نواز شریف واقعی مشکل میں ہیں؟

کالم نگار  |  عالیہ شبیر
نواز شریف واقعی مشکل میں ہیں؟

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور سیاست کی سطح ناہموار نظر آرہی ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن ایک طرف کھڑی ہے تو باقی سب سیاسی جماعتیں اپنے اپنے سیاسی مفادات کے تحت ان ڈائریکٹ یا ڈائریکٹ مسلم لیگ ن کو نشانہ بنارہی ہیں۔
سیاست کی یہ ناہمواری پانامہ لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کی فیملی کے نام سامنے آنے کی وجہ سے پیداہو ئی ہے۔ حالانکہ عالمی ٹیکس چوری سکینڈل میں 200پاکستانیوں کے نام ہیں۔ مگر چونکہ نوازشریف اس وقت حکومت میں ہیں اور سیاست کا اصول یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکمران جماعت پر تنقید کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کرتیں۔ دنیا کی بڑی بڑی جمہوریتوں میں یہی پریکٹس ہوتی ہے، مگر پاکستان کی نابالغ سیاست اور چھایہ چھتر کے طلبگار سیاستدان ہمیشہ اقتدار تک پہنچنے کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اور سیاست کے کھیل میں اقتدار تک پہنچنے کی ہر سیڑھی استعمال کرنے کو ہی حقیقی سیاست کہتے ہیں۔
اس وقت نواز شریف حکومت دباﺅ میں دکھائی دیتی ہے اور اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ نمبر ایک یہ کہ پانامہ لیکس جیسے پیپر میں نواز شریف کے بچوں کا نام عالمی سطح پر آیا ہے۔ دنیا میں پانامہ لیکس میں آنے والی آف شور کمپنیوں کو عالمی ٹیکس چوری قرار دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اب تک تین سربراہان مملکت استعفیٰ دے چکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو جس طرح دباﺅ کا سامنا ہے، قوی امکان ہے کہ وہ بھی استعفیٰ دے دیں۔
دوسرا، پاکستان تحریک انصاف سب سے متحرک اپوزیشن اور ہمیشہ مسلم لیگ ن کی مخالف اور مسلم لیگ کے خلاف سیاست کرتی رہی ہے۔ اب اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی۔ تیسری وجہ چھپی ہوئی ہے۔ جس کا ذکر وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں بھی کیا تھا کہ یہ ایک سازش ہے۔ اب اگر کوئی سازش ہے تو اس کے objectives بھی ہوں گے اور وہ کیا ہیں؟ یہ تو کوئی نہیں جانتا۔ بہر حال تحریک انصاف نے اس موقع پر وہی کیا اور عمران خان نے قوم سے بھرپور خطاب بھی کرڈالا۔ عمران خان مکمل طور پر چارج لگ رہے تھے اور ساتھ ساتھ ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا ذکر بھی کر دیا اور رائیونڈ مارچ کا عندیہ بھی دے دیا۔ جس نے سیاست میں دھوئیں کو مزید ایندھن دے دیا۔
یہ تو طے ہے کہ اگر عوام اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کا پریشر نہیں ہوگا۔ یہ آف شور کمپنیوں اور وزیراعظم پر اٹھنے والی گتھی سلجھ نہیں سکتی۔ مگر جمہوریت پسندوں کو خوف ہے کہ کہیں اس کی آڑ میں جمہوریت کا بستر گول نہ ہوجائے۔ مگر سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد نہ کیا تو کوئی ایک سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کا کچھ نہیں بگاڑ پائے گی۔ جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو سولو فلائیٹ کا طعنہ بھی دیا جارہا تھا۔
اسی لیے تحریک انصاف نے پی پی اور جماعت اسلامی کے ساتھ مشاورت کی ہے اور کچھ حد تک اتفاق رائے بھی ہے۔ مگر لگتا نہیں ہے کہ پی پی نوازشریف کے ساتھ Reconciliation کی پالیسی یا پھر حقایتی پالیسی یا پھر جمہوریت کی بقا کی خاطر نواز شریف کو اکیلے نہیں چھوڑے گی، اور کچھ لو اور کچھ دو پی پی اس اتحاد پہلی بار نہیں کہ حکومت یا حکمران کے خلاف اتحاد بننے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کئی اتحاد بنے اور بڑے مضبوط اتحاد بنے جنہوں نے حکومتوں کو رخصت کیا۔ پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) پاکستان کی سیاسی تاریخی کا اہم اتحاد گزرا ہے۔ پھر ایم آر ڈی بنی۔ جو ضیاءالحق کی حکومت کے خلاف تھی اور تاریخ کی سب سے لمبی تحریک تھی، جس میں پی پی پی کا مرکزی کردار تھا۔ یہ ہی وہ تحریک تھی جس میں کوڑے اور جیلیں ہوئیں۔ سینئر صحافی اور اس تحریک کے چشم دید گواہ بھی تھے۔ یہ وہ تحریک تھی جس میں ریگل چوک پر جلوسوں کے جلوس غائب کردئیے گئے تھے۔ ہر روز تشدد اور گرفتاریاں ہوئی تھیں۔ پھر اسلامی جمہوری اتحاد بنی، جس کونواز شریف نے ہیڈ کیا۔ تاریخ میں پی ڈی اے سے لے کر پی ڈی ایف اور ”پاکستان عوامی اتحاد“ جیسے اتحاد بنتے رہے۔
شاید اب ماضی کی طرح کا توانا اتحاد تو نہ بن سکے۔ مگر عمران خان اگر رائیونڈ جاتے ہیں تو کیا وہ عوامی طاقت کی حمایت اس قدر حاصل کرسکیں گے کہ حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوسکے گی؟ عالمی سطح پر کئی حکمرانوں کی رخصتی اور کئی ایک کے لڑکھڑاتے قدم تو یہی بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی بننے والے اس تحرک کے نتیجے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ الزامات کے جوابات الزمات سے دینے کے بجائے حقیقی حل پر توجہ دے۔ ہر خرابی کو ”سازش“ کہہ دینا اور اپنی ہر نااہلی کے جواب میں محض مگرمچھ کے آنسو بہا دینا کوئی حل نہیں۔