ائر مارشل اصغر خان ۔ جیسا انہیں میں نے پایا

کالم نگار  |  سلطان محمود حالی
ائر مارشل اصغر خان ۔ جیسا انہیں میں نے پایا

ائر مارشل اصغر خان زیرک سیاست دان ، امن کارکن ، نامورمورخ، دانشور اور پاک فضائیہ کے پہلے پاکستانی سربراہ تھے۔ جہنیں اس عظیم ادارے کا حقیقی معمار تصورکیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنے کیرئر کی ابتدائ1939 میں بھارتی فوج سے کی لیکن دوسری جنگ عظیم کے باعث انہیں بھارتی فضائیہ میں منتقل کردیا گیا۔ آپ نے نمبر9 اسکواڈرن میں شمولیت اختیار کی اور برما کے محاذ پہ دلیری سے لڑے۔1944 میں آپ کو اس اسکواڈرن کی کمان سونپی گئی۔ آپ برصغیر کے پہلے ہواباز تھے جسے جیٹ لڑاکا طیارہ اڑانے کا شرف حاصل ہوا۔1947 میں تقسیم ہند پہ آپ نے پاکستان فضائیہ میں شمولیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بحیثیت ونگ کمانڈر آپ اپریل1948 میں رسالپور میں پاک فضائیہ ٹرینگ اسکول کی قیادت کررہے تھے۔تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاک فضائیہ کے مستقبل کے شاہینوں کی تربیت گاہ کا دورہ کیا اور اسے فلائنگ اسکول سے ترقی دے کر فلائنگ کالج کا رتبہ عطا کیا۔1967 میں اسے پی اے اکیڈمی کا رتبہ حاصل ہوا۔

ایک نوجوان اصغر خان نے بانی پاکستان کی ولولہ انگیز تقریر سنی جس میں انہوں نے فرمایا کہ’’ کوئی بھی ملک ایک مضبوط فضائیہ کے بغیر کسی بھی جارح کے رحم وکرم پہ ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی فضائی قوت کو جلدازجلد اتنا مضبوط بنایا چاہئے کہ اسکا کوئی ثانی نہ ہو۔ اصغر خان نے قائد کی ہدائت دل میں گرہ کی مانندباندھ لی۔1957میں36برس کی عمر میں آپ کو پاکستان فضائیہ کی کمان سونپی گئی تو آپ نے قائد کی ہدایت پہ عمل کرتے ہوئے اپنی ولولہ انگیز قیادت کے باعث ایسی ڈھال میں تبدیل کردیا جسکا کوئی ثانی نہیں۔1965 کی جنگ ہو یا 1971 کی ،زمانہ امن ہویا جنگ پاک فضائیہ نے عددی برتری میں اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔
اصغرخان کو ایسے کمانڈر ان چیف کے طورپر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے ہر پائلٹ، انجینئر ، افسروجوان کو ملک کے دفاع کی خاطراپنا تن من دھن قربان کردینے کے جذبے سے سرشارکیا جنہوں نے ناجائز مراعات نہ اپنے لئے استعمال کیں نہ کسی دوسرے کو کرنے دیں۔جو اصول پہ پابند رہے، دوسروں کو بھی اسکی ترغیب دی اور ہر ترقی اور تعیناتی کو میرٹ کی بنیاد پہ فوقیت دی۔ پاک فضائیہ کو جدید ترین طیاروں،ریڈار اور تربیتی اداروں سے پس کیا۔ نت نئے ریکارڈ قائم کئے۔ 2فروری 1958کو16سیبر طیاروں پہ مشتمل ڈائمنڈ فورمیشن نے دنیا میں پہلی مرتبہ لوپ بنا کر سارے عالم پہ پاک فضائیہ کی مہارت کی دھوم مچادی۔ اس سے قبل صرف9طیاروںکا لوپ برطانوی فضائیہ نے بنا یا تھا۔ یہی نہیں27اکتوبر1964کو پشاور میں انڈونیشی فضائیہ کے سربراہ عمردانی کے دورے کے موقع پہ 4بی57بھاری بھر کم بمبار طیاروں نے فضائی کرتب دکھا کر دنیا کو فرط حیرت میں ڈال دیا۔5اپریل1965 کو بھارتی فوج نے رن آف کچھ کے متنازعہ علاقے پہ قبضہ کرنے کی خاطر پیشقدمی کی تو پاک فوج نے چھڈ بیٹ اور بیار بیٹ کے درمیان اپنے دستے تعینات کردئے تاکہ بھارتی فوج کا راستہ روکا جاسکے۔ بھارتی فضائیہ نے اپنا لڑاکا طیارہ بری فوج کی امداد کو بھیجا تو پاک فضائیہ نے اسے ما رگرایا۔ اپنی فضائیہ کو چوکس رہنے کا حکم دینے کے ساتھ اصغر خان نے ایک شاطر انہ چال چلی۔ پاک فضائیہ کاکوئی بھی ائربیس رن آف کچھ کے قریب نہ تھا جبکہ بھارتی فضائیہ کے تین جنگی لڑاکا طیاروں سے لیس ائربیس کے قرب وجوار میں تھے اور ضرورت پڑنے پروہ پاک فوج کے زمینی دستوں کو بھون کر رکھ دیتے۔اس کے باوجود اصغر خان نے بھارتی فضائیہ کے کمانڈران چیف ائر چیف مارشل ارجن سنگھ کوٹیلی فون کیا اور تنبیہ کی اگر بھارتی فضائیہ رن آف کچھ میں اپنی بری فوج کی مدد کوآئی تو پاک فضائیہ کو آزادی ہوگی کہ وہ بھارت کے کسی بھی حصے پہ حملہ کرکے اسے تہس نہس کر دے۔ ارجن سنگھ، ملٹری کالج دہردون میں اصغرخان کے ہم جماعت تھے اور اسکی پیشہ وار نہ صلاحیتوں سے بخوبی واقف تھے لہذا انہوں نے خوفزدہ ہوکر بھارتی فضائیہ کو محاذ جنگ سے دور رہنے کا حکم دیا یوں اصغر خان نے اپنی بری فوج کو نہ صرف تباہی سے بچالیا بلکہ رن آف کچھ میں کامیابی سے ہمکنار کیا۔
میں نے اصغر خان کی پہلی جھلک اس وقت دیکھی جب نئی1965 میں بطور کمانڈران چیف وہ پی ایف پبلک اسکول سرگودھا کے معائنے پہ آئے جہاں میں طالب علم تھا۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ مسٹر ہیو کیچپول جو ہمارے پرنسپل تھے وہ دورے کے دوران آگے چل رہے تھے اور اصغر خان ان کے بائیں جانب باادب طورپر ایک قدم پیچھے چل رہے تھے کیونکہ ملٹری کالج دہرہ دون میں زمانہ طالب عملی میں مسٹر کجچیول اصغرخان کے استاد تھے۔ ہمیں یہ سبق ملاکہ آپ رتبے میں کتنے اونچے مقام پہ بھی پہنچ جائیں اپنے استاد کا احترام لازمی ہے۔ائر ٹرانسپورٹ کمانڈ جہاں میں نے کمیشن حاصل کرنے کے بعد شمولیت حاصل کی، ہمارے بیس کمانڈر ائروائس مارشل مسعود خان ستارہ جرأت نے ایک چشم دیدواقعہ سنایا کہ اصغر خان جب فضائیہ کے سربراہ تھے تو انہوں نے درخواست کی کہ کوئی سی ون تھرٹی طیارہ کراچی جارہا ہو تو انکی بیگم کو بھی لے جائے کیونکہ انہیں وہاں کوئی کام تھا۔ مقررہ وقت اور تاریخ کو اصغر خان خود اپنی بیگم کو سی ون تھرٹی پہ سوار کرانے آئے تو دیکھا کہ سی ون تھرٹی طیارے میں جوانوں کے لئے جوعام سیٹیں نصب ہوتی ہیں انہیں ہٹاکر ان کی بیگم کے آرام کی خاطر وی آئی پی سیٹیں نصب کی گئی تھیں۔ اصغر خان یہ منظر دیکھ کر غصے میں آگئے اور حکم دیا کہ فوری طورپر وی آئی پی سٹیس اتار کر عام سپاہیوں والی سیٹیں نصب کی جائیں اور آئندہ نہ انکے لئے یا انکی فیملی کے لئے بھی وی آئی پی سیٹیں نصب نہ کی جائیں۔
