قتل ہوجاتی ہیں پھر یہ بچیاں

کالم نگار  |  ظفر علی راجا
قتل ہوجاتی ہیں پھر یہ بچیاں

9جنوری کو قصور میں ہونے والے ایک المناک حادثے کا دل ہلادینے والا انکشاف ہوا ہے ۔ اس انکشاف نے پورے پاکستان کو غمزدہ کردیا ہے اورتمام پاکستانی عوام اور اداروں میں ایک زلزاہٹ کی کیفیت طاری کردی ہے ۔ اس دردناک حادثے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ5 جنوری کو قصور کے رہائشی محمد امین انصاری کی سات سالہ بیٹی زینب جو پڑھنے کے لئے مدرسہ جارہی تھی وہ شام تک گھر واپس نہیں آئی۔ زینب کے والدین عمرہ کرنے کے لئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے ۔ زینب جب شام تک واپس نہیں آئی توگھروالوں نے اس کی تلاش شروع کی۔ پہلے زینب کے رشتہ داروں سے رابطہ کیا توسب نے بتایا کہ زینب یہاں نہیں آئی۔ اس کے بعد دوسری بہت سی جگہوں پر اسے تلاش کیا گیا لیکن کہیں سے اس کی خبرنہیں ملی۔ تلاش میں ناکامی کے بعد متعلقہ پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس اور رشتہ داروں کی کاوشات کے نتیجے میں زینب کی لاش شہباز خان روڈ کے ایک کھنڈر سے مل گئی۔ لاش کا ایک سرکاری ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کروایا گیا تو راز طشت ازبام ہوا کہ اس بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا اوراس کی لاش کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دی گئی تھی۔ ایک تحقیقی رپورٹ یہ بھی سامنے آئی کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ضلع قصور کی حدود میں دس سے زیادہ ایسے واقعات ہوچکے ہیں۔ کوڑے کے ڈھیروالی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او قصور پولیس کے افسران اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد شہبازخان روڈ کے کوڑا بردار کھنڈر تک پہنچی اور بچی زینب کی لاش کو اٹھا کر پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال پہنچایا۔ بعدازاں ایک ایسی کیمرہ ریکارڈ فلم بھی دریافت کرلی گئی جس میں زینب اغوا کار کے ساتھ جاتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہے۔

آگیا ظالم وہ اس تصویر میں
موت ہے لکھی گئی تقدیرمیں
اس کے بعد ایک نیا حادثہ ہوگیا ۔ اس حادثے نے دوشہریوں کی جان لے لی۔ ہوا یوں کہ بہت سے لوگ ڈپٹی کمشنرقصورسائرہ عمرکے دفترکے آگے جمع ہوئے اور ڈپٹی کمشنرصاحبہ کو دفترسے باہر آکر شکایات سننے کے نعرے لگائے لیکن ڈپٹی کمشنرصاحبہ کمرے سے باہر نہیں نکلیںبلکہ گھبراکرپولیس والوں کو بلایا اور مجمع منتشر کرنے کا حکم دیا تاکہ مظاہرین دفترکے اندر داخل نہ ہوسکیں۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن حالات ان کے کنٹرول سے باہر ہوگئے توپولیس والوں نے پہلے ہوائی فائرنگ کی لیکن مظاہرین آگے بڑھنے لگے توانہوں نے بندوقیں نیچی کرکے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ دونوں مرحومین کی لاشیں قصورکے ایک ہسپتال میں لائی گئیں تومرحومین کے ورثاء اور شہریوں نے ہسپتال کے مردہ خانے سے لاشیں نکال کرسڑک پر رکھ دیں اور زبردست احتجاج کا آغاز کردیا۔ اب پولیس والوں نے یہ کیا کہ قصور کی بڑی شاہراہیں بندکردیں۔ شہری نعرے لگا رہے تھے کہ متعلقہ پولیس والوں کو گرفتارکرکے ان پر قتل کے مقدمے بنائے جائیں۔ مظاہرین نے ڈی سی آفس کا گیٹ توڑدیا اور انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرہ بازی کرتے رہے ۔ بعض ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ڈپٹی کمشنرنے ہی گولی چلانے کا حکم جاری کیا تھا اس کارروائی میں چارافراد زخمی بھی ہوئے جنہیں علاج کے لئے جنرل ہسپتال لاہور میں منتقل کردیا گیا ہے۔ اس احتجاج کے نتیجے میں دوپولیس اہل کاروں اور دوسول ڈیفنس کے اہل کاروں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں گرفتارکرلیا گیا ہے۔ متعلقہ پولیس افسران نے ویڈیو ریکارڈنگ دیکھ کر اغوا کار کا ایک خاکہ بھی ٹیلی ویژن پر جاری کردیا اور یہ اپیل بھی کی کہ اگرکسی نے اس شخص کو کہیں دیکھا ہے جس کی تصویر ٹی وی چینلوں پر دکھائی جارہی ہے تووہ فوراً متعلقہ تھانے میں آکر اس جگہ کی نشاندہی کرے جہاں مذکورہ مجرم دیکھا گیا ہے۔ ویڈیومنظرعام پر آنے کے بعد پولیس حکام نے بتایا کہ مجرم کے خاکے میں اس کے نقوش درست نہیں ہیں لیکن مجرم کے نقوش اس خاکے سے بہت مشابہت رکھتے ہیں ۔ مقتولہ زینب کے بھائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میری بہن پر حملہ نہ صرف یہ کہ قصور کے عوام پر حملہ ہے بلکہ یہ پورے پاکستان کی معصوم بچیوں پر حملہ ہے۔ پاکستانی عوام کو اس واقعہ پر بھرپور احتجاح کرنا چاہئے اگرہم آج باہر نہ نکلے توپھرایسے ظالمانہ واقعات رک نہیں سکیں گے۔اس المناک قتل پر پورے ملک میں ردعمل دیکھنے میں آیا‘ سب بڑے بڑے سیاست دانوں نے مذمتی بیانات جاری کئے۔ سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ اس سانحے کی تحریری رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کروائی جائے تاکہ اس رپورٹ کی روشنی میں عدالتی کارروائی کا آغاز کیا جاسکے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے قاتل کی گرفتاری اور اسے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے سول انتظامیہ کے ساتھ مکمل تحقیقی تعاون کی پیشکش کی ہے تاکہ ایک یا ایک سے زائد ملزمان کو عبرتناک سزادی جاسکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف رات کے پچھلے پہر قصور میں مقتولہ بچی کے گھر پہنچے اور گھروالوں کو یقین دہائی کروائی کہ بچی کے قاتل کو ڈھونڈ کرایک مثالی سزا دلوائی جائے گی۔ شہباز شریف نے پولیس فائرنگ پر بھی اظہارناراضگی کرتے ہوئے ڈی پی او قصورکو عہدے سے برطرف کردیا اور ایک آئی ٹی بناکر اسے حکم دیا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر وزیراعلیٰ کو مکمل رپورٹ مہیاکی جائے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
مجرمانہ فعل اغوا کارکرتے ہیں سبھی
قتل ہوجاتی ہیں پھر یہ بچیاں
اب درندے آدمی کے بھیس میں
کیسے کیسے جرم کرتے ہیں یہاں