ہائر ایجوکیشن کمشن کی تحلیل

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمشن ڈاکٹر جاوید لغاری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری سے ایچ ای سی کی مجوزہ طور پر تحلیل اور صوبوں کو منتقلی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈاکٹر جاوید لغاری کا کہنا ہے کہ وہ کام کرنا چاہئے جو عوام چاہتے ہےں نہ کہ وہ جو چند اراکین اسمبلی چاہتے ہےں ایچ ای سی کی تحلیل سے اتنا نقصان ہوگا جتنا 63سال مےں ملک کو نہیں ہوا ایچ ای سی ہر سال 2لاکھ ڈگریوں کی تصدیق کرتا ہے 700اراکین اسمبلی کی تصدیق کر دی 300نے ڈگریوں کی نقول فراہم نہیں کیں جن سے ان ڈگریوں کی تصدیق نہ ہو سکی۔ رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کسی بھی لحاظ سے اس ادارے کو توڑنے کی ترغیب نہیں دیتی اس ادارہ کو صرف جعلی ڈگریوں کے کیس سے بچنے کےلئے زد پہنچائی جا رہی ہے جو کہ انتقامی کارروائی ہے۔ چیئرمین ایچ ای سی مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ہمراہ میاں رضا ربانی اور کمیٹی کے دیگر اراکین کو ایچ ای سی کی حیثیت سے متعلق واضح تصور پیش کرنے کےلئے پریذنٹیشن بھی دے چکے تھے۔ ایچ ای سی کے خاص نوعیت کے تعلیمی معاملات کو سنبھالنے کی راہ تلاش کرنے اور مربوط نظام کا جاری رکھنے یا پھر متبادل نظام وضع کرنے کی بجائے ایچ ای سی کے حصے بخیرے کرنے سے ملک مےں اعلیٰ تعلیم کا صدر دروازہ بند ہوگا۔ مشرف دور سے ملک مےں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے ان کا مستقبل داﺅ پر لگا دیا گیا ہے اور مزید خواہشمند نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال مےں پاکستان تعلیمی شعبے مےں پچاس سال پیچھے چلا جائے گا۔ گذشتہ آٹھ سالوں مےں ایچ ای سی کی کارکردگی مثالی رہی ہے اور ریسرچ کے ایک ہزار پراجیکٹس پر کام ہوا ہے۔ گذشتہ سال برسوں مےں بننے والے ایچ ڈیز کی تعداد 55برسوں سے زیادہ ہے۔ ان تمام معاملات کو بالائے طاق رکھ کر ایچ ای سی کی تحلیل اور اعلیٰ تعلیم کے معالات پرائمری سکولوں کی حالت زار مےں تبدیلی لانے مےں ناکام صوبائی حکومتوں کے حوالے کرنے کے فیصلے پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے معاملات کی تقسیم اور صوبوں کے دائرہ اختیار مےں دینے مےں میرٹ کی پامالی اور سیاسی مداخلت کا ایسا دروازہ کھلے گا جس کو بند کرنا شاید ہی کسی کے بس کی بات ہو۔ عوامی مطالبہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمشن کو سیاست سے پاک رکھا جائے۔ اس ضمن مےں تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا کردار ادا کریں بصورت دیگر نہ صرف بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستان واپس آنے سے گریز کریں گے بلکہ ملک مےں موجود ماہرین بھی بیرون ملک منتقل ہونے کو ترجیح دینگے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت ایچ ای سی کی تحلیل پر عجلت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اس کے نتائج و عواقب پر ایک مرتبہ پھر غور کرے گی اور ملک مےں اعلیٰ تعلیم کے فعال ادارے کے حصے بخرے کرنے کی بجائے اس کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا۔