نشہ پلا کر…

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

سادھوکے کے نواحی گائوں جہاں شاہ تھانہ تتلے عالی کی پندرہ سالہ لڑکی کو بااثر افراد نے نشہ پلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا‘ جس سے وہ ہلاک ہو گئی۔ ورثاء نے بتایا کہ ملزم بااثر ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں۔ جب معاشرے میں ایسے واقعات ہونے لگیں تو ضمیر روتے ہیں‘ مگر ضمیر کی سسکیاں کوئی نہیں سن پاتا‘ جیسے ضمیر سو جاتے ہیں‘ سسکیاں دب جاتی ہیں‘ واقعہ بھی فضائے وطن میں تحلیل ہو جاتا ہے‘ مگر بیٹیاں تو پیدا ہوتی رہتی ہیں‘ اور اُن کے ہاں بھی جنم لیتی ہیں جنہوں نے کسی کی بیٹی کی عصمت ہی نہیں زندگی بھی لوٹ لی ہوتی ہے۔ ایسے تو کوئی کٹی پتنگ کو بھی نہیں لوٹتا وہ بھی اُس کی حتی الامکان حفاظت کرتا ہے۔ ہمارے اس پاک وطن میں ناپاکیاں تو ہوتی رہتی ہیں‘ مگر یہ جو اجتماعی زیادتیوں کی غلاظت ہے‘ اس نے پورے معاشرے میں نہ صرف سنڈاس بھر دیا ہے‘ بلکہ بے اثر لوگوں کو اپنی بیٹیاں خطرے میں نظر آنے لگی ہیں‘ کیا ایک اسلامی جمہوریہ میں اس طرح کے افعالِ خبیثیہ کی اجازت دی جا سکتی ہے‘ بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ایسے واقعات کی کھلی چھٹی ہے‘ کیونکہ بااثر ملزموں کو مجرم بننے سے پہلے ہی چھڑا لیا جاتا ہے اور عزت سے محروم کی گئی کی لاش بھی ٹھکانے لگا دی جاتی ہے۔ یہاں تک ظلم روا سمجھا جاتا ہے کہ وارثوں کو بھی یہ ہمت نہیں پڑتی کہ وہ تھانے تک ہو آئیں۔ عدلیہ آزاد ہو چکی ہے‘ اگر اس واقعے کا ازخود نوٹس لے لے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوا دے تو عین ممکن ہے کہ ایسے ناگفتہ بہ واقعات کم ہو جائیں۔ ہر روز ڈاکے پڑتے ہیں‘ عصمتوں پر دولتوں پر زندگیوں پر مگر سزا نہ ملنے کے باعث کوئی باز نہیں آتا‘ اگر ہمارے معاشرے سے یہ بااثر لوگوں کی خباثت نکل جائے تو کسی کو کسی کی بیٹی کے ساتھ وہ کچھ کرنے کی جسارت نہ ہو جس کی مثال اُن معاشروں میں بھی نہیں ملتی جنہیں ہم بے حیا معاشرے کہتے ہیں۔ عہدِ نبوت میں ایک نوجوان نے گلی سے گزرتے ہوئے ایک صحابی کے گھر میں جھانک کر اُس کی بیوی کو غسل کرتے دیکھ لیا‘ اس کے بعد اُس پر پشیمانی کا ایسا دورہ پڑا کہ وہ شہر چھوڑ کر پہاڑوں میں روپوش ہو گیا۔ رسول اللہؐ نے فجر کی نماز میں اُسے غیر حاضر پا کر حضرت عمرؓ کو اُس کی تلاش میں بھیجا۔ حضرت عمرؓ نے سارے واقعے کی معلومات حاصل کر کے اُس کو پہاڑوں سے پکڑ کر بارگاہِ نبویؐ میں پیش کر دیا۔ آپؐ کے سامنے دھاڑیں مار کر اُس نے سارا واقعہ بیان کر دیا۔ وہ بار بار یہی کہتا کہ میرا گناہ اتنا بڑا ہے جس کی توبہ ہی نہیں‘ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ اس صدمے سے اُسے سخت بخار ہو گیا اور پچھتاوے کی آگے میں جلتے جلتے وہ زندگی ہار بیٹھا۔ اُس کی تجہیز و تکفین کے موقع پر رسول اللہؐ پنجوں کے بل چل رہے تھے‘ صحابہ نے اس کا سبب پوچھا آپ نے فرمایا اللہ نے اس نوجوان کی توبہ قبول کر لی ہے اور اب اس کے آخری سفر کے موقع پر اتنے ملائک آئے ہوئے ہیں کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں میں پائوں کہاں رکھوں۔ اسلام کے ماننے والوں نے کیسی مثالیں قائم کیں اور ہم اس عہد کے مسلمان کیا مثالیں قائم کر رہے ہیں۔
غضب خدا کا اُن لوگوں پر جو تین چار سالہ بچیوں تک کو نہیں چھوڑتے‘ وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ پولیس‘ بااثر شخصیات اُنہیں سزا ہونے ہی نہیں دیتے‘ یہی حال لواطت کے کیسز میں بھی ہے‘ اس میں بھی بااثر لوگوں کا اثر مجرم کو چھڑانے کے لئے آ موجود ہوتا ہے‘ اگر میڈیا ایسے واقعات کو بیان نہ کرے یا نہ دکھائے تو ایسے واقعات تھانے ہی میں رفع دفع ہو جائیں اور عدالتوں کو ان کی خبر ہی نہ ہو۔ عبرتناک سزا ملتی تو ایسے جرائم نہ ہوتے‘ میڈیا اور عدلیہ اگر یہ ٹھان لیں کہ ایسے واقعات کو نظرانداز نہیں کرینگے تو تھانہ کچھ بھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی بااثر افراد ان مجرموں کو بچانے میں کامیاب ہو سکتے‘ ہیں۔ اسلام میں ایک خودکار نظام بھی ہے برائی کو ختم کرنے کا اور وہ ضمیر کی بیداری اور توبہ کی کوشش ہے آج تو وہی بات ہے‘ کہ چوری اور سینہ زوری‘ یہاں تک کہ پشیمانی بھی اب نہ رہی۔