مُٹھی بھر مٹی

کالم نگار  |  محمد اظہار الحق

آذر بائیجان کا دارالحکومت باکو ہے لیکن ایک زمانہ تھا کہ گنجہ ساری دنیائے علم و ادب میں مشہور تھا۔ برصغیر کے علمی حلقوں میں گنجہ‘ نظامی گنجوی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ وہی نظامی جو اپنے ’’خمسہ‘‘ کی وجہ سے معروف ہے۔ اس نے پانچ مثنویاں لکھیں جو خمسہ کہلاتی ہیں۔ اُس کے جواب میں کئی شعرا نے خمسے لکھے لیکن تاریخِ ادب نے نظامی کے بعد عزت صرف دو کو بخشی۔ جامی اور امیر خسرو کو۔ لیکن گنجہ مہستی گنجوی کے لئے بھی مشہور ہے۔ فارسی کی شاعرہ جس نے اپنے علم اور شاعری سے ادب کی تاریخ میں اپنا نام پیدا کیا۔ گیارھویں صدی عیسوی میں پیدا ہونے والی مہستی نے امیر احمد سے محبت کی اور برملا اظہارِ عشق کیا۔ رباعی کہنے میں وہ عمر خیام سے پیچھے نہیں۔
چشم چو بچشمِ خویش چشمِ تُو بدید
بی چشمِ تو خوابِ چشم از چشم رمید
ای چشمِ ہمہ چشم بچشمت روشن
چون چشمِ تو چشمِ من دگر چشم ندید
میری آنکھ نے جب اپنی آنکھ سے تمہاری آنکھ کو دیکھا تو تمہاری آنکھ کے فراق میں آنکھ سے‘ آنکھ کی نیند اُڑ گئی۔ تمہاری آنکھ ہی سے تو ساری آنکھوں کی آنکھ روشن ہے۔ میری آنکھ نے آج تک تمہاری آنکھ جیسی کوئی آنکھ نہیں دیکھی!
… مہستی سنجر بادشاہ کے دربار سے وابستہ ہو گئی۔ مجلسِ عیش برپا تھی۔ مہستی کسی کام سے باہر نکلی تو برف پڑ رہی تھی۔ واپس آئی تو سنجر نے پوچھا موسم کیسا ہے۔ مہستی نے فی البدیہہ رباعی کہی جس کا مطلب یہ تھا کہ بادشاہ کے گھوڑے کے پائوں خاک پر کیوں پڑیں؟ آسمان نے زمین پر چاندی کا فرش بچھا دیا ہے!درست ہے کہ یہ لوگ خوشامدی تھے‘ لیکن علم کا اور دانش کا ایک معیار تھا جس سے نیچے اُترنے کا حاکم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ سنجر نے عید کا چاند دیکھا تو معزی نے کہا کہ ہلالِ عید ہے یا معشوق کا ابرو ہے یا بادشاہ کی کمان ہے یا سونے کا نعل ہے یا آسمان نے کان میں زیور پہنا ہوا ہے۔ سنجر نے گھوڑا اور نقد انعام دیا۔ معزی نے پھر فی البدیہہ کہا کہ میرے ترانے میں پانی کی روانی تھی۔ چنانچہ شاہ نے مجھے ہوا کی رفتار والی سواری مرحمت کی۔
سنجر پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گرا تو شاعر نے برجستہ کہا کہ آسمان نے تو نظر لگا ہی دی۔ لیکن گیند کو بھی سزا دی جائے اور گھوڑے کی سزا یہ ہے کہ مجھے بخش دیا جائے۔ گھوڑا عنایت کر دیا گیا تو شاعر نے دوبارہ کہا
رفتم برِ اسپ تا بہ جرمش بکشم
گفتا کہ نخست بشنو این عذرِ خوشم
نے گائو زمینم کہ جہاں بر گیرم
نے چرخِ چہارمین کہ خورشید کشم
فارسی ادب کی دیومالا کے مطابق گائے نے زیرِ زمین سب کچھ سینگ پر اٹھایا ہوا ہے اور چوتھے آسمان پر سورج ہے‘ میں گھوڑے کو سزا دینے لگا تو اُس نے کہا پہلے میری بات سُن لو۔ میں گائے جتنا طاقتور ہوں نہ چوتھے آسمان جتنا‘ کیونکہ سنجر کو اٹھانا زمین اور سورج کو اٹھانے کے برابر ہے۔
یہ لوگ جو بادشاہوں‘ گورنروں اور وزراء اعظم کے اردگرد تھے‘ ولی تھے نہ دیانت و امانت کی قابلِ رشک مثال تھے۔ لیکن ان کے پاس علم تھا۔ تاریخ و ادب پر عبور تھا۔ تفریح بھی ایک مخصوص معیار سے نیچے نہیں ہوتی تھی۔
مگر یہ سب کچھ تاریخ میں دفن ہو گیا۔ زوال آتا ہے تو ہمہ گیر زوال آتا ہے۔ درباروں کی جگہ پہلے ریڈیو نے لی اور پھر سرکاری ٹیلی ویژن نے۔ مسخروں‘ بھانڈوں مداریوں اور ہزل گوئوں کی لاٹریاں نکل آئیں۔ شاعری کے نام پر جہلا کے ایک گروہ نے پردۂ سیمیں پر قبضہ کیا اور پھر یہ قبضہ ختم ہی نہ ہوا۔ ثروت حسین اور قمر جمیل جیسے شاعروں سے ناظرین اور سامعین محروم ہی رہے اور ایسے ایسے ’’شاعر‘‘ میڈیا کے ذریعے بلندی پر پہنچے جو وزن میں کہنا تو دُور کی بات ہے‘ وزن میں پڑھنے سے بھی قاصر تھے۔ نجی شعبے میں میڈیا کی اگلی نسل ہر اُس چیز سے دُور ہے جس کا علم و ادب اور فکر و دانش سے تھوڑا سا بھی تعلق ہے۔
لیکن اصل المیہ حکومتوں کا ہے۔ ہزاروں سال سے خوشامدی درباروں سے وابستہ چلے آ رہے ہیں۔ لیکن ایک وقت تھا جب مہستی گنجوی‘ معزی‘ فیضی‘ ابوالفضل اور غالب جیسے نابغے فنِ خوشامد سے وابستہ تھے۔ اب وہ وقت ہے کہ پست ترین لوگ حکمرانوں کے اردگرد روشنی کا نہیں بلکہ تاریکی کا ہالہ بنے ہوئے ہیں۔ ایوب خان کے عہد کو دیکھ لیں۔ اُسے مسلسل یقین دلایا جاتا رہا کہ وہ مقبولیت کی آخری حدوں کو چھُو رہا ہے۔ ’’عشرۂ ترقی‘‘ منانے پر کروڑوں روپے صرف کئے گئے۔ میگنا اور بُوری گنگا میں کشتیاں ڈوب رہی ہوتی تھیں لیکن اُن پر ’’عشرۂ ترقی‘‘ کے بینر نما بادبان لگے ہوئے ہوتے تھے۔ پھر ضیاء الحق کا دور آیا خوشامدیوں نے نکٹائیاں اتار کر تاریک کونوں میں پھینکیں‘ واسکٹیں پہنیں اور وضو کئے بغیر نمازوں کا اہتمام ہونے لگا۔ ’’اسلام پسند‘‘ ٹھیکوں اور مراعات کی خاطر ہر وقت پاکستان کے بدترین آمر کو یقین دلاتے رہتے تھے کہ وہ پہلے زمانے کے مسلمانوں سے کسی صورت کم نہیں۔ یہ خوشامدی ہی تھے جو جہالت مآب ہونے کے باوجود سرکاری خرچ پر‘ عوام کی خون پسینے کی کمائی سے‘ عمرے کرتے تھے‘ مشائخ کانفرنسیں ہوتی تھیں‘ تعلیمی پالیسیاں یہ کہہ کر جاری کی جاتی تھیں کہ دو سال میں خواندگی کا تناسب سو فیصد ہو جائے گا۔ پست ترین سطح کے مالک یہ خوشامدی دولت میں کھیلنے لگے اور ملک کی کھائی میں گرنے کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔
پھر قاف لیگ آئی اور خوشامد کا فن انتہا کو پہنچ گیا۔ اُن مشہور و معروف شخصیات نے… جن کا نام ہر پاکستانی کے دل کے اُس حصے میں نقش ہے جو اندھیرے میں رہتا ہے… ایسے ایسے کارنامے سرانجام دئیے کہ جہالت سر پیٹنے لگی۔ آج بھی صورتِ حال مختلف نہیں‘ ایوانِ صدر سے لے کر وزیراعظم کے عالیشان محل تک اور گورنروں کی وسیع و عریض سرکاری جاگیروں سے لے کر وزراء اعظم کے دفتروں تک فنِ خوشامد کے ماہرین مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہے ہیں اور جس کو گُڑ سمجھتے ہیں وہ کچھ اور شے ہے۔
مرکز ہے یا کوئی صوبہ یا مقامی حکومتیں‘ اہلِ خوشامد جہاں بھی ہوں گے‘ مہلک ثابت ہوں گے‘ لیکن کچھ مقامات تو ایسے ہیں جہاں سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہاں پتھر اور سونا برابر ہیں۔ مگر پنجاب کے وزیراعلیٰ کی خدمت میں ضرور کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس لئے کہ وہ خلوص کا جذبہ رکھتے ہیں اور ان کا اسلوبِ حکمرانی بتاتا ہے کہ وہ بنیادی تبدیلیوں کا… کم از کم نظریاتی طور پر… عملاً نہ سہی… ادراک ضرور رکھتے ہیں… اور فی الواقع کچھ کر کے دکھانا چاہتے ہیں۔ اس لئے بھی کہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صُوبہ ہے۔ لیکن افسوس اُن کے گرد حصار قائم کرنے والوں میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کا علم و دانش سے تعلق ہو۔ کاش! انہیں کوئی بتانے والا ہوتا کہ پنجاب لاہور کا نام نہیں‘ اور نہ ہی سنٹرل پنجاب کا نام ہے۔ پنجاب میں میانوالی بھی ہے اور اٹک بھی… بہاولپور بھی ہے اور وہ علاقے بھی ہیں جو پنجاب کے ’’مرکز‘‘ سے دُور ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جن کے نام اسس وقت تو ضرور لئے جاتے ہیں۔ جب پنجاب کے رقبے اور آبادی کو بڑا ثابت کرنا ہو‘ لیکن دوسرے مواقع پر یہ نام کسی کو یاد نہیں رہتے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن میں کہاں کہاں کی نمائندگی مفقود ہے؟ وہ ریٹائرڈ حضرات جو قضا و قدر کے مالک بنا دئیے گئے کہاں کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟ افسروں کا ایک گروہ جو مقتدر ہے‘ کیوں لافانی ہے؟
خطّاب کے بیٹے فاروقِ اعظم جُھکے۔ زمین سے مٹی مُٹھی میں بھری اور خوشامد کرنے والے کے منہ میں ڈال دی۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر یہ مٹی خوشامد کرنے والے کے منہ میں نہ ڈالی گئی تو اُس چہرے کو میلا کر دے گی جس کی خوشامد کی جا رہی ہے! خوشامد کرنے والے وہی رہتے ہیں‘ حکمران آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اب یہ حکمران پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اردگرد مسخروں بھانڈوں نقالوں اور لطیفہ گوئوں کو جمع کرتا ہے یا اُن لوگوں کو جو اُسے بتائیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ سلطان علائوالدین خلجی کی تلوار اندھی تھی اور ہر وقت جلاد کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ بھرے دربار میں قاضی مغیث الدین… خدا اُن کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ کرے… سلطان سے مخاطب ہوئے… بادشاہ سلامت! سرکاری خزانے کو آپ جس طرح اپنے ’’حرم‘‘ کی وسعت و زیبائش پر ضائع کر رہے ہیں‘ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی! علائوالدین کا چہرہ سرخ ہو گیا‘ ’’کیا تمہیں میری تلوار کا کوئی خوف نہیں؟‘‘… قاضی مغیث الدین نے سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں… ’’نہیں… میں صرف خدا کی تلوار سے خوفزدہ ہوں۔‘‘ سکندر لودھی ابھی تخت پر نہیں بیٹھا تھا۔ ولی عہد تھا۔ وہ ایک ایسے تالاب کو مسمار کرنا چاہتا تھا جسے ہندو مقدس گردانتے تھے۔ علما کو بلا کر رائے لی گئی۔ سرکاری زمینیں الاٹ کرانے والے اور وزیروں کی مراعات کے لئے پائوں پڑنے والے نام نہاد ’’علمائ‘‘ نے وہی کچھ کہا جو شہزادہ سننا چاہتا تھا! میاں عبداللہ دربار میں موجود تھے۔ اُٹھے اور کہا کہ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی دل آزاری کس طرح کی جا سکتی ہے؟ شہزادے نے الزام لگایا کہ تم بُت پرستوں کی حمایت کر رہے ہو‘ میں تمہیں قتل کرا دوں گا۔ میاں عبداللہ نے صرف ایک فقرہ کہا… ’’اگر تمہیں شریعت کا لحاظ نہیں تو پھر میری رائے لینے کی کیا مجبوری تھی؟‘‘
میاں عبداللہ اور قاضی مغیث الدین کا نام تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے لیکن وزیروں کا پروٹوکول لینے کے لئے عزت نیلام کرنے والے اُس کھائی میں گر کر ختم ہو چکے جس کے اُوپر تاریخ نے منوں مٹی ڈال دی ہے۔
بچو! حکومت کرنے والو… خوشامد کرنے والوں سے اپنے آپ کو بچائو۔ جھُکو… زمین سے مٹی کی مُٹھی لو اور ان کے منہ میں بھر دو!