اعلان لاہور شملہ معاہدہ

صحافی  |  رشید ملک

سوموار کے روز شیفرڈ (لندن) میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ برطانیہ امریکہ اور برسلز میں جاتے ہیں کل کینیڈا جارہے ہیں آزادی سے گھوم پھر رہا ہوں لوگوں سے ملتا ہوں میں انشاءاللہ مارچ 2012ءمیں پاکستان کی سرزمین پر لینڈ کروں گا۔ انہوں نے جیب سے نکال کر وہ اعلامیہ پڑھا جو وزیراعظم نواز شریف کے دور میں بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے لاہور بس پر آمد کے دوران میاں نواز شریف اور واجبائی کے مابین گفتگو کے بعد جاری کیا گیا تھا جنرل پرویز مشرف نے دعویٰ کیا کہ اس مشترکہ اعلامیہ میں کشمیر کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ واجپائی کی آمد پر جب اس مشترکہ اعلامیہ کے مسودہ پر مشورہ ہو رہا تھا تو وہ بھی اس میں شریک ہو گئے تھے انہوں نے اس مشترکہ اعلامیہ کے مسودہ میں کشمیر کا ذکر اور اسکے حل کےلئے کمٹمنٹ شامل کرائی تھی لیکن جب اعلامیہ دونوں ملکوں کے سفارتی حکام اور وزرائے اعظم کے حتمی مشوروں کے بعد جاری کیا گیا تھا تو اس میں کشمیر کے بارے میں وہ حوالہ غائب تھا جو انہوں نے شامل کروایا تھا‘ جنرل پرویز مشرف نے لوگوں کو بتایا کہ میاں نوازشریف بھارت کے وزیراعظم واجپائی کی بس پر لاہور آمد اور دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ کو اپنی بڑی کامیابی بتاتے ہیں اس مشترکہ اعلامیہ میں تو کشمیر کے مسئلہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
جنرل پرویز مشرف کا لندن، برسلز، امریکہ اور کینیڈا میں آزادی سے گھومنا پھرنا ان کےلئے شاید سکون قلب کا سامان ہو لیکن وہ اپنے وطن میں واپس آنے کا نہ حوصلہ رکھتے ہیں اور نہ اپنا منہ کیونکہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کے ایک ٹیلیفون پر افغانستان پر امریکی حملہ کےلئے جس فدویانہ انداز میں اپنا کندھا پیش کر دیا تھا اور ہوائی اڈوں، لاجسٹک اور معلومات سپورٹ جو فراہم کر دی تھی۔ اسکے نتیجہ میں آج پاکستان مہم زار بن چکا ہے، ہمارے 35 ہزار معصوم افراد ہلاک ہو چکے ہیں پاکستان پر دہشت گردی کے مرکز کا ٹھپہ لگ چکا ہے آج امریکہ ہمارا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے پاکستان کے عوام جنرل پرویز مشرف کی اپنے اقتدار کے تحفظ کےلئے کسی سے مشورہ کئے بغیر یہ احمقانہ اور بصیرت سے محروم حرکت کبھی فراموش نہیں کر سکتے انکے اس بے ضمیری کے اقدام نے پاکستان کے وجود کو داﺅ پر لگا دیا ہے طالبان ہمارے دشمن بن گئے امریکہ بھی ہمارا دشمن ہو گیا ہے ہمارا ملک دہشت گردی اور بحرانوں کے گرداب میں پھنس کر دنیا میں بھی تنہا ہو چکا ہے بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ ہماری موجودہ قیادت حکومت اور اپوزیشن دونوں میں سے کوئی بھی جرا¿ت اور فکر تدبر و حوصلہ اور کوئی قابل عمل حکمت عملی قوم کے سامنے پیش نہیں کر رہے حکومت دم بخود ہو چکی ہے اپوزیشن نقطہ چینی سے اپنے لئے تسلی کا سامان کرتی ہے ٹھوس اور جامع حکمت عملی کہیں سے بھی سامنے نہیں آرہی ملک کو اس وقت اولین ترجیح کے طور پر فکری عمل یک جہتی کی ضرورت ہے یہ پیدا ہو جائے تو قوم کو امید کا سہارا مل سکتا ہے۔
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں۔ جنرل پرویز مشرف کا یہ الزام کہ واجپائی کی آمد پر جاری کئے گئے لاہور اعلامیہ میں کشمیر کے مسئلہ کا ذکر نہیں کسی حد تک درست ہے ہم نے پہلے بھی ان کالموں میں لکھا تھا کہ لاہور اعلامیہ میں لکھا ہے کہ دونوں ممالک شملہ معاہدہ کےمطابق مذاکرات کر کے مسائل حل کرینگے‘ راجہ ظفرالحق سے سنجیدہ اور باخبر رہنما اور صدیق الفاروق جیسے نقطہ رس سیاستدان لاہور اعلامیہ ایک بار پھر پڑھ لیں انہیں شملہ معاہدہ پڑھنا چاہئے شملہ معاہدہ ذوالفقار بھٹو نے ایک شکست خوردہ قوم کے لیڈر اور ایک سرنڈر کی ہوئی فوج کے وزیراعظم کی حیثیت میں کیا تھا ان کے مقابل میں اندرا گاندھی جیسی شاطر اور دشمن وزیراعظم بیٹھی تھیں شملہ معاہدہ کی پہلی شق میں اقوام متحدہ کی طرف سے کشمیر میں قائم کردہ سیز فائر کو لائن کنٹرول میں بدل دیا گیا اسکی حیثیت مقامی ہو گئی تھی، دوسری شق میں لکھا گیا تھا دونوں ممالک سلامتی کونسل کی قراردادوں پر اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے مذاکرات کرینگے اور مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرینگے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کا مطلب یہ تھا کہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی دونوں میں اتفاق ہو ہی نہیں سکے گا جیسا کہ آج تک مذاکرات میں کبھی اتفاق نہیں ہو سکا کشمیر کے بنیادی مسئلہ پر تو درکنار سیاہ چن کے مسئلہ پر کبھی اتفاق نہیں ہو سکا لیکن جنرل پرویز مشرف نے تو امریکہ کے دباﺅ پر بھارت کےساتھ جو بیک چینل ڈپلومیسی شروع کی تھی اسکے دوران انہوں نے یہ پیشکش کی کہ اگر بھارت لچک دکھائے تو ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈال کر مذاکرات کر سکتے ہیں جنرل کی اس غیرمدبرانہ پیش کش نے کشمیر کی بنیاد ہی ختم کر دی ہے۔ بھارت اس پیشکش کی روشنی میں ہم سے کوئی بھی مطالبہ کر سکتا ہے چنانچہ بیک چینل ڈپلومیسی کے دوران سابق صدر پرویز مشرف نے جو 4 نکاتی فارمولا پیش کیا تھا اسکی پہلی شرط کنٹرول لائن کو مستقل حیثیت دینا تھا گویا کہ کشمیریوں کی خون شام طویل جدوجہد پر ختم شد کی مہر لگانا تھا پاکستان کے قیام کےساتھ ہی دشمنوں کی فوج کشی پہلے مارشل لاءمیں سندھ طاس کے معاہدے دوسرے مارشل لاءمیں مشرقی پاکستان کے الگ ہو جانے تیسرے مارشل لاءمیں سیاہ چن پر بھارت کے قبضہ اور چوتھے مارشل لاءمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے پسپائی کی پیشکش اور 4 نکاتی فارمولا کی صورت میں بدنصیبی کے سائے چھاتے رہے ان کالے سایوں میں ملک کو جمہوری نظام اور سیاسی استحکام نصیب نہیں ہو سکا اب دہشت گردی کے گرداب نے پاکستان کو نڈھال کر دیا ہے ستم بالائے ستم یہ کہ قیادت کے اذیت ناک فقدان روشنی کی کرن کہیں سے نظر نہیں آرہی روشنی کی کرن اگر دکھائی دیتی ہے تو وہ پاکستان کے عوام کے حوصلوں اور جذبہ پاکستانیت میں ہے۔