”تعلیم اور قائداعظمؒ کا پاکستان“

مہناز رفیع
اقوام متحدہ کی طرف سے 2011ءکو تعلیم کا سال قرار دیا گیا ہے۔ ”میلینیم ڈویلپمنٹ گول“ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد مےں تمام ممالک سے کہا گیا ہے کہ 2015ءتک اپنے عوام کو سو فیصد تعلیم یافتہ بنائیں۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر کی حکومتوں کو 2011ءتک تمام بچوں کو سکول بھیجنے کا ہدف حاصل کرنا ہے مگر پاکستان مےں 70لاکھ بچے پرائمری سکول نہیں جاسکتے۔ ہائی سکول مےں داخلے کی شرح صرف 29فیصد ہے۔ ملک مےں اڑھائی کروڑ ایسے بچے ہےں جو سکول نہیں جاتے۔ پاکستان کے اپنے قانون کے مطابق بھی 5سے 16برس کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرنا ضروری ہے مگر اس حوالے سے پاکستان اپنی ذمہ داریاں نبھانے مےں ناکام رہا ہے۔ کوئی قوم یا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ تعلیم یافتہ نہ ہو۔ قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ ”پاکستان کی ترقی کا انحصار تعلیم پر ہے۔ تعلیم کا مطلب محض کتابی نہیں ہے، اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی مےں تعلیم دی جائے کیونکہ اس سے مستقبل مےں ہماری معاشی زندگی کا معیار بلند ہوگا۔ یاد رکھئے کہ ہمیں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے جو انتہائی تیزی سے خود کو بدلتی ہوئی چل رہی ہے“ تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے لئے ہمیں نصاب تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ معیار تعلیم کو ترقی یافتہ ملکوں کے برابر لایا جاسکے۔ ہمارے نوجوانوں کا خواب ہے کہ ملک مےں خوشحالی ہو اور ہم ترقی یافتہ ملک بن سکیں تاہم ترقی کا خواب اس وقت تک شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک سب کے لئے معیاری تعلیم میسر نہ ہو۔ جب تک تعلیم کا ذریعہ آسان اور سستا نہیں ہوگا، اس وقت تک قائداعظمؒ کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ حقائق یہ ہےں کہ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیم پر ساﺅتھ ایشیاءکے دیگر ممالک کے مقابلہ مےں سب سے کم فنڈ مختص کر رہی ہےں۔ قومی آمدنی کا کم از کم پانچ فیصد تعلیم کے لئے مختص ہونا چاہئے مگر پاکستان مےں 2008ءسے لے کر 2010ءتک تعلیم کےلئے مختص بجٹ بتدریج کم ہوتا گیا ہے۔ یوں تو کبھی بھی قومی آمدنی کا 2فیصد سے زیادہ حصہ تعلیم کو نہیں ملا مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ 2010ءمےں یہ رقم ڈیڑھ فیصد سے زیادہ نہ تھی۔ ہمارے سکولوں اور کالجوں مےں لیبارٹریاں ضرور سازوسامان سے محروم ہےں۔ خاص طور پر دیہاتی علاقوں مےں سائنس ٹیچرز موجود نہیں ہےں۔ کمپیوٹر لیبارٹری کی غیر موجودگی مےں بچے ترقی یافتہ دنیا کے تعلیمی اداروں کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہےں؟ ہائر ایجوکیشن کمشن کو اپنے ذاتی مقاصد کے تحت ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کمشن نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبروں کی جعلی ڈگریوں کی تصدیق کر دی تھی۔ کمشن کے تحت پاکستان مےں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد مےں یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور بیرونی ممالک سے پاکستان مےں 9یونیورسٹیاں قائم کرنے کے معاہدے ہوئے جو اب ختم کر دیئے گئے ہےں۔ پہلی دفعہ ریسرچ کےلئے ملک کے اندر اور ملک سے باہر نوجوانوں کو سکالر شپس دیئے گئے جن سے متوسط طبقے کے ہزاروں نوجوانوں اور بحیثیت مجموعی ملک کوفائدہ ہوا۔ تعلیم کی طرف ہماری کمٹمنٹ دیکھ کر دنیا نے اس کام کے لئے بہت بڑی رقم ڈالروں مےں دی جو اب بند ہو رہی ہے۔ یہ نقصان پاکستان کے بچوں کا ہوگا۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ”ذرا سوچئے! کیا یہ لوگ اس قابل ہےں کہ ہمیں ”اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا پاکستان دے سکیں؟“