اب بھی وقت ہے

کالم نگار  |  عامرہ احسان

ریمنڈ ڈیوس وقوعہ کے بعد پاکستان امریکہ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوئے ہیں۔ عوام کی نظروں سے اوجھل ، میڈیا کو فیڈ کی جاتی گمراہ کن خبرو ں کے پسِ پردہ دہشت گردی کی جنگ کے اصل حقائق اب چھپائے نہیں چھپ رہے۔ پہلی مرتبہ عوام اور میڈیا کا غیض و غضب برسا ہے اور کھل کر برسا ہے جسے مہمیز امریکی تکبرپر مبنی اقدامات نے دی ہے۔ ازسرِ نو تعلقات کی بہتری کیلئے دو طرفہ کوششیں جاری و ساری ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اصطلاحات کی قلعی اب کھل ہی چکی ہے تو ازسرِ نو اسی تنخواہ پر کام کرنے کیلئے حسبِ سابق راضی ہونے سے پہلے ہم نیک و بد پھر سے سمجھ لیں۔ ’دہشت گردی اسلام ہے ،جہاد ہے۔’ دہشت گرد‘( امریکی اصطلاح کےمطابق مسلمان) مجاہد ہے۔’ دہشت گرد‘ کا صرف حلیہ بیان کردیاجائے تو بات واضح ہوجاتی ہے۔یہ تھری پیس سوٹ ٹائی میں ملبوس نہیں ہوتا۔ یہ امریکہ یورپ سے پڑھ کر نہیں آتا۔لارڈ میکالے کے نظام کا دیسی تیار شدہ غلام بھی نہیں ہوتا۔ناکوں پر روک کر تلاشی مسنون حلیے والے کی لی جاتی ہے۔داڑھی، شلوار قمیض، شرعی سراپا نشانے پر ہوتا ہے۔ ہمارے نصابوں میں قرآن بچوں کو صرف چکھانے کی حد تک رکھا گیا ہے۔حتیٰ کہ ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل اللہ کا موٹو رکھنے والی افواجِ پاکستان کوبھی سورة الانفال (جو نزول کے بعد سے ہمیشہ جہاد کی صفوں میں پڑھی گئی)’ سورة التوبہ‘ سورة محمد ، احزاب سے نابلد رکھا گیا۔گورے نے فوج میں فلم( ہفتہ وار، بروزجمعہ) پابندی سے دکھانے کی روایت تو تمام فوجی اداروں، تربیتی اداروں،کیڈٹ کالجوں میں چھوڑی لیکن جہاد و قتال کی تربیتی سورتیں ہماری کردار سازی میں حصہ نہ ڈال سکیں‘ ورنہ روزِ اول سے اس قوم اور اس کے عساکر کواس اصطلاح کا ماخذ سمجھ آجاتا اور اس کا حصہ بننا آگ میں ڈالے جانے کے برابر جانا جاتا!’ اور تم لوگ جہاں تک تمہارے بس میں ہو زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے انکے مقابلہ کیلئے تیار رکھو تاکہ اسکے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو ان دوسرے اعداءکو دہشت زدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔اللہ کی راہ میں تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہیں پلٹایاجائےگا اور تمہارے ساتھ ظلم ہرگز نہ ہوگا‘( الانفال60) اس آیت کی رو سے مسلمان کا فرض ہے دشمن کو کافر کو خوفزدہ رکھنا کیونکہ وہ اسلام اور مسلم کے درپے ہیں۔ کفر پر لرزہ طاری کرنا ہماری سرشت میں ڈالا گیا ہے کیونکہ حق و باطل کا معرکہ حضرت آدمؑ اور ابلیس کی کہانی سے شروع ہوا اور آدمؑ تا اس دم یہی کہانی جاری ہے۔ ستیزہ کاررہا ہے ازل سے امروز چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی! مشرف ایک ان پڑھ، نا بلد انسان تھا اس لئے اقبالؒ کی مسلمانانِ پاکستان کو یہ یاد دہانی حرفِ غلط کی طرح مٹادی کہ....
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے!
اسکی جگہ بے دین وطینت کا راگ الاپ کر نظریاتی شناخت ختم کرکے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ ایجاد کیا۔اس آیت کی بناءپر ایٹمی پاکستان، میزائل پروگرام، ڈاکٹرعبدالقدیر خان جو بھارت جیسے واضح دشمن اور امریکہ اسرائیل جیسے پس پردہ دشمنوں کو دہلانے خوفزدہ کرنے کے مظاہرتھے، کوخراب،برباد کرنے میں کوئی کسر روانہ رکھی۔اللہ نے اپنے وعدے ہم سے پورے کئے تھے۔ ہم نے ایٹم گھاس کھاکر بنانے کا عزم کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں سے پورا پورا بدل ہمیں پلٹا دیا۔ ہم پر غربت، فاقہ کشی اس وقت نہ آئی۔ ہم خوش خوشحال رہے اور یکایک ایٹمی دھماکہ کرکے کفر پر لرزہ طاری کردیا۔ اللہ کی مدد ہر لمحہ شاملِ حال رہی۔ گھاس کھانے کی نوبت پرویز مشرف اور اسکی باقیات کی پالیسیوں کے نتیجے میں اب آرہی ہے جب ہم اپنے ہی بنائے اسلحے سے دشمن کو خوفزدہ کرنے کی بجائے اسکے ساتھ مل کر اپنے ہم وطنوں، ہم مذہبوں پر پل پڑے۔ تیار بندھے رہنے والے گھوڑے زیادہ سے زیادہ طاقت۔ جہاز، توپخانے، میزائل، سب اپنوں ہی پر برسا برسا کر، ’سب سے پہلے پاکستان‘ کہنے لگ گئے۔ خدارا اب تو یہ جنگ روک کر ذرا سٹاک ٹیکنگ کر لیجئے۔ آپ پیچھے ہٹتے ہیں یا مسلمان مارنے، قبائل میں تازہ آپریشن میں پس و پیش کرتے ہیں تو امریکی فوراً بلیک میلنگ پر اتر آتے ہیں۔ اب یکا یک انہیں فوج کی طرف سے حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں دس سال پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیل کر یاد آرہی ہیں۔ قوم اپنے دکھ بھول جائےگی، چھ کمسن لڑکوں کو بے رحمانہ اجتماعی قتل کرنے کا گناہ، لال مسجد، جامعہ حفصہ کا گہرا گھاﺅ، قبائل پر برسائے گئے بم ماورائے عدالت قتل ریمنڈ ڈیوس کو فرار کروانا۔یہ سب کچھ اور بہت کچھ نا گفتنی اٹھا کر ایک طرف رکھ دےگی اگر ہمیں ہمارا پاکستان لوٹا دیاجائے۔
محمد علی جناحؒ کا پاکستان جس کے بارے انہوں نے قیامِ پاکستان سے قبل 101 مرتبہ اور بعد ازاں 14مرتبہ پہاڑے کی مانند یہ بات دہرائی تھی کہ پاکستان کے سیاسی، معاشی، معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائےگی۔مسلسل جھوٹ سے قوم کو کب تک ورغلایا جائے گا؟ اسلام میں ہجرت کے سوا کوئی دوسرا مقصد لاکھوں جانوں کی قربانی اور ہزاروں عصمتوں کی پامالی کا نذرانہ وصول نہیں کرسکتا تھا۔ دہشتگردی کی اس جنگ میں حصہ شہداءکے خون، لٹی عصمتوں بابائے قوم اور مصورِ پاکستان سے تو غداری ہے ہی۔اللہ، رسول اللہ ﷺ اور قرآن کی حکم عدولیوں کے طوفان بھی ہم نے برپا کر رکھے ہیں کفر کےساتھ اشتراک کی اس جنگ میں ان باتوں کو جاننے کیلئے سمجھنے کیلئے بہت زیادہ علم و فضل اور دانشوری کی ضرورت نہیں ہے۔ راقمہ جیسی سادہ گھریلو عورت یہ بات جانتی ہے کہ کفر کے شانہ بشانہ اس کیلئے لڑنے اور اسکے مفادات کا تحفظ کرنےوالا منافق ہوتا ہے مسلمان نہیں جس کیلئے جہنم کے سخت عذاب کی تنبیہ ہے اور یہ فوراً سمجھ آنےوالی بات ہے کہ افغانستان پر ایک کافر ملک( روس) نے حملہ کیا تھا تو وہ جہاد تھا۔اب 41 ممالک حملہ آور ہیں تو جہاد صرف41کا فارمولا بنتا ہے۔
1979ءکی نسبت2001ءکے بعد سے جہاد41گنا زیادہ فرض ہوچکا۔ ایسے میں اس سے منہ موڑنا، افغانوں کو تنہا چھوڑنا، ان کےخلاف اپنی زمین پیش کرنا اپنے لوگوں کو جہاد میں انکی مد د کرنے کے ’جرم‘ میں دربدر تباہ کردینا کیا معنی رکھتا ہے؟ اس کیلئے دانشوری نہیں سادہ سا ایمان چاہئے تو بات سمجھ آجائےگی۔اس وقت دنیا کے ہر مسلمان پر جہاد فرض ہوچکا۔ بچ کر کہاں جائینگے؟ کشمیر، افغانستان، غزہ، عراق سے لیکر پورے عالم اسلام پر بالواسطہ یا بلا واسطہ قابض کفر ہو۔ دنیا بھر کے عقوبت خانوں میں عافیہ جیسے مسلمان قید وبند میں ہوں اور ہم چوکوں چھکوں سے بہلائے جائیں؟ دنیائے کفر مکمل مذہبی لبادہ اوڑھے بیٹھی ہے۔خواہ وہ بھارت کا ہندو ہو یا دنیائے مغرب کے عیسائی یہودی۔ سب سے شاندار شناخت اللہ نے مسلمان کو دی ہے تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ورثاءمنہ چھپا کر بیٹھیں؟ ہاتھ سے گھڑے بتوں کو پوجنے والے ڈٹ کر اپنے مذہب کی بنیاد پر جئیں۔ اللہ کے ساتھ ہولناک شرک کے مرتکب قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کیلئے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔مریم۔90-93) یورپ، امریکہ، کینیڈا پوری مغربی دنیا اپنے مذہبی ورثے پر فخر کرتے ہو ئے مسلم دنیا کو آگ میں جھونک دیں؟ فرانس میں مسلمان عورت کے منہ سے نقاب نوچ لیں۔ (11اپریل سے قانونِ سدِ حجاب کا اطلاق)۔
برطانیہ کینیڈا، جرمنی میں سربراہانِ مملکت مسلمانوں کو یہ باور کروائیں کہ یہ ممالک عیسائی یہودی روایات پر مبنی معاشرے کے حامل ہیں آپکو اس سانچے میں ڈھلنا ہوگا یہاں تک کہ اب ہالینڈ میں مسلمانوں کو حلال گوشت سے محروم کرنے کی تیاری ہے۔ دوسری طرف ہم مسلمان ہی خوئے غلامی ترک کرکے اپنی شناخت بحال کرنے پر رضامندنہ ہوں؟ تمام مسلمان ممالک پر لٹیرے حکمران اور عساکر مسلط کیے گئے ہیں جو الا ما شاءاللہ تمام شرعی عیوب سے آراستہ ہیں۔نماز کے قریب نہ پھٹکیں۔ کیونکہ ’ انتم سکرٰیٰ کی چھوٹ( نماز کے قریب نہ جاﺅ جب تم نشے کی حالت میں ہو) لے رہے ہوں! مشرف دس سال اس حالت میں ہماری مٹی پلید کر گیا۔یہ پاک کب ہوگی؟اب وقت آگیا ہے(It is high time) کہ درست فیصلوں کی بنیاد رکھیں۔ سخی سرور نوعیت کے دھماکے اور میڈیا کیمپین کے ذریعے طالبان کیلئے نفرت بھرنے سے پاکستان کو پہلے بھی چارچاند نہیں لگے اب بھی یہ لاحاصل پراپیگنڈہ ہے۔ ملا عمر، تحریکِ طالبان بار بار واضح کرچکے ہیں کہ عوام دشمن حملے ہرگز طالبان کا کام نہیں ہے۔عراق میں امریکہ یہ کارتوس چلا چکا ہے۔ہر دو نمبر کام، ایک نمبر کی مکمل اور بہترین نقل ہوتا ہے۔لہٰذا ریمنڈ ڈیوس کمپنی کے یہ کام عین وہی تمام اجزاءرکھیں گے اور باور کروانے کے تمام اسباب فراہم کئے جائینگے کہ یہ ’ جنت کے متلاشیوں‘ کا کام ہے۔ ہرگز نہیں! غریب جاہل عوام کبھی ان کا ہدف نہ تھے‘ نہ ہونگے۔ دنیا بھر میں نیٹ پر گھوڑے دوڑانے والے، جنت کیلئے خالص ہوکرنکلنے والوں کے تربیتی دروس یوٹیوب پر سن سکتے ہیں۔ خوف خدا میں ڈوبے ہوئے۔ اللہ کے حضور لرزاں و ترساں راتوں کے راہب، دن کے شہ سوار۔
چہ نسبت خاک رابہ عالم پاک!
ایں چیزے دیگر است!
غریب مردوں، عورتوں بچوں کو مار کر جنت نہیں ملتی۔ یہ کم علم سے کم علم بھی جانتا ہے ۔ان کا ہدف کفر اور اسکے مراکز ہیں۔ہم ان مراکز سے کنارہ کش ہوجائیں۔ اللہ بھی اپنے وعدے ہم سے پورے کرےگا اور پاکستانی قومِ سبا کے انجام سے دوچار ہونے سے بچ جائےگی( قرآن سے قوم سبا کا حشر پڑھ لیجئے!)