اُٹھو وقت ِ قیام آیا ....(آخری قسط)

ابوالامتیاز ع س مسلم
قراردادِ مقاصد میں یہ طے کردیا گیا ہے کہ زمین پر حاکمیت اعلیٰ خالق مطلق، باری تعالیٰ کی ہے اور کوئی قانون جو قرآن وسنت کےخلاف یا اس سے متصادم ہو وضع نہیں کیا جائےگا‘ بہرحال ہندوﺅں اور برطانوی ہیئت حاکمہ کی ہر دلیل، دھمکی یا دھونس کے باوجود مسلمانوں نے جان وتن کی بازی لگا دی لیکن اپنے لئے متعین سیاسی صراط مستقیم سے ایک قدم پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا۔
گفتگو کا رخ مرکزی موضوع کی طرف موڑتے ہوئے یہ تسلیم کر لینے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہئے کہ موجودہ پاکستان، اپنے نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے باوصف وہ پاکستان ہرگز نہیں جو ملت اسلامیہ برصغیر کی آنکھوں کا خواب اس کی امیدوں کا مرکز ومحور اور بہ دل وجان اس کا مطالبہ تھا‘ جسکی جدوجہد میں لاکھوں جانیں قربان ہوئیں‘ بے حساب خون کی ندیاں بہہ گئیں.... بستیوں کی بستیاں اجڑ گئیں.... اور کتنی ہی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وحرمت برباد ہوئی۔
آج اس ٹوٹے پھوٹے پاکستان میں سے بھی نصف ملک گنوا کر ہم راندہ درگاہ بنی اسرائیل کی طرح نام نہاد ”وطن“ کے صحرائے سینا میں اپنی گم گشتہ منزل کی تلاش میں حیران وسرگرداں ہیں اور غضب یہ ہے کہ اس احساس سے بھی عاری اور اپنے فکر وخیال کے سرچشموں سے بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔
بھول کہاں ہوئی؟
ریاست تو قائم ہو گئی‘ لیکن ہنوز کسی آئینی تاسیسی بنیاد سے تہی‘ بے سروسامان‘ گرہ سے خالی اور لاکھوں مہاجرین کے سونامی میں گھری ہوئی نئی مملکت کے ابتدائی چند سال تو ہندوستان انگریز اور دیگر دشمنوں کی سازشوں کے باوجود اعانت خداوندی‘ قائد اعظم علیہ الرحمہ کے فکر وتدبر ان کے رفقاءکے خلوص ومحنت اور وفاداری کے سہارے جیسے تیسے گزر گئے لیکن جلد ہی خصوصا قائد اعظم کی بے وقت وفات کے بعد‘ موقعہ پرست لوگوں اور برطانوی تربیت یافتہ بیوروکریسی اور اعلیٰ فوجی گٹھ جوڑنے‘ (جن کا جہادِ آزادی میں کوئی کردار نہ تھا) اپنی عیاری اور تیز طراری سے انتظامیہ میں غلبہ حاصل کر لیا۔ استحصالی اور اشتراکی فتنہ سازوں نے نظریاتی نقب لگانی شروع کر دی۔ قائد اعظم کی وفات اور نواب زادہ لیاقت علی خان کی شہادت سے بہت سوں کو کھلا میدان مل گیا ذاتی مفادات اور نظریاتی انہدام کی سازشیں پروان چڑھنے لگیں اس یلغار میں ”مسلم قومیت“ کہیں کھو گئی اور جس ”وطنی تصورِ قومیت“ سے ہم نے نجات حاصل کی تھی وہ ازسرِ نو زمینی تعصب کی ”جون“ میں جنم لے کر ہمیں اس سے بھی حقیر صوبائی اور علاقائی وطنیتوںمیں تقسیم کرکے اور اپنا حساب بے باک کرنے لگا۔
فرمایا باری تعالیٰ نے ”واعتصموابحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا.... (آل عمران 103:3) ”سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے رہو‘ اور باہم نااتفاقی نہ کرو“ .... یہ اتفاق صرف فقہی اختلاف یا فرقہ بندی تک محدود نہیں، بلکہ ہر قسم کی نااتفاقی یا افتراق بہ شمول صوبائی عصبیت مراد ہے۔ اسی آیت میں آگے چل کر یاد کرایا گیا کہ ”اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد رکھو کہ جب تم باہم دشمن تھے تو اس نے تمہارے قلوب میں الفت ڈال دی‘ سو تم اسکے انعام سے آپس میں بھائی بن گئے“۔
پہلے اپنے کمالِ رحمت سے اس نے ہمیں ”مسلم قومیت“ کی نعمت اور اسکے شعور سے نوازا۔ پھر مسلم قومیت کے بطن سے ”پاکستانیت“ کی نعمت عظمیٰ سے مالا مال کیا ھل جزاءالاحسان الا الاحسان فبای¿ اٰلآئِ ربکما تکذبان .... کیا احسان کا صلہ احسان کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے! پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاﺅ گے“ (الرحمن61-60:55) اور نعمت ایمان کے ساتھ آزادی سے بڑھ کر اور کیا انعام ہو گا اور یہ وہی اخوت اور اسلامی بھائی چارہ ہے جو ہمیں ایک ”مسلم قومیت“ کی لڑی میں پروتا ہے۔ نہ کہ وطنی قومیت میں تقسیم کر کے ہمیں پارہ پارہ کر دیتا ہے۔
پہچان کیلئے علاقائی نسبتوں کے علاوہ وسعت تعلقات کی مناسبت سے نسبتیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن بنیادی نسبت ”ملی نسبت“ یعنی ”مسلم قومیت“ ہی ہے اور وہ وطن یا کسی نسلی شناخت سے نہیں بلکہ ”ایمان“ اور ”ملت“ کے تعلق سے ہی استوار ہے۔
وہ کیسا مبارک وقت تھا جب ہم کہتے تھے
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
ان تازہ خداﺅں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
اور مولانا حسین احمد دیوبندی کو طعنہ دیتے تھے کہ:
عجم ہنوز نداند رموزِ دین ورنہ
ز دیوبند حسین احمد ایں چہ بوالعجبیست
سرود برسرِ منبر کہ ملت ازوطن است
چہ بے خبر ز مقامِ محمد عربیست
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبیست!
کیا اپنی قومیت‘ ملت کے بجائے وطن سے جوڑنے والے مولانا‘ اپنی لحد میں مسلم قومیت کی بنیاد پر ایک آزاد مسلم ریاست کیلئے ہمارے مطالبے پر ہم پر خندہ زن نہ ہونگے؟ہم نے حصولِ پاکستان کیلئے ”بمصطفیٰ برساں کہ دیں ہمہ اوست“ کی روشنی میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکھٹ تو پکڑ لی‘ مگر آنحضرت کی تعلیم کو فراموش کر کے پھر اسی دشمن جاں‘ وطنی قومیت کی دلدل میں پھنس گئے اس کا خمیازہ اب بھگت رہے ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے سنہرے ماضی کے نقوشِ قدم تلاش کریں اپنے مخالفین اور اپنی صفوں میں اپنے گمراہ خیال برادران یا چھپے ہوئے میر جعفروں اور میر صادقوں کی باتوں میں نہ آئیں جو دانستہ یا نادانستہ اغیار دشمنان عیار اور انکے گماشتوں سے مرعوب ہیں.... اور اللہ کا نام لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ پاپر نئے ولولے عزم نو اور ارادہ راسخ سے آگے بڑھیں کامیابی انشاءاللہ ہمارا مقدر ہے تاہم اپنی طرف سے سعی و جہد اور اس کا قبلہ رخ ہونا شرطِ اول ہے۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
مسلم قوم کے وطن کا نام ”پاکستان“ بہت مبارک نام ہے ”مسلم قومیت“ کی اساس پر قائم رہ کر بھی ہم پاکستانی ہی رہیں گے اور نظریہ¿ پاکستان کےمطابق ہر استحقاق، وقعت اور مرتبت کے سزاوار بھی۔ اس میں تردد کی کوئی بات نہیں بشرطیکہ یہ فراموش نہ کریں کہ ہم اپنی اصل میں مسلم ہیں اور مسلم پہلے ہیں اور پاکستانی بعد میں۔انگریزی محاورہ ہے‘ It is never too late تاخیر کتنی ہی ہو جائے اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔ باری تعالیٰ نے بھی توبہ اور قبولیت کے دروازے کھول رکھے ہیں اس نے رحمت اپنی ذات پر لازم کر رکھی ہے۔ کتب ربکم علیٰ نفسہ الرحمة (54:6) اس لئے اٹھئے اور اپنی اصل قومیت.... ”مسلم قومیت“ کی طرف پلٹئے اخوتِ اسلامیہ کے سامنے سب ذیلی رشتوں کو ٹھکرا دیجئے کامیابی آپ کی راہ دیکھ رہی ہے۔ یہ سرجھکانے کا نہیں.... سراٹھانے کا وقت ہے.... اٹھو کہ وقت ِ قیام آیا۔