23جولائی1965 کو اصغر خان نے ریٹائرمنٹ کی درخواست کی۔ انہیںدکھ تھا کہ فضائیہ کے سربراہ کوبے خبر رکھ کر آپریشن جبرالٹر شروع کیا جارہا تھا جسکی بناء پر ملک کی سالمیت دائو پہ لگائی جارہی تھی۔ یہ پاکستان کی خوش نصیبی تھی کہ انکے جانشین نور خان بھی بہترین کمانڈر ثابت ہوئے۔6ستمبر1965 کو جب بھارت نے پاکستان پہ بھرپور حملہ کیا تو اصغر خان کی تیار کی ہوئی پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ اور اسکی بری فوج کے دانت کھٹے کر دئیے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد اصغر خان کو قومی ائرلائن کا سربراہ مقرر کیا گیا ۔ انہوں نے اس ادارے کو بھی چار چاند لگا دئے۔ اور جلد ہی پی آئی اے دنیا کی صف اول کی ائرلائن بن گئی جسکے طیاروں کی ایکسیڈنٹ کی شرح سب سے کم تھی اور نفع سب سے زیادہ۔ اصغر خان نے پی آئی اے کے منافع نہ صرف ائر لائن کو فائدہ پہنچایا بلکہ منافع کی رقم سے دنیا بھر میں بہترین ہوٹل خرید لئے جن سے آج بھی پی آئی اے نفع کما رہی ہے۔ پی آئی اے اور اسکے عملے کے مسائل سے آگاہی کی خاطر اصغر خان نے باقاعدہ امتحان دے کر ائر لائن پائلٹ کالائسنس حاصل کیا اور خود جہاز اڑاتے۔ انکے دور کو پی آئی اے کے سنہری دور کے طورپر یاد کیا جاتا ہے۔
میری اصغر خان سے انکی ریٹائرمنٹ کے بعد ملاقاتیں جاری رہیں۔ وہ اپنے گھر پہ کبھی ظہرانے اور کبھی چائے پہ مدعو کرتے۔ جب میں نے صحافت اختیار کی تو آپ رہنمائی بھی کرتے اور مجھ سے مشورہ بھی لیتے۔ایک مرتبہ انہوں نے واقعہ سنایا کہ1947 میں جب انہوں نے بھارت چھوڑ کر پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو وہ جس سرکاری کوارٹر میں دہلی میں قیام پذیر تھے وہ بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر سوری کوالاٹ ہوا۔ سوری صاحب گھر دیکھنے آئے تو اس وقت اسکواڈرن لیڈر اصغرخان اور انکی بیگم اپنا سامان باندھ رہے تھے۔ سوری صاحب نے دریافت کیا کہ اصغر خان کیسے سفر کریں گے تو انہوں نے بتایا کہ ٹرین میں سیٹیس بک کی ہیں۔ سوری صاحب نے کہا کہ ٹرنیوں پہ بلوائی حملہ کررہے ہیں میں تمہاری سیٹیں گورنر جنرل کو جو طیارہ کراچی لے جارہا ہے۔ اس پہ کرادیتا ہوں ۔ یوں اصغر خان پاکستان بحفاظت پہنچے اور جس ٹرین پہ انہوں نے سفر کرنا تھا اسکا ایک مسافر بھی زندہ نہ پہنچا۔
5جنوری 2018 کو آپ 97برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ کچھ ہی عرصہ قبل پاک فضائیہ نے پی اے اکیڈمی رسالپور کا نام اصغر خان سے منسوب کردیا تھا۔ اللہ غریق رحمت کرے اور ہمیں اس بااصول انسان اور باکردار لیڈر کے بتائے ہوئے راستے پہ ثابت قدمی سے چلنے کی ہدایت دے (آمین)