یہ سازش ہے یا مکافات عمل ہے؟

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
یہ سازش ہے یا مکافات عمل ہے؟

بڑا دلچسپ واقعہ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ ایک دلچسپ شخصیت تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے حزب مخالف کے سرکردہ رہنما مولانا غوث ہزاروی کو بلوایا اور مخصوص کالا باغوی انداز میں کہا ”آپ آج کل حکومت کے خلاف بہت زہریلے بیانات دے رہے ہیں“ مولانا نے فوراً جواب دیا جناب فلاں صاحب تو مجھ سے زیادہ بڑھ چڑھ کر آپ کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں۔ نواب صاحب نے دھیمی آواز میں جواب دیا ”وہ ہمارا اپنا آدمی ہے“ کل جاوید ہاشمی نے حالات کے تحت کمزور پڑ جانے والے وزیراعظم کو تحفظ دینے کی کوشش میں بیان بازی کی اور کہا جرنیلوں‘ ججوں کی بھی بیرون ملک جائیدادیں ہیں ان کا احتساب کون کرے گا؟ جس طرح کچھ سیاستدانوں کے پارٹیاں بدلنے کی وجہ سے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کس کے اپنے آدمی ہیں اسی طرح اب عمران خان یہ بات جاوید ہاشمی کے لئے کہہ تو سکتے ہیں کہ ہمارے خلاف بیانات داغ رہے ہیں تو کیا ہوا کبھی ”ہمارا اپنا آدمی بھی رہا ہے“ جیسا کہ بابر اعوان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے لئے گرما گرم گفتگو کرتے ہوئے ذہن پر زور ڈالنا پڑتا ہے کہ یہ بھی اب تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ فردوس عاشق اعوان کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہوتا ہے مگر مجبوری یہ ہے کہ کیا کیا جائے؟ عمران خان کو بھی مضبوط گروپ کی ضرورت ہے یہ علیحدہ باد ہے کہ وہ عمران انہیں پارٹی لیڈر ہونے کی حیثیت سے سیدھے راستے پر چلائے رکھے۔ (آمین)۔ اب جاوید ہاشمی صاحب کی بات کرتے ہیں کہ اس بات کے مدنظر کہ جرنیلوں‘ ججوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے تو کیا پاکستان میں کبھی کسی کا احتساب ہونا ہی نہیں چاہئے؟ اور جو مرضی چاہے جس طرح کا لوٹ مار کا بازار گرم کئے رکھے؟ عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے ملک میں کرپشن کے اس ناسور پر برچھی لگائی ہے جس نے ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا شروع کر دیا تھا کیونکہ اس وقت پاکستان کے زیادہ تر ادارے سیاستدانوں کے ہی زیر اثر ہیں جہاں تعلیم حاصل کر کے بھی ”رہنما“ نہیں بن رہے ہیں بلکہ ”غلام“ پیدا ہو رہے ہیں اس لئے قابل تعریف ہے یہ بات کہ ”دیر آید درست آید“ کے مصداق احتساب شروع تو ہوا ورنہ اداروں کے اندر کی صورتحال یہ ہے کہ جسے ہالی وڈ کی فلم ”ہوٹل صحرا“ میں مشہور ایکٹر پیٹراسٹی نوف شمالی لیبیا میں واقع ہوٹل کا مالک ہوتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ جاری اور اس علاقے میں اٹلی کی افواج کا قبضہ ہے اس لئے اٹلی کا جھنڈا لہرا رہا ہے اور ہال میں اٹلی کے لیڈر مسولینی کی تصویر آویزاں ہے۔ پھر برطانوی افواج کا قبضہ ہو جاتا ہے تو جھنڈا اور تصویر بھی برطانوی نمایاں ہو جاتی ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جرمنی کا پلہ بھاری ہو جاتا ہے تو جرمنی کا جھنڈا اور ہٹلر کی تصویر فوقیت حاصل کر لیتی ہے یعنی ....
