’’وزیر لوڈشیڈنگ‘‘ کی ’’جدید‘‘ منطق!

کالم نگار  |  سید روح الامین
’’وزیر لوڈشیڈنگ‘‘ کی ’’جدید‘‘ منطق!

اسمبلی کے اندر اپنی باتوں سے گرما گرمی پیدا کرنے والے ن لیگ کے ’’بزرگ‘‘ سیاستدان خواجہ آصف گرمیوں کی آمد کے ساتھ ’’میدان‘‘ میں آگئے ہیں۔ یہ موجودہ حکومت کی بدقسمتی ہے کہ پانامہ لیکس کے ساتھ ساتھ مارچ کے آخر میں گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ وزیر لوڈشیڈنگ اور وزیراعظم صاحب اکثر سردیوں کے دوران یہ دعوے کر چکے ہیں کہ ہم نے لوڈشیڈنگ کو ختم کر دیا ہے۔ چند روز قبل خادم اعلیٰ پنجاب نے تو یہ بھی فرما دیا ہے کہ بجلی اس قدر وافر مقدار میں ہو گی کہ ہم مودی کو کہیں گے کہ ’’مودی صاحب آئیے بجلی لے جائیے‘‘ اب چونکہ ہمارے ہاں لوڈشیڈنگ میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہمیں یہ بھی خوف ستائے جارہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مودی صاحب کہہ ہی نہ دیں کہ ہمیں بھی بجلی دیجئے تو ہمارے حکمرانوں کی عزت کو خطرہ لاحق ہو گا۔ ’’وزیر لوڈشیڈنگ‘‘ خواجہ آصف نے گذشتہ دنوں نیوز کانفرنس حسب روایت وہی پرانی باتیں جدید انداز میں کر کے عوام کو وعدہ فردا پر ٹرخانے بہلانے کی پوری کوشش کی ہے لیکن اب عوام خواجہ صاحب کو اچھی طرح جان چکے ہیں۔ خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اچانک گرمی میں اضافہ ہو گیا ہے اور یہ کہ جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے اُدھر ریکوری نہیں ہوتی، وغیرہ۔ خواجہ صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ چار سال سے آپ لوگ لوڈشیڈنگ کی مد میں کھربوں روپیہ کئی منصوبوں پر لگا چکے ہیں۔ ذرا یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ چار سال میں کتنے میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل ہوئی جو آپ بار بار دعوے کرتے ہیں کہ 2017ء میں لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ ابھی تو کم ہی نہیں ہو رہی، 2017ء میں ختم کیسے ہو گی؟ بجلی چوری کا واویلا کسی عام شہری کو تو زیب دیتا ہے۔ خواجہ آصف جو وزارتوں کا قلمدان سنبھالے بیٹھے ہیں۔ جناب بجلی چوروں کو پکڑنے کے لئے کیا فرشتے آسمان سے اتریں گے۔ آپ اور آپ کا محکمہ کس مرض کی دوا ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے تو وزیر بھی دو ہیں۔ اگر ابھی بھی کم ہیں تو ایک اور وزیر رکھ لیں۔ آپ حکومت میں ہیں، تمام فورسز آپ کے ماتحت ہیں، اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے بار بار یہ رونا رونا کہ بجلی چوری ہوتی ہے ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ بجلی چوروں کو پکڑنا آپ کا کام ہے۔ جب آپ کو پیسوں کی ضرورت تھی تو میٹر ریڈر کم ہونے کا بہانہ کر کے فراڈ سے آپ کی حکومت نے دو سال قبل بھاری بل بھیج کر 80 ارب قوم سے لوٹ لئے تھے۔ کیا آپ وہی کلیہ استعمال کر کے بجلی چوروں کو نہیں پکڑ سکتے؟ بجلی چوری عام شہری نہیں کرتے وہ بھی اشرافیہ ہی کرتے ہیں۔ 2013ء میں جب زرداری کے تاریک دور سے عوام کی جان چھوٹی تو ن لیگ کے دعوئوں اور وعدوں نے عوام کے اندر ’’اُمید‘‘ پیدا کی کہ ہم دیگر مسائل کے ساتھ ’’لوڈشیڈنگ‘‘ کے خاتمے کو اولین ترجیح دیں گے اور سب سے پہلے یہ مسئلہ حل کریں گے۔ غربت، بیروزگاری میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی بھی آسمان کو چھو رہی ہے۔ لاقانونیت عروج پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میں 480 ارب کمپنیوں کو دیئے پھر چار سال نئے نئے دعوے لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کے سننے کو ملتے رہے۔ سردیوں میں تو بجلی کا استعمال ہی کم ہوتا ہے جس سے خواجہ صاحب کا بھرم رہ جاتا ہے۔ ابھی تو گرمی کا آغاز ہے تو دس سے بارہ گھنٹے بھی بعض مقامات پر لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جون جولائی 18 سے 20 گھنٹے بھی ہو جائے گی تو ہمارے محترم وزیراعظم صاحب نے الیکشن کے جلسوں میں عوام سے ہاتھ اٹھوا کر یہ پوچھا تھا کہ بتائیے آپ کے ہاں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ناں تو عوام نے ہاں میں جواب دیا۔ وزیراعظم صاحب نے ایک بار نہیں کئی بار وعدہ کیا کہ ہم اندھیروں کو ختم کریں گے تو اب اگر چار سال بعد بھی گرمیوں میں اٹھارہ گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ ہوتی ہے تو موجودہ حکومت کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہی ہو گی؟ وزیر لوڈشیڈنگ کا یہ کہنا کہ بجلی چوری ہوتی ہے، ریکوری نہیں ہوتی یہ اب سب پرانی باتیں ہیں۔ اب نئی ’’ڈرامہ بازی‘‘ کرنا ہو گی۔ اب محض باتوں سے دل نہیں بہلائے جائیں گے۔ آخر میں عوام الناس کی طرف سے ایک اہم بات عدالتِ عظمیٰ جو ماتحت عدالتوں کے انصاف تاخیر سے دینے پر برا مناتی ہے، پانامہ کا فیصلہ جو کہ پورے ملک کے لئے ایک روشن مثال ہو گا اُس میں تاخیر؟ چہ معنی دارد؟