ڈینگی اور بھینگی

نواز خان میرانی
یقین ہی نہیں ایمان بھی ہمارا یہی کہتا ہے کہ وہ ہی حقیقی شہنشاہ اور نام نہاد بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور بادشاہوں اور آمروں کو چاہتا ہے تو مچھر سے بھی مروا دیتا ہے اور پھر جب تک وہ خود اپنے آپ کو جوتے نہ مروائیں اس وقت تک انہیں چند لمحوں کا سکون بھی نہیں ملتا اور وہ جوتے مارنے والے کو ہی اپنا مخلص دوست سمجھتے ہیں، کاش کہ وہ جوتے مروانے والے کو جان جاتے اور اللہ کو اپنا دوست سمجھتے تو ا ن کے ساتھ نوبت یہاں تک نہ پہنچتی حالانکہ وہ خود فرماتا ہے کہ میں ہی تمہارا اصل دوست ہوں اور مرتے وقت بھی تم دیکھو گے کہ میں تمہاری شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوتا ہوں۔مگر چونکہ قرب قیامت ہے لہذا وہ اب بادشاہوں کی بجائے رعایا کو مچھروں سے مروا رہا ہے کیونکہ دنیا میں جمہوریت کا دور دورہ ہے اور وہ ہی حاکم منتخب کر رہے ہیں۔ اسی لئے تو خدا نے حضرت عیسیٰؑ کو کہا تھا کہ اگر یہ دیکھنا ہو کہ میں کس قوم سے کتنا خوش ہوں تو اسکے حاکموں کو دیکھ لیا کرو ،اب ضروری نہیں کہ ہم اپنے حاکم دیکھیں مراکش سے لیکر لیبیا تک نظر دوڑائیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ مسلمانوں سے کس قدر خوش ہے۔ شاید اسی لئے تو عدم نے کہا تھا کہ ہنستا تو ہو گا آپ بھی یزداں کبھی کبھی جبکہ حکومتی کارکردگی کا یہ عالم ہے جس ملک میں لاکھوں ٹن گندم سٹور کرنیکی سہولت میسر نہ ہونیکے باوجود ”ذخیرہ“ کر لی گئی ہو۔ نہ تو طلب اور رسد کے مصدقہ قانون کے تحت قیمتوں میں کمی کی گئی ہے تاکہ تین وقت کھانا کھانے والے لوگ غربت اور ناداری کیوجہ سے ایک دو وقت کھانا کی بجائے پیٹ بھر کر کھا سکتے، حکومت نے یہ سوچ کر پہلے تو کسان کو گندم اگانے کی حوصلہ افزائی کرنے کی آڑ میں گندم کی قیمت بڑھا کر غریبوں کو روٹی کی دسترس سے زبردستی دور کر دیا اور پھر کہیں وہ چٹنی اور پیاز کے ساتھ روٹی کھانا نہ شروع ہو جائیں یہ کہہ کر امن کی آشا کے فارمولے کے ایثار و قربانی کی شاندار مثال قائم کر کے بھارت کے عوام کو پاکستانیوں سے زیادہ پیاز کی ضرورت ہے، پیاز بھارت برآمد کرنا شروع کر دیا۔ یہی حال ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کا کیا بے حس حکمران سابقہ حکومت کے دعوﺅں کیطرح کہ زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین سطح پہ پہنچ گئے ہیں مگر ان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ عوام کی سہولت کیلئے سبسڈی کی مراعات کو ختم کر کے عوام کو غربت کی بدترین سطح پہ دھکیل کر اپنے زرمبادلہ کے ذخائر امریکہ میں رکھوا کر اس کی معیشت کو مستحکم کرنیکا فریضہ کس خوش اسلوبی اور دیانت داری سے ادا کر رہے ہیں جبکہ اپنے ملک میں سہولیات کا یہ عالم ہے کہ اپنے ملک میں ملیریا کے محکمے کو یہ کہہ کر ختم کر دیا گیا کہ یہ مچھر ملیریا والے نہیں، وہ بھی کیا زمانہ تھا کہ لوگ، صحن اور چھتوں پر صاف فضا میں سو سکتے تھے، مگر اب ہتھوڑا گروپ اور مچھروں کے ڈر سے عوام مچھروں کے مرنے کیلئے سردیوں کا انتظار کرتے ہیں مگر بھینگی حکومت کو ڈینگی گرمیوں میں نظر نہیں آتی۔ جو حکومت مچھر نہیں مار سکتی۔ وہ غیر ملکی جاسوسوں کو کیسے مار سکتی (پھانسی) ہے؟؟؟ پتہ نہیں ہم مسلمان بدھ مت کے پیروکار کیوں بن گئے ہیں۔