افغانستان سے امریکی فوجی انخلاءچہ معنیٰ دارد؟

کابل سے امریکی فوج کی مرحلہ وار واپسی جولائی 2001ءمیں ہے۔ اوباما کی تمنا ہے کہ امریکی فوج فوری اور بڑی تعداد میں افغانستان سے نکالی جائے۔ اوباما جنگی اخراجات میں کمی اور عوامی فلاح و بہبود میں زیاد خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ اوباما کی تمنا پوری ہو گی یا نہیں۔ اس امر کا فیصلہ مستقبل کے واقعات اور معاملات کریں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ روسی افواج کا افغانستان سے مرحلہ وار انخلاءہوا مگر واقعات اور معاملات نے ثابت کیا کہ یہ فوجی انخلاءدشمن روس کی زیادہ گھناﺅنی سازش اور منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ روس نے افغان مجاہدین سے فوجی اور معاشی شکست کھائی مگر تسلیم نہیں کی۔ تقریباً یہی کیفیت امریکہ کی ہے۔ امریکہ عالمی بالا دستی کیلئے ”نئے عالمی نظام“ New World Order کے نفاذ کا خواہاں ہے مگر پاک افغان مجاہدین کی ناقابل شکست مزاحمت نے امریکی معیشت، معاشرت اور نفسیات کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ مغربی ،امریکی و یورپی) مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر افغان جنگ موجودہ اخراجات کے ساتھ مزید تین سال جاری رہی تو مغربی معیشت کی بحالی کا خواب بھی باقی نہیں رہے گا۔ امریکہ کو واپس جانا ہے، بقول امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے یورپی تھنک ٹینک اور نیٹو ممالک افغان جنگ کی موجودہ مزاحمتی استقامت کے باعث امریکی حمایت ختم کرنے میں جلدی کر سکتے ہیں۔ نیٹو ممالک عزم اور فنڈز کی کمی کا شکار ہیں جبکہ امریکہ خود شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ تاریخی روایت ہے کہ اگر حملہ آور جیت اور فتح کے بغیر واپس جاتا ہے تو وہ روس کی طرح جغرافیائی شکست و ریخت کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نظر....آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پر آ سکتا نہیں....امریکہ کا جانا گے ہے مگر موجودہ امریکی انخلاءروسی انخلاءکی طرح پہلے سے طے شدہ حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اس وقت پاک افغان خطے میں امریکہ و اتحادی ممالک حملہ آور ہیں۔ اتحادی ممالک کی ماہیت جانے بغیر ان کے اہداف کو سمجھنا مشکل ہے۔ اتحادی ممالک کے تازہ دم، سرگرم اورطاقتور ترین ارکان برہمی بھارت اور صہیونی اسرائیل ہیں۔ صہیونی امریکی و یورپی معیشت، معاشرت، مذہبیت، عسکریت اور سیاست پر قابض ہے۔ صہیونی مغرب (امریکہ و یورپ) کی اسلام دشمن صلیبی اور عسکری روح کے سرپرست بھی ہے۔ صہیونی پالیسی میں اشتراکیت (کمیونزم) اور جمہوریت ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکہ میں جمہوری اور فوجی چپقلش اور کشمکش عرصے سے جاری ہے۔ امریکی فوج کو پاک افغان خطے میں صہیونی اور بھارتی برہمنی اہداف کو محفوظ بنانے کیلئے مزید (مگر تھوڑا) وقت درکار ہے۔ امریکی جمہوریت کا مستقبل عوامی بہبود اور ترقیاتی منصوبوں میں مضمر ہے۔ جنرل میک کرسٹل کی معزولی (2010ئ) اسی جمہوری اور فوجی چپقلش کا مظہر تھی۔ افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے ٹائم فریم پر اوبامہ اور فوجی قیادت میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ صہیونی مالی و فکری سفرپرستی فوجی قیادت کے لئے ہے۔ جمہوری قیادت کیلئے نہیں۔ جبکہ اوباما کی جمہوری قیادت مخلوط ہے جس میں اوباما کے سیاسی و جمہوری حریف بش (چھوٹا، بڑا) ارکان بھی شامل ہیں۔ لہٰذا اوباما بش (پسر دیدر)کی طرح طاقتور صدر نہیں۔
