’’آزادی‘‘ کس کو ملی؟

کالم نگار  |  سید روح الامین
’’آزادی‘‘ کس کو ملی؟

بلاشبہ وطن عزیز پاکستان قائداعظمؒ اور ان کے دیگر رُفقاء کی معاونت سے 14 اگست 1947ء کو معرض وجود میں آیا۔ پاکستان لاریب میراث قائداعظمؒ ہے۔قیام پاکستان کے ذریعے مسلمان اپنے سیاہ و سفید کے مالک ہوگئے ورنہ وہ ہمیشہ ہندو اکثریت کے زیر فرمان رہتے اور اُن کے دین و فرہنگ کے پنپنے کے کوئی امکانات نہ تھے۔ 14 اگست 1947ء کو ہندوئوں سے تو ہمیں نجات مل گی مگر سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد آج 69 سال بعد بھی پورے ہوسکے ہیں کہ نہیں؟ تو اُس کا جواب یقینا نفی میں ہے، بدقسمتی سے قائداعظمؒ کو قیام پاکستان کے بعد صرف 13 ماہ حکومت کرنے کا موقع ملا اور اس دوران وہ شدید قسم کے مسائل سے دوچار رہے اس لئے نفاذ اسلام کے سلسلے میں بھی وہ ضروری اقدامات نہ کرسکے۔ نوزائیدہ مملکت پاکستان جاگیرداروں کے ہتھے چڑھ گیا۔ جن کے نزدیک مقاصدِ پاکستان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ملک پر وہ ہی کسی نہ کسی طرح قابض ہیں۔ اُن کے نزدیک عوام کی حیثیت ’’مزارع‘‘ کی طرح ہے۔ بعد میں صنعت کار بھی حکومت میں شامل ہوگئے جنہوں نے عوام کو ’’مزدور‘‘ سے زیادہ عزت و مقام دینا مناسب نہیں سمجھا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہی طبقات حکومت پر قابض ہیں۔ کروڑوں‘ اربوں کی جائیدادیں بنا کر بھی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ آج 69 سال بعد بھی غریب عوام کا بُری طرح استحصال ہورہا ہے۔ کوئی بھی اُن کا پُرسانِ حال نہیں، وہ روٹی کے لئے ترستے ہیں اور ان ظالم حکمرانوں کی اولادوں کے نام پر بھی اندرون و بیرون ملک کھربوں کی جائیدادیں ہیں۔ جن کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ حقیقی ’’آزادی‘‘ تو ان لٹیروں کو ملی تھی۔ جن کے سامنے نہ تو کوئی ملکی قانون کی حیثیت ہے نہ ہی انہیں ملکی اداروں کی پرواہ ہے۔ اگر اربوں روپیہ لوٹنے کے بعد یہ لوگ کوئی سکول کی عمارت بنواتے بھی ہیں تو وہ بھی اپنے باپ دادا کے نام پر۔ جیسے یہ اپنی ذاتی جیب سے بنوا رہے ہوں۔ ان کی ’’جمہوریت‘‘ کے ثمرات بھی ان تک ہی محدود رہتے ہیں۔ غریب آدمی کے لئے جینا بھی دو بھر ہوگیا ہے۔ ’’آزادی‘‘ تو اِن کو ملی تھی۔ آج تھانوں پر یہ لوگ قابض ہیں، ان کی اجازت کے بغیر تھانوں میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ عوام دہشت گردی میں ہزاروں مَرچکے ہیں۔ بچے آئے روز اغواء ہورہے ہیں۔ عورتوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں، لاقانونیت ‘ مہنگائی کا راج ہے مگر اِن کی بلا سے؟ ان کے سر میں درد بھی ہو تو خصوصی طیاروں میں لندن آنا جانا ہوتا ہے، عوام کو جعلی دوائیاں ملتی ہیں ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر یہ ’’آمروں‘‘ سے بھی بدتر ہیں۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ ہندو ہمارا ازلی و ابدی دشمن ہے، 69 سال سے کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے مگر یہ محض رسمی بیانات دے کر اور ’’مذمت‘‘ کرکے خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ ہندوئوں کے ساتھ ان کے کاروبار اور گہرے مراسم ہیں، گہری دوستیاں ہیں۔ ملک کے حالات بد سے بدترین ہیں مگر یہ ہشاش بشاش دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے محلات تو دبئی اور یورپین ممالک میں ہیں۔ یہاں تو یہ بزنس کرنے آتے ہیں الیکشن میں دس کروڑ لگایا اور اربوں کمائے دیگر ادارے تمام اندھے گونگے بہرے ہیں۔ ان حالات کی نشاندہی قائداعظمؒ نے اپریل 1942ء میں کردی تھی۔ قائداعظمؒ نے فرمایا ’’ملک کے سرمایہ داروں کو محسوس کرنا چاہیے کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات فراموش کررکھی ہیں۔ کیوں کہ لاکھوں مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ بمشکل ایک وقت کھانا کھانے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ کیا تمدنی ترقی یہی ہے؟ اور پاکستان کا مقصد یہی ہے کہ دوسروں کا استحصال ہو؟ میں اس بات کی اجازت نہ دوں گا‘‘۔
آج نام نہاد ان ’’جمہوری‘‘ حکمرانوں کا مقصد ہی دوسروں بالخصوص غریب عوام کا استحصال ہے۔ دیگر طبقات بھی اس ’’آزادی‘ ‘سے فائدہ اٹھا کر اپنے اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں مگن ہیں۔ قیامِ پاکستان کے مقاصد کا نہ تو کسی کو علم ہے اور نہ ہی فکر؟ کل جن کو پاکستان کے نام سے بھی نفرت تھی آج وہ اُسی پاکستان کے مالک بنے بیٹھے ہیں اور یہاں رہ کر بھی اس کی معاذ اللہ بربادی کا ہی سوچتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے کئی سال قبل ان کے بارے فرمایا تھاکہ ’’علماء میں ملائیت رہ گئی ہے۔ یہ گروہ حق کہنے سے ڈرتا ہے۔ صوفیاء اسلام سے بے پرواہ ہیں۔عوام میں جذبہ موجود ہے مگر اُن کا کوئی بے غرض راہ نما موجود نہیں‘‘۔
یوں لگتا ہے کہ اقبالؒ نے ہمارے موجودہ دور کی عکاسی کئی سال قبل کردی تھی۔ پھر بھی ’’آزادی‘‘ مبارک ہو؟