ملکی صورتحال اور اصلاحِ احوال

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی

یوم تاسیس کے حوالے سے چند روز قبل انجمن فیض الاسلام راولپنڈی نے غلام قادر ہال میں ملک کو درپیش اُلجھے مسائل کو سمجھنے اور سلجھانے کےلئے اپنی قومی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ”ملکی صورتحال اور اصلاح احوال“ کے موضوع پر ایک مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا جس میں کافی تعداد میں طلباءو طالبات کے علاوہ ، دانشوروں ، تجزیہ نگاروں، اساتذہ کرام ، کتابوں کے مصنفین ، سینئر صحافیوں اور بزرگ شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مذاکرے کی صدارت سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جناب ایڈمرل ریٹائرڈ افتخار احمد سروہی نے کی ۔یاد رہے کہ انجمن فیض الاسلام راولپنڈی کی بنیاد قائداعظم محمد جناح کی مرہون منت ہے جب 1943 میں اُنہوں نے بنگال کے ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات میں یتیم ہو جانےوالے مسلمان بچوں کی کفالت کےلئے مسلم اکثریتی صوبوں میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تعاون سے مقتدر مسلمان حلقوں کو اِن بے سہارا بچوں کی پرورش کی ذمہ داری سونپی ۔ انجمن فیض الاسلام نے نہ صرف اِس ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھایا بلکہ وقت گذرنے کےساتھ بے سہارا اور یتیم بچے و بچیوں کی کفالت اور تعلیمی ضروریات کو جدید بنیادوں پر منظم کیا تاکہ بے سہارا بچے بچیوں کے علاوہ عام شہریوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کےلئے میٹرک ، ہائیر ایجوکیشن اور ٹیکنیکل ایجوکیشن اداروں کی ایک ایسی مستند اسکولوں کی ٹیم کو پھیلا دیا کہ آج اِن تعلیمی اداروں کا شمار ضلع راولپنڈی میں دیہی اور شہری علاقوں کے انتہائی فعال اداروں میں ہوتا ہے ۔ انجمن کے اِس تعلیمی اور فلاحی کردار کو بامقصد بنانے میں بالخصوص میاں حیات بخش مرحوم اور راجہ غلام قادر مرحوم کا کردار راولپنڈی کے کسی بزرگ شہری کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ یہی کردار اب میاں محمد صدیق اکبر اور راجہ فتح خان کے علاوہ اُنکے بےشمار ساتھی ادا کر رہے ہیں ۔
اِس انجمن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انجمن کے زیر انتظام ہر ادارے کے پروگرام علاقائی ، لسانی یا فرقہ وارانہ بنیاد سے ہٹ کر صرف اور صرف قومی بنیادوں پر منظم کئے جاتے ہیں اور جہاں مجید نظامی کے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی طرح جناح و اقبال کی تعلیمات اور نظریہّ پاکستان ہی متحرک نظر آتے ہیں ۔اِس ادارے کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ یہاں قائداعظم محمد علی جناح کے علاوہ دیگر اہم قومی شخصیتیں بشمول ڈاکٹر عبدالقدیر خان متعدد مرتبہ انجمن کے یوم تاسیس کے حوالے سے مختلف پروگرامز میں شرکت کر چکے ہیں ۔
”صورتحال اور اصلاح احوال“ کے موضوع پر پاکستان میں جاری حالیہ سیاسی ، معاشرتی ، تعلیمی ، ثقافتی اور اقتصادی انحطاط کے پیش نظر گفتگو میں حصہ لینے والے دانشور اور حاضرین ِ جلسہ دونوں ہی یکساں طور پر متفکر نظر آتے تھے کیونکہ ملکی صورتحال یقیناً پریشان کن ہے۔ صورتحال کے حوالے سے مقررین بشمول راقم نے جن مسائل کی نشان دہی کی اُن میں اقتصادی بدحالی اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے علاوہ ملک میں ہائیر ایجوکیشن کی بربادی ، یکساں تعلیمی نظام کے بجائے خواص و عوام کےلئے مختلف تعلیمی نظاموں کی موجودگی ، امتحانی مراکز میں بڑھتا ہوا نقل کرنے کا رجحان ، لسانی و فرقہ وارانہ تعصب کو مہمیز دینے والی بیرونی حمایت یافتہ بلیک واٹراور ذیلی تنظیموں کی بلارکاوٹ سرگرمیاں ، انتہا پسندوں اور پاکستان کے ازلی دشمنوں کی حمایت یافتہ دہشت گردی اور دہشت گردی کی وارداتیں روکنے میں ریاستی ناکامی کے باعث بےگناہ شہریوں ، عورتوں ، مردوں اور بچوں کی ہلاکت ، زخمیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ، ڈکیتیوں ، بھتہ اور اغوا برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کنٹرول کرنے میں ریاستی ناکامی ،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت پر بڑھتا ہوا عوامی عدم تحفظ ، روز افزوں کمر توڑ مہنگائی ، بے روزگاری ، بھوک و افلاس کے ہاتھوں خودکشیوں میں اضافے کا رجحان ، ریاستی سطح پر کرپشن ، بدعنوانی اور اقربا پروری میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ، قومی اداروں بشمول سٹیل ملز ، نیشنل انشورنس کمپنی، پی آئی اے ، حج اسٹیبلشمنٹ ، این ایل سی، پنجاب بنک ، او جی ڈی سی ایل وغیرہ میں کرپٹ افراد کی تعیناتی اور بے دریغ کرپشن ، عوامی شکایات پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر اداروں میں بے پناہ کرپشن کا انکشاف، اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد میں ریاستی بے حسی کا مظاہرہ اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے پیش نظر قوم کو تیار کرنے کے بجائے اُنہیں بتدریج مسائل کی دلدل میں دھکیلنا، ایسے معاملات ہیں جو ملک کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی دِگرگوں صورتحال کی نشان دہی کرتے ہیں جس سے نا صرف عوام الناس بلکہ سول سوسائٹی اور اشرافیہ بھی پریشان ہے۔
اصلاح احوال کے حوالے سے اِن مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈمرل ریٹائرڈ افتخار احمد سروہی کا کہنا تھا کہ مملکت خداداد کو اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے نوازا ہے ، ایسی نعمتیں اور قدرتی وسائل بہت سی ترقی یافتہ قوموں کے پاس بھی نہیں ہیں لیکن بانیان پاکستان نے جن مقاصد کے تحت یہ ملک بنایا تھا، حکمران اُن مقاصد سے منحرف ہو گئے ہیں لہٰذا ہم بحیثیت قوم منتشر ہوتے جا رہے ہیں ۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جسے مسلمانوں کی نظریاتی اساس کی بنیاد پر بنایا گیا تھا جس سے مسلسل روگردانی کی جا رہی ہے اور ملک کو کمزور کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں جس کا مناسب تدارک نظریاتی بنیادوں پر ہی کیا جا سکتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ باکردار اور دیانتدار قیادت ہی پاکستان کو موجودہ بحران کی کیفیت سے نکال کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈال سکتی ہے ۔ پروفیسر اقبال بخت نے ملک کی مخدوش اقتصادی صورتحال کے پیش نظر قوم کی اصلاح احوال کےلئے قومی وسائل کی کرپشن سے پاک منصوبہ بندی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے ملک کے اقتصادی وسائل کو عوام کی بہبود کےلئے استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہوئے ریاستی حکام کی توجہ چین ، ملائشیا اور سنگاپور کی اقتصادی ترقی کی جانب مبذول کرائی جو پاکستان کے بعد آزاد ہوئے اور پاکستان سے کم تر وسائل رکھنے کے باوجود ترقی و خوشحالی کی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہیں جبکہ بنگلہ دیش کا اقتصادی گراف بھی پاکستان سے آگے چلا گیا ہے۔مسز نعیم فاطمہ علوی نے ملکی ثقافتی یکجہتی کے حوالے سے بانیانِ پاکستان کی تعلیمات سے روگردانی اور اسلامی فکر و نظر سے انحراف کو ملک میں فرقہ وارانہ اور لسانی بنیادوں پر تعصبات کے فروغ کی وجہ قرار دیا جس نے قومی یکجہتی کو قرار واقعی نقصان پہنچایا ہے اور جس کے تدارک کےلئے نظریہ پاکستان کے اصولوں پر مبنی پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے ۔
مندرجہ بالا تناظر میں تمام دانشوروں کا موقف یہی تھا کہ ملک میں قدرتی وسائل اور انسانی وسائل کی کمی نہیں ہے اور اِن وسائل کو دیانتداری اور قومی اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بام عروج تک پہنچایا جا سکتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ ملک سے باہر خدمات سرانجام دینے والے تقریباً تمام ہی پاکستانیوں کا تشخص اعلیٰ کارکردگی کی بہترین مثال ہے‘ بیرونِ ممالک میں پاکستانی مزدور کے مقابلے کا مزدور نہیں ہے ، پاکستانی ڈاکٹر ، نرس ، انجینئر، آئی ٹی سافٹ وئیر انجینئر، صحافی اور ہر فیلڈ میں ٹیکنیشن بہترین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانی اِس وقت پاکستانی معیشت کو سہارا دینے میں پیش پیش ہیں اور ملک کی موجودہ دِگرگوں اقتصادی صورتحال میں زرمبادلہ کی کمائی میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقومات زرمبادلہ کی آمدنی میں پہلے نمبر پر ہیں ۔ صد حیف کہ پاکستان میں کرپشن نے ملک کے تشخص کو اِس حد تک گہنا دیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی بھی حکومتی اصلاح واحوال کے حوالے سے فکر مند ہیں ۔ حقیقت یہی ہے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے کے باوجود تمام مقررین اِس بات پر متفق تھے کہ پرانی نسلوں نے ملک کو بحران کی کیفیت سے نکالنے کےلئے قرار واقعی کردار ادا نہیں کیا‘ چنانچہ ہماری نئی نسلوںکو اپنے قومی عزم و ارادے کو بامقصد بنانے کےلئے قائداعظم اور علامہ اقبال جیسے ویژن اور کردار کے حامل رہنماﺅں کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ قیادت ملکی مسائل کو حل کرنے اور قومی یکجہتی کو ممکن بنانے کی بجائے ملک کو بیرونی طاقتوں کی غلامی کا درس دینے میں ہی مصروف نظر آتی ہے بقول اقبال .....
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کوبناتے ہیں بہانہ