معجزے اور حقیقت

کالم نگار  |  سعید آسی

یہ معجزے کے سوا اور کچھ نہیں‘ نہ دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا دیکھا‘ سُنا‘ پڑھا۔ نئی تاریخ رقم ہوئی ہے ورنہ یہ کہاں ممکن تھا کہ تمنائوں پر مبنی مطالبے کے عین مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور اُن کے ساتھی بہادر جج ہی بحال نہیں ہوئے‘ معزولی کے دوران ازخود ریٹائر ہونے والے ججوں کی بحالی بھی عمل میں آ گئی ہے اور سنیارٹی کے اصول کے مطابق جسٹس خواجہ محمد شریف کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے منصبِ جلیلہ پر بٹھانے کا خواب بھی پورا ہو گیا ہے۔
مجھے زیادہ خوشی اس لئے ہوئی کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے فوراً بعد میں نے عدلیہ کی ہئیتِ ترکیبی درست کرنے کیلئے اپنے ایک کالم میں فاضل چیف جسٹس کو چند معروضات پیش کی تھیں جن میں ایک نکتہ یہ بھی شامل تھا کہ معزولی کے عرصہ کے دوران سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے جو فاضل جج اپنی ریٹائرمنٹ کی آئینی میعاد پوری ہونے پر اپنے منصب سے ازخود ریٹائر ہو گئے ہیں انہیں بھی ان کی معزولی کے عرصہ تک کیلئے بطور جج بحال کر دیا جائے کیونکہ ان کی ریٹائرمنٹ کا حکومت کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ میری یہ خوش گمانی تھی کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ اب چیف جسٹس پاکستان کی ایڈوائس پر صدر زرداری کو یہ کڑوا گھونٹ بھی پینا پڑا ہے تو بے شک یہ معجزہ ہے مگر مجھے یہ عزمِ راسخ کا صلہ بھی نظر آتا ہے اور اس معاشرے میں انسانوں کے بگاڑے گئے معاملات قدرت کی جانب سے سیدھے کرنے کی بشارت بھی ہے۔ جسٹس رانا بھگوان داس‘ جسٹس فلک شیر اور جسٹس غلام ربانی کے ساتھ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ایم اے شاہد صدیقی بھی سرخرو ہو گئے جنہوں نے اپنی معزولی کے دوران ریٹائرمنٹ کی آئینی عمر پوری ہونے پر ازخود ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور وکلا برادری نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھا کر ایشیا کی سب سے بڑی لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے منصب پر منتخب کر لیا۔ اب انہیں بار کی صدارت چھوڑ کر سپریم کورٹ کے جج کے منصب پر جانا پڑے گا اور نائب صدر منور اقبال گوندل کے نام کے ساتھ اسی طرح صدر ہائیکورٹ بار کا ٹھپہ لگ جائے گا جیسے چند سال قبل ہائیکورٹ بار کے صدر ڈاکٹر خالد رانجھا کے صوبائی وزیر بن جانے پر نائب صدر احمد جاوید جیلانی کو جھونگے میں بار کی صدارت بھی مل گئی تھی۔ معجزات کے عمل میں کچھ ایسی ہی سرخروئی ہمارے شاعر بھائی جسٹس شیخ ثائر علی کے حصے میں بھی آ گئی ہے جنہوں نے معزولی کے دوران اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر پوری ہونے پر خود کو ازخود ریٹائر تصور کر لیا مگر اب انہیں ہائیکورٹ کے جج کے منصب پر بحال تصور کر کے سپریم کورٹ کے جج کے منصب تک پہنچا دیا گیا ہے؎
یہ رتبۂ بلند ملا جس کو‘ مل گیا
اب عدلیہ کے معاملات سیدھے ہونے ہی لگے ہیں تو کیا مضائقہ ہے اگر جسٹس جواد ایس خواجہ سمیت ان تمام باوقار ججوں (بشمول سول و سیشن ججوں) کو بھی ان کے مناصب پر بحال کر دیا جائے جنہوں نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے اور ان کے ساتھ روا رکھی گئی حکومتی زیادتی کے خلاف بطور احتجاج اپنے اپنے مناصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب وہ خاتون سول جج بھی اپنی سروس کے باقاعدہ ہونے کی مستحق ہیں جنہیں راولپنڈی بار میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی تقریب میں شمولیت کی پاداش میں اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ افتخار حسین چودھری نے ملازمت سے برخاست کر دیا تھا۔ متعلقہ سول اور سیشن ججوں کے معاملات چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس خواجہ شریف کے ہاتھ میں ہیں جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی سفارش پر ہائیکورٹ کے جج کے منصب پر بھی بحال ہو سکتے ہیں اور انہیں سپریم کورٹ بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔ جہاں دوسرے معجزات ہو رہے ہیں‘ وہاں اظہار یکجہتی کیلئے مستعفی ہونے والے ججوں کو بھی ان کے استعفے کے دن سے بحال کر کے ان کی سروس ریگولرائز کر دی جائے تو رقم ہونے والی نئی تاریخ میں ہماری آنے والی نسلوں کو ان کے نام بھی اچھے الفاظ میں پڑھنے کو مل جائیں گے۔
بگاڑ میں سے سدھار کو نکالنے کی سبیل بن ہی رہی ہے تو عدلیہ کی عمارت میں کہیں بھی ٹیڑھا پن نہ رہنے دیا جائے اور ہائیکورٹوں میں تین چار ماہ قبل جن ججوں کو مروجہ طریق کار سے ہٹ کر‘ آئینی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اور میرٹ کے قطعی برعکس محض حکمران پارٹی سے وابستگی کی بنیاد پر ایڈیشنل جج کے طور پر تعینات کیا گیا ہے انہیں الجہاد ٹرسٹ کے ججز کیس میں سپریم کورٹ کے 1996ء کے فیصلہ کی بنیاد پر ’’لے آف‘‘ کر دیا جائے اور ان تقرر پانے والے ججوں میں سے جو ہائیکورٹ کے جج کیلئے آئین میں وضع کردہ میرٹ پر پورا اترتے ہیں انہیں ان کے منصب پر برقرار رکھا جائے۔ یقیناً یہ معاملہ بھی چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے پیش نظر ہوگا اور اب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف بھی اس معاملہ کا جائزہ لے رہے ہونگے۔ بہتر ہوگا اس بارے میں بھی جلد فیصلہ کر لیا جائے۔ قدرت نے گند میں اَٹے ہوئے اس معاشرے اور اس کے ہر کل پرزے کی صفائی کا موقع فراہم کر دیا ہے تو اسے کسی صورت ضائع نہیں جانے دینا چاہئے۔ کل کو دنیا میں عدلیہ کی تابناکی کی جو مثال پیش کی جائے گی وہ یقیناً ہماری عدلیہ کے بارے میں ہوگی جسے عوامی سپورٹ نے ایک نئے روپ میں جنم دیا ہے۔ اس روپ کا نکھار برقرار رکھنا اب اس آئینی ادارے کے ساتھ وابستہ شخصیات ہی کی ذمہ داری ہے اب خلقِ خدا‘ جس نے اپنی طاقت تسلیم کرا لی ہے‘ عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے کو پہلے کی طرح راستے سے بھٹکنے نہیں دے گی۔ اب ہمیں کسی معجزے کے ساتھ نہیں‘ حقیقت کے ساتھ جڑنے کی ضرورت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عوام اب خود محتسب بن چکے ہیں ان کے آگے فرعونی آمریت اور جمہوری آمریت کی دال گل سکی تو دوسرے کس باغ کی مولی ہیں۔