پاکستانی زائرین حرمین کے مسائل : وزارت مذہبی امور متوجہ ہو .... (آخری قسط)

ڈاکٹر علی اکبر الازہری
ترکی، ملائشیا، انڈونیشیا اور ایران کے لوگ انتہائی نظم و ضبط سے زیارات اور عبادات کرتے ہیں۔ ہوٹل سے اکٹھے نکلتے ہیں، کھانا اکٹھے کھاتے ہیں اور طواف وغیرہ بھی یکجا ہوکر بلند آواز میں دعاﺅں کےساتھ مکمل کرتے ہیں۔ اس سے یقیناً ایک کیف اور سرور حاصل ہوتا ہے۔ دل و دماغ حرم کی نورانی فضاﺅں سے معطر ہوتا ہے اور انکے نظم اجتماعی سے قومی وقار بھی جھلک رہا ہوتا ہے۔ ان ممالک سے منظم گروپ، نہایت باوقار طریقے سے حرمین کے عالمی اجتماع میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کرکے ان ممالک کی نیک نامی کا سبب بنتے ہیں۔ ترکی اس مرتبہ پھر عمرہ وفود کی منظم حاضری اور بہترین انتظامات میں سر فہرست رہا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سڑکوں، گلیوں، بازاروں اور حرم میں خوش لباس ترکی بہن بھائیوں کی غالب اکثریت نقشبندی سلسلہ طریقت سے وابستہ حضرات اور شیخ سعید نورسیؒ کی نوری جماعت سے وابستہ ہوتے ہیں۔
مجھے اس مرتبہ انکے کئی ایک نمائندہ اجتماعات میں جانے، ان سے تفصیلات جاننے اور خوش عقیدہ ترکیوں کی اعتدال پسندی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ مجھے حرم مکہ میں شیخ محمود آفندی کےساتھ طواف کرتے ہوئے بیس ہزار زائرین پر مشتمل قافلے کو بھی دیکھنے کا موقع ملا، یہ ایک روح پرور منظر تھا جو مدتوں میرے احساسات کو گرماتا رہے گا۔ ان لوگوں کو دیکھ کر انکے قومی وقار اور حسن انتظام کو داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ حج اور عمرہ کے جو قافلے اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں وہ عموماً ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ انکے پاس بیگ سے لےکر گلے میں لٹکے ہوئے بیج کی ڈوری تک تمام اشیاءایک کلر اور ایک سائز کی ہوتی ہے۔ وہ اجتماعی حاضریاں دیتے ہیں، انکے پاس معلم ہوتے ہیں جو زیارات کی اہمیت بھی بتاتے ہیں اور دعائیں بھی پڑھاتے ہیں۔ انکے مقابلے میں پاکستانی لوگوں کے چہروں سے پریشانی، تھکاوٹ اور مفلوک الحالی ٹپک رہی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگوں کی پریشانیوں کا سبب انکے ایجنٹ حضرات بنتے ہیں، اس لئے یہ لوگ ہر قدم پر ان ایجنٹ حضرات کو بد دعائیں اور گالیاں دیتے دیکھے گئے۔
چونکہ عمرہ پر جانےوالے خواتین و حضرات کی تعداد حیران کن حد تک دن بہ دن زیادہ ہورہی ہے اس لئے وہاں رہائش کے مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے‘ اس لئے اب حکومت کو فوری طور پر اس معاملے پر توجہ کرنی چاہئے۔ مذکورہ بالا منظم ممالک نے عمرے کے زائرین کو سہولیات فراہم کررکھی ہیں، آپ دور نہ جائیں۔ ہمارے پڑوسی ہندو ملک بھارت کے زائرین کو ہی دیکھ لیں، آپ حیران ہونگے کہ وہ لوگ بہت مطمئن اور پرسکون تھے۔ میں نے مقبوضہ کشمیر سے لےکر بمبئی، حیدر آباد اور کیرالہ سے آئے ہوئے مسلمانوں سے ملاقات کی، سب نے بھارتی حکومت کے انتظامات اور تعاون کی تعریف کی۔ وہاں نہ تو کرایوں میں ہوش ربا اضافہ ہوتا ہے اور نہ ایجنٹ حضرات کو کھلی چھٹی دی جاتی ہے کہ وہ جو جی میں آئے جھوٹ بول بول کر زائرین کی عقیدت سے کھیلتے رہیں۔
یاد رہے کہ دلی سے جدہ آنےوالے بھارتی زائرین 35000 روپے میں بہترین ہوٹلوں میں قیام پذیر تھے اور انہیں اسی رقم میں ہوائی ٹکٹ کے علاوہ زیارات اور طعام کی سہولت بھی میسر تھی۔ اسکے مقابلے میں ”اسلامی نظریاتی مملکت“ پاکستان سے جانےوالے زائرین ڈبل ٹکٹ اور ان سے دگنا خرچ کرکے جاتے ہیں اور پورا عرصہ پریشان رہتے ہیں‘ اس لئے میں ایک مرتبہ پھر اصحاب بست و کشاد سے اپیل کروں گا کہ پاکستانی قوم کی عزت و ناموس کا خیال اور کہیں نہیں تو حرمین میں ہی کرلیا جائے۔ ان لوگوں کے وقار کے ساتھ قومی وقار وابستہ ہے۔ عدم تربیت کے باعث لوگوں کی اکثریت ہوائی جہاز کے سفر اور وہاں کے دھکوں کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرپاتی حالانکہ بہت سے لوگ زندگی بھر کی کمائی اور سرمایہ خرچ کرکے جاتے ہیں۔
خود مجھے ”زوار“ نامی جس کمپنی کے نمائندے نے بھیجا تھا اسکے کارندوں کو انسانوں کی طرح بات کرتے نہیں دیکھا گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے بھیڑ بکریوں کا قافلہ انکے رحم و کرم پر ہے، اسے جب اور جہاں ہانکتے رہیں انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ کالم میں گنجائش نہیں ورنہ میں ذاتی تجربات کی تفصیلات بتاتا کہ یہ لوگ کس قدر زیادتیاں کرتے ہیں اور وہ بھی اللہ کے گھر کا طواف کرنےوالے اور اسکے محبوب نبی اکرمکے درِ اقدس کی حاضری کا شوق رکھنے والوں کے ساتھ۔ اب پہلا زمانہ نہیں رہا جب لوگ بہت کم تعداد میں جاتے تھے۔ اب تو ایک ایک وقت میں کئی کئی پروازیں اترتی ہیں اور عام حالت میں کئی لاکھ کا اجتماع ہوتا ہے اس لئے اس معاملے کو اہمیت دینا قومی حمیت اور دینی غیرت کا تقاضا بھی ہے۔ دیکھا جائے تو ان مسائل کی نوعیت انتظامی ہے اور انہیں حکومت اور متعلقہ کمپنیاں مل کر بآسانی حل کرسکتی ہیں۔ ذیل میں اسی ضمن میں کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں۔
٭حکومت اس اہم قومی اور مذہبی معاملے سے بے اعتنائی اور لا تعلقی ختم کرکے اسے وزارت مذہبی امور یا سیاحت کے ذمے لگائے اور اس مقصد کےلئے دیانتدار انتظامیہ کا تقرر کیا جائے۔
٭ایجنٹ حضرات اور انکی کفیل سعودی کمپنیوں کو دینی تعلیمات اور اخلاقیات کا پابند بنایا جائے۔ انکے عملے کو خوش اخلاقی اور نرمی سے زائرین کی رہنمائی کی ہدایت کی جائے۔ انکے ہوٹل کا معیار اور حرم سے فاصلہ ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ حجاج اور زائرین کی شکایات سننے اور زیادتی کی صورت میں مناسب تادیبی کاروائی کا نظام قائم ہوجائے تو بہت سے معاملات خودبخود درست ہوجائینگے۔
٭حجاج اور زائرین کو سختی سے تربیتی نظام سے گزارا جائے، ہر شہر میں موجود حاجی کیمپ میں اس مقصد کےلئے تربیت گاہیں بنائی جاسکتی ہیں۔
٭عمر اور صحت کا خاص خیال رکھا جانا چاہئے بیمار اور بہت بوڑھے خواتین و حضرات کو اجازت نہیں دی جانی چاہئے، ائرپورٹ پر بہت سے بوڑھے مرد و خواتین ایسے نظر آتے ہیں جو عمرہ یا حج ادا کرنے نہیں بلکہ ارضِ مقدس پر شاید عزرائیل سے ملاقات کی خواہش لےکر عازم سفر ہوئے ہیں۔ ایسے صاحبان ثروت لوگوں کو ویلفیئر اور صدقات کے ایسے منصوبہ جات متعارف کروائے جائیں جہاں تعلیم اور صحت کےلئے انکے عطیات جمع کئے جائیں۔ انکے ایک عمرے کی رقم سے کوئی ذہین مستحق طالبعلم اگر زیور تعلیم سے آراستہ ہوجائے یا کسی غریب بچی کی شادی ہو جائے تو یہ صدقہ جاریہ اسے کئی عمروں کے ثواب کا مستحق قرار دےگا۔
٭اس کام کو یکبارگی نہ سہی بتدریج مکمل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ حکومت اسے اپنی توجہ کے لائق سمجھے۔ اس سلسلے میں مذکورہ بالا منظم مسلمان ممالک کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