شرعی قوانین‘ ویڈیو سوات کے تناظر میں …(۱)

کالم نگار  |  عامرہ احسان

سوات میں خاتوں کو کوڑے مارنے کی ویڈیو ٹیلی ویژن پر چلائی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چہار جانب زبان و بیان میں آگ سی بھڑک اٹھی۔ مختلف چینلز پر اس ڈیڑھ منٹ پر محیط کوڑے مارے جانے کو یوں مسلسل دکھایا گیا کہ لگاتار‘ بار بار دہرائے جانے سے سبھی کے اعصاب پر کوڑے برسنے لگے۔ کوڑوں کی تپش اور حدت درجہ بدرجہ حسب توفیق اور حسب ضرورت لوگوں نے یوں محسوس کی کہ زبانوں سے شعلے لپکنے لگے اور مختلف ٹاک شوز میں طالبان‘ اسلام‘ شریعت ابھی پر شعبہ باری اور آتش زنی کی گئی۔ آسمان سے باتیں کرتے نار نمرود کے سے اس الائو کی آگ ایک دن میں جھاگ کی طرح بیٹھ گئی اور اس میں سے آہستہ آہستہ حقیقت سر اٹھانے لگی۔ اب سرحد حکومت بھی اسے سازش قرار دے رہی ہے۔ آن لائن رپورٹ کے مطابق سرحد کے سرکاری اور نجی ماہرین نے اسے جعلی قرار دیا ہے۔ اے پی پی کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے اس علاقے کا دورہ کیا جس پر مقامی لوگوں نے ایسے کسی بھی واقعہ کی تردید کی ہے۔ چار تا چھ مہینے پرانی اس موبائل پر گھڑی گئی کہانی کو یوں اچانک بھس میں چنگاری کی طرح چھوڑ دینے سے پس پردہ مقاصد سبھی پر عیاں ہیں۔ ہمیشہ کی طرح غصے کی ابتدا جنون اور انتہا شرمندگی ہوا کرتی ہے۔ اب وقت ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے چہار جانب درپیش چیلنجوں میں گھری قوم غور و فکر و تدبر کرے۔ ہوش حواس معطل کر کے جذباتی ہیجان آمیز رویے غیرذمہ دارانہ ہیں جو ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر لاکھوں عوام کو رہنمائی دینے پر مامور دانشوروں‘ عوامی‘ سماجی رہنمائوں کو زیب نہیں دیتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیرت و کردار کے خود ساختہ ضابطوں سے نکل کر ذرا قرآن و سنت کے طے کردہ اصول و ضوابط سے بھی فیض حاصل کریں۔
مثلاً نبیﷺکی یہ تنبیہہ کہ ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ سنے (اس کے صحیح یا غلط ہونے کی تحقیق کئے بغیر) اسے آگے نقل کر دے۔‘‘ (مسلم)
کسی بھی درجے میں قیادت ایک ذمہ دارانہ منصب ہے جس کے شایان شان یہ نہیں کہ موقع غنیمت جان کر بلاتحقیق چاند ماری شروع کر دی جائے۔ اگر یہ شرعی سزا ہوتی‘ طالبان نے دی ہوتی تو عورت کو لٹا کر لال جوڑا دکھا کر کوڑے مارنے کا طریقