سکتا! سرکاری تنخواہ وصول کرنےوالے سینکڑوں سپاہی پہرا دے رہے ہیں۔
دیواروں سے سر ٹکراتی خلق خدا آٹے کے ایک ایک تھیلے اور چینی کے ایک ایک پیکٹ کو ترس رہی ہے۔ دال اور بینگن ایک سو روپے کے ایک کلو بھی نہیں مل رہے۔ اسی فیصد آبادی سیب اور انڈا کھانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ سی این جی کے چند بلبلوں کےلئے اور پٹرول کے چند قطروں کےلئے پوری پوری رات قطار میں کھڑے لوگ اس طبقے کا منہ نوچنا چاہتے ہیں جو کبھی اقتدار اور کبھی حزب اختلاف کا چولا پہن کر ان کا خون پی رہا ہے لیکن انکے اعصاب کی مضبوطی دیکھئے کہ یہ ایک دوسرے کو ولایتی کتوں کے پلے تحفوں میں دے رہے ہیں۔ عوام کی ثقافت کےساتھ اس ملک کی ثقافت کےساتھ ذرا انکی ہم آہنگی دیکھئے‘ ایک نے کروڑوں اربوں کا فارم ہا¶س بنایا ہے‘ دوسرے نے پہاڑی کی چوٹی پر چار سو کنال کا ”گھر“ تعمیر کیا ہے جس میں مبینہ طور پر کتوں کی تعداد نوکروں سے زیادہ ہے۔ صرف تحفہ ہی نہیں‘ اس مبارک پلے کے حسب و نسب پر باقاعدہ بحث ہوتی ہے۔ پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ کتے کا یہ بچہ ڈکٹیٹر کو جرمن چانسلر نے دیا تھا۔ پھر عوام کو یہ خوش خبری دی جاتی ہے کہ نہیں‘ یہ پلا‘ ڈکٹیٹر کی کتاب لکھنے والے صحافی کی ملکیت میں تھا لیکن اس کی ”رہائش“ ڈکٹیٹر کے فارم نما محل میں تھی!
مسخروں اور کارٹونوں کی یہ ساری حرکتیں دیکھی جا رہی تھیں اور رسی بدستور ڈھیلی تھی لیکن انہوں نے اس لکیر پر پا¶ں رکھ دیا جس پر نہیں رکھنا چاہئے تھا۔ ان کے ملازموں نے اپنے ہی لوگوں کو گلیوں اور چوراہوں پر مارنا شروع کر دیا ہے‘ جیسے انسان نہ ہوں کتے بلے ہوں۔ ہاتھ جوڑتے نہتے بندوں کو جس طرح بندوقوں سے قتل کیا جا رہا ہے‘ اس طرح تو روسی چیچنیا کے مسلمانوں کو‘ بھارتی کشمیریوں کو‘ اسرائیلی فلسطینیوں کو اور امریکی عراقیوں کو بھی نہیں مارتے لیکن جب ایوان میں اس پر کچھ لوگ ماتم کناں ہوتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ ماتم کی لو اونچی نہ کرو اور احتجاج کی آواز آہستہ رکھو۔اس سے پہلے کہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسنا شروع ہو جائیں‘ اٹھو اور یہاں سے نکل چلو‘ وہ جو اس ملک کو اپنی جاگیر اور یہاں کے لوگوں کو بے وقعت سمجھتے ہیں‘ ان سے جس قدر جلد فاصلے پر ہو سکتے ہو‘ ہو جا¶‘ ان کی تباہی کےلئے صبح کا وقت مقرر ہے۔ الیس الصبح بقریب۔