سرمایہ داری اور کارپوریٹیڈ جلسے

محمد انیس الرحمن
سرمایہ داری نظام کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ وہ دنیا میں ہر شے اور عمل کو اس کی ایک خاص قیمت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ یہ نظام جب اعتدال کی حدیں پار کرتا ہے تو انسانی معاشرت کا توازن بگڑ جاتا ہے جس کی سب سے زیادہ زد انسانی سوچ پر پڑتی ہے۔ روح اور جسم کے درمیان مقام اتصال شناخت کھو دیتا ہے۔ بظاہر ایک جیتا جاگتا انسان ایسی مشین کی مانند ہو جاتا ہے جو جسمانی ضروریات کے لئے روحانی اقتدار تک کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔ جسم کی روح کے ساتھ یہ بغاوت اسی وقت وقوع پذیر ہوتی ہے جب جسمانی ضروریات کے وسائل ایسے ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں جو اپنے جیسے ہی انسان کو سوچنے سمجھنے کی اجازت دینے کے روادار نہیں ہوتے۔ انسان کو اس کی اپنی سوچ سے دور رکھ کر ہی اسے مشین کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی ایجنڈے کے تحت مغرب کا شیطانی سرمایہ داری نظام پہلے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس سے شے اور عمل بے قیمت ہوجائیں اس کے بعد وہ انہیں اپنی ”مقرر کردہ“ قیمت کے سایے تلے لاکر استعمال کرتا ہے۔کیونکہ انسانیت کی معراج اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک جسم اور روح اپنے پورے شعوری احساس کے ساتھ وجدان انگیز نہ ہو جائیںکیونکہ یہی وہ حالت ہوتی ہے جو انسانوں کو انسانوں کی ہی غلامی سے نجات دلا کر مالک حقیقی کے قرب کا احساس دلاتی ہے اور یہ شعور اس قدر لذت انگیز ہے کہ انسان اس کیفیت کے دوام کی خاطر اپنی جسمانی اور تمدنی ضروریات کو حقیر جان کر نفرت سے منہ موڑ لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس سے سرمایہ داری کا شیطانی نظام خوفزدہ ہوتا ہے۔
اگر ہم تاریخ پر عمیق نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ رب العزت کے برگزیدہ انبیاءکے مقابل جو قوتیں صف آراءہوئیں وہ سرمایہ دار قوتیں ہی تھیں۔ یوسف ؑ کے دور کے کاہنانِ معبد سرمایہ دار ہی تھے ۔ موسیٰ ؑ کے دور میں پہلے فرعونِ مصر اور اس کے بعد بے شمار خزانوں کا مالک قارون یہ سب اپنے دور کے سرمایہ دار تھے۔ عیسیٰ ؑ کا واسطہ بنی اسرائیل کے سونے کے تاجروں اور ان کی روٹیوں پر پلنے والے اور سونے کے سکوں کے بدلے دین میں نئی نئی اختراع کرنے والے ہیکل سلیمانی کے کاہنوں سے تھا جنہوں نے دین داری کے لبادے میں دنیاکمانے کی خاطر بنی اسرائیل کو ایک قوم سے منتشر ہجوم میں بدل دیا تھاکیونکہ آئین سرمایہ داری میں قوم اور جغرافیائی سرحدیں تشخص سے عاری ہوتی ہیں اس کے نزدیک اہم ترین مقام وہی ہوتا ہے جہاں وسائل کی دستیابی ہو۔
آخر میں محسن انسانیت رسول پاک ﷺ کا واسطہ اپنی قوم کے کس طبقے سے پڑا تھا؟ کیا قریش سرمایہ دار نہیں تھے۔کیا کعبہ مشرفہ کو انہوں نے اپنا چیمبر آف کامرس نہیں بنا رکھا تھا؟کیا حرمت کے چار مہینوں کے دوران لگنے والے عرب کے مشہور تجارتی میلے ”ایکسپورٹ اور امپورٹ پرموشن بیورو“ کا کام نہیں دیتے تھے؟حرمت کے مہینوں کا اطلاق قریشی سرمایہ داروں نے کعبہ مشرفہ کے کاہنوں سے کروایا کیونکہ مذہب عام لوگوں کا مسئلہ تھا اور وہ کاہنوں کو عقیدت اور خوف سے دیکھتے تھے جبکہ سرمایہ دار ان مذہبی جکڑ بندیوں سے فائدہ اٹھاکر معاشی فوائد حاصل کرتے تھے۔ اللہ رب العزت نے اسلام کی دعوت کے ساتھ ہی کعبہ مشرفہ کو قریش کے معاشی استعمال سے نکال کر اس کے اصل مقصد یعنی مقام توحید کی جانب پلٹ دینے کا حکم دیا تھا۔کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ابراہہ بیت اللہ شریف کو ڈھانے کیوں آیا تھا؟ اس زمانے میں یمن کی حکومت مصری حاکم کو جوابدہ ہوتی تھی اور مصر کی ڈوریاں یورپ سے ہلا کرتی تھیں۔ مکہ مکرمہ جدہ کی بندرگاہ کی وجہ سے چونکہ بحیرہ احمر سے قریب تھا اور اس راستے کو استعمال کرکے عرب تاجر بھی مغربی تاجروں کی طرح تجارت میں خوب سرمایہ کما تے تھے۔ عربوں کی اسی تجارتی بالا دستی کو توڑنے کے لئے ابراہہ کو عربوں کے تجارتی مرکز کعبہ مشرفہ کو ڈھانے کا کام سونپا گیا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ قریش کی سرمایہ دارانہ سوچ سے بہت پہلے اس گھر کی بنیادیں خالص توحید کی بنیاد پر اللہ کے برگزیدہ نبی ابراہیم خلیل اللہ ؑ نے اٹھائی تھیں۔ نتیجہ آپ سب جانتے ہیں۔ لیکن قریش نے ابراہہ کے خوفناک انجام کو بھی تمام عرب میں اپنی سرمایہ دارانہ بالادستی کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔جس کے حوالے سے اللہ رب العزت نے قریش کو قرآن کریم کی سورة القریش میں آئینہ بھی دکھایا تھا۔ مندرجہ بالا ان مختصر مثالوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ شیطان نے ہمیشہ سرمایہ داروں اور سرمایہ داری نظام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔جبکہ اللہ کے برگزیدہ انبیائؑ ان سرمایہ داروں کے ہاتھوں گھری انسانیت کو آزاد کرکے انہیں ان کے رب سے ملانے کا فریضہ انجام دیتے رہے اور انہیں باور کراتے رہے کہ وہ پیدائشی طور پر تو آزاد تھے لیکن ان کی دنیاوی ضروریات کو پیروں کی بیڑی بناکر انہیں غلام بنایا گیا ہے جبکہ زمین اللہ کی ہے اور وہی قادر مطلق ہے۔
اتنی لمبی تمہید کا مقصد صرف پاکستانی قوم کی موجودہ حالت زار ہے۔ آج اس کی ضروریات اس کے گلے کا پھندہ بنا دی گئی ہیں۔ اس قوم کے افراد کو بے روزگاری کی وجہ سے اب یہ بھی شعور نہیں رہا کہ انہیں کس سیاسی جماعت کے جلسے کی جانب ہانکا جا رہا ہے۔ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے انہیں پینتس سو روپے فی کس مل جائیں گے۔کوئی انہیں انقلاب کے نعرے سے بے وقوف بنائے یا روٹی ،کپڑا اور مکان دینے کا مشرکانہ نعرہ لگائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قوم ہجوم میں تبدیل کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں اب جلسوں کے لئے ہجوم اکھٹا کرنے کی غرض سے ”کارپوریٹیڈ“ سسٹم متعارف کرایا جا چکا ہے جبکہ مذہبی سیاسی جماعتوں کا کردار ”ہیکل“ کے کاہنوں سے کسی طرح کم نہیں۔۔۔!