ایبٹ آباد آپریشن صہیونی پالیسی کا خطرناک موڑ اور تبدیلی ہے۔ اسامہ بن لادن کی شہادت امریکہ میں جمہوری اور فوجی کشمکش کو مزید ہوا دے گا۔ امریکی شکست و ریخت سے صہیونی اور برہمنی اہداف متاثر نہیں ہوں گے۔ اس وقت صہیونی اور برہمنی اہداف مال سازی یعنی تجارتی ہیں۔ بٹگرام اسرائیلی و بھارتی سیاسی، فوجی اور تجارتی مرکز ہے۔ اس مرکز نے ریمنڈ ڈیوس کی سربراہی میں اپنا نیٹ ورک مکمل کر لیا ہے جو آپریشنز اور ایکشنز کیلئے ISI اور پاک افواج کا محتاج نہیں بلکہ مذکورہ دونوں سیکورٹی اداروں کو بے وقار اور بے وقعت بنانا مفقود و یہودکی پالیسی کا حصہ ہے اور پاکستان کے اندر یہی دو ادارے اسرائیل اور بھارت کا اگلا ہدف ہیں۔ جن کو عوامی اور انتظامیہ (اسٹیبلشمنٹ) سطح پر بے توقیر کرنا ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر قبض اور جارحانہ صدلاحیت کو برباد کرنا (مہران نیول بیس پر اور کمانڈوزکا بحفاظت فرار ہونا) شہر کے دانت نکالنے کے مترادف ہے۔ (جاری ہے)
اس وقت بھارتی اور اسرائیلی مشترکہ اہداف خطے میں تجارتی بالا دستی ہے جس کے لئے کسی حد تک مطلوبہ فوجی موجودگی ضروری ہے۔ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (تجارتی، راہداری) کا عملی تحفظ اور پاک بھارت تجارت کا فروغ اوّلین اہداف میں شامل ہے۔ اس ضمن میں دشمن کو فوج اور موجودہ پی پی پی سرکار سے زیادہ تجارتی سیاست کاروں کی ضرورت ہے۔ جو جلد یا بدیر (زیادہ دیر نہیں) اقتدار میں آ جائیں گے۔ صہیونی خطے میں اپنے اہداف کیلئے برہمنی بھارت کا سو فیصد دست نگر نہیںرہنا چاہتا ہے۔ لہٰذا صہیونی اہداف میں مسئلہ کشمیر کا تھرڈ آپشن کے مطابق حل شامل ہے۔ لہٰذا صہیونی کو عالمی اداروں کے ذریعے دو خود مختار یاستیں (بٹگرام اور کشمیر) یا اڈے میسر آ جائیں گے۔ صہیونی خطے میں دوبئی، کویت، امارات قطر وغیرہ کی طرح خود مختار تجارتی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے جس کیلئے اسرائیل اور ہندو بھارت کے انتہا پسند برہمنی صہیونی قیادت کو پاک افواج، ISI اور جوہری و اسلحی صلاحیت کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی شکست و ریخت بھی درکار ہے جس کے لئے (خاکم بدہن) پاکستان کی نیشن سیٹس (Nation States) قومیتی ریاستوں کے نام پر تسلی، لسانی ، صوبائی اور علاقائی تقسیم در تقسیم درکار ہے جو پاکستان کی قومی و ملی اور نظریاتی تدفین کے برابر ہے۔
خطے میں صہیونی و برہمنی مذموم اہداف کے ساتھ ساتھ روشن اور خوشحال پاکستان کے خدوخال بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اس وقت پاک افواج اور عوام کا حال بقول پروفیسر محمد منور:
حرم کی راہ چھوڑی کارواں نے!!
بچھڑ کر رہ گئے ہم کاررواں سے!
نظریاتی پاکستان کا قابل اعتماد دودست چین عالمی منڈی کا شہنشاہ ہے۔ فی الحال امریکہ و یورپ افریقہ و ایشیا کے علاوہ ہنود و یہود کو کسی حد تک معاشی چین کے دست شفقت کی ضرورت ہے۔ امریکی معیشت میں زوال کا گراف کسی حد تک چینی معاشی پالیسی کے تحت ٹھہرا ہوا ہے۔ بٹگرام، خود مختار کشمیر، پاکستان کی جغرافیائی شکست و ریخت، فوج، اور ISI کی تباہی چینی معیشت کو کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ چین ہنود و یہود سے کھلی جنگ نہیں کرے گا مگر پاکستان کو جنگ کے قابل بنائے رکھے گا۔ پاکستانی افواج اور ISI کے علاوہ خطے کی مضبوط ترین قوت مزاحمتی مجاہدین ہیں جو وقت کے ساتھ چین کے چھتری تلے جمع ہو جائیں گے۔ ماضی اور حال کے تمام اولیاءاللہ نظریاتی پاکستان کے عالمی طاقت بننے کی نوید دیتے ہیں۔ صوفی برکت علی، ڈاکٹر نذیر احمد قریشی اور دیگر اولیاءاللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ہاں اور ناں کیلئے عالمی فیصلے ہوں گے۔ پاکستان کی ہاں (ڈومور) میں امریکہ و اتحادی ممالک کی جیت ہے اور ناں (نومور) میں امریکہ و اتحادی کی ہار مضمر ہے۔ اللہ و رسول کی قدرت یہ ہے کہ نظریاتی و مزاحمتی پاکستان چین کی ضرورت بن گیا ہے۔ لہٰذاچین کی جان بھی مضبوط فوجی سیاسی پاکستان ہے۔ بقول:
کوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنا
نمایاں ہیں فرشتوں کے ہمقدم ہائے نیہانی
............