سورج مکھی کے پھول ہو تو بھی میرے حبیب
ہے چڑھتے آفتاب کی پوجا تجھے پسند
کہا جا رہا ہے آج کل سازشیں عروج پر ہیں۔ دراصل مکافات عمل عروج پر ہے۔ ہمارے محترم وزیراعظم چونکہ کاروباری خاندانی پس منظر کی حامل شخصیت ہیں اور جس ملک میں بھی جائیں وہاں کے کاروباری معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں آج کل انہیں ”مودی کا یار“ کہا جا رہا ہے اور انہیں ہر طعنہ سننا پڑ رہا ہے اور اگر وہ پاکستان کے حکمران ہونے کی حیثیت سے کاروباری تعلقات معطل رکھتے اور محض حکمرانی کر کے عوام کی خدمت کرتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور پھر کسی حد تک خود پسندی بھی حالات کی خرابی میں شامل رہی ہے حتیٰ کہ اداروں میں من پسند افراد لوٹ مار اور عیاشی میں ملوث رہے ہیں اور ان حضرات کا چیک اینڈ بیلنس رکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی تھی۔ وزیراعظم کاروباری سوچ کے ساتھ کچھ چیزیں اپنا سکتے تھے جن کا تعلق عوام کے ساتھ ہونا تھا مثلاً جاپان کی مثال لیتے ہیں وہاں ٹویوٹا فیکٹری میں ہر سال کارکنوں سے ایسی تجاویز لی جاتی ہیں جو ان کے کام اور ادارے کی بہتری کے لئے ہوتی ہیں پھر ان تجاویز پر انعامات دئیے جاتے ہیں اور یہ انعام ہمارے وزیراعظم کی فراخدلی کی طرح فوراً بیس بیس لاکھ کے کیش کی صورت نہیں ہوتا ہے جو کہ حادثوں میں دیا جاتا ہے بلکہ انہیں جنوبی امریکہ کے کسی ملک ان کی فیملی کے سمیت دو ماہ کی چھٹی اور سیرو تفریح کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔ یوں ملازمین کو دوسرے ملکوں کے کلچر سے سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور وہ غریب بھی برطانیہ امریکہ خاندان سمیت گھوم پھر آتا ہے اور عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوتی۔ جاپان میں تجاویز پیش کرنے کا نظام وضع کرنے کا بھی انوکھا طریقہ ہے جو کہ ضیاءالاسلام انصاری کی کتاب ”چڑھتا سورج“ میں درج ہے کہ ہر کارکن کو رائٹنگ پیڈ‘ نوٹ بکس‘ پنسل اور قلم دئیے جاتے ہیں۔ دن کو وہ کام کرتے ہیں اور رات کو کسی بھی وقت آنکھ کھلے اور کوئی تجویز ذہن میں آئے تو اسے لکھ کر وہ اسی وقت منتخب افسران کو فون کال کر کے بتا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں ”افسران“ کو رات کو فون کرنا کسی کارکن کے لئے ممکن نہیں۔ ”بادشاہوں“ کو کون تنگ کر سکتا ہے وہ آرام فرما رہے ہوتے ہیں۔ پھر ان کارکنان کے ”بینرز“ بھی لگائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ رواج دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں اس دور میں اس حکومت نے لوگوں کو غلام بنانے کا مسلسل عمل جاری و ساری رکھا ہے اس لئے عوام کی سوچ اور ذہنیت غلامانہ ہو چکی ہے۔
حکومتی رویوں کی وجہ سے کسی ادارے میں بھی چلے جائیں یوں محسوس ہو گا جیسے اس ادارے کا چیئرمین بادشاہ سلامت ہے۔ جاوید ہاشمی صاحب نے تقریر تو کی اور یہ مطالبہ بھی کیا کہ جرنیلوں‘ ججوں کا احتساب کیوں نہیں ہو رہا ہے مگر سچی بات ہے کہ عمران خان کے اقدامات سے احتساب کا عمل اب بھی شروع نہ ہوتا تواس ملک کی عوام کو غلامی سے بھی کوئی نجات نہیں دلا سکتا تھا اور پھر جمہوریت کو ”آمرانہ“ شکل بدلنے میں بھی اور کچھ زیادہ وقت درکار نہیں تھا۔ جب حکمران والدین یہ اہتمام بھی کریں گے کہ ان کے بچے پاکستانی عوام کے دوسرے نوجوانوں سے افضل ترین انداز میں پیش کئے جا سکتے ہیں تو آہستہ آہستہ اثرات تو مرتب ہوں گے جبکہ دوسری طرف عوام کو کسی دھارے میں شامل کرنے کی بجائے اور ”چیکس چیکس“ روپیہ پیسہ یا ”لیپ ٹاپ“ تھما کر شرمندہ کیا جاتا رہا ہے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ یہ سارا عمل جاپان کے انداز میں اختیار کیا جاتا اور قوم کے نوجوانوں اور غریبوں کو بھکاری نہ بنایا جاتا۔ خدا کرے کہ اس قوم کی بھی آنکھیں اور دماغ کھلے اور باعزت طرز حیات اپنانے کی طرف آئیں اور عمران خان کوبھی خدا تعالیٰ ”شادیوں“ کے شوق سے نکالے اور وہ قائداعظم کی طرح صبر و تحمل سے کوئی کارنامہ سرانجام دے سکے۔ لیڈر بننے کے لئے اپنے جذبات کی قربانی دینا پڑتی ہے ورنہ ہماری سیاسی تاریخ‘ کارناموں سے نہیں دلچسپ واقعات سے بھری نظر آئے گی۔ اپنا خیال رکھئے گا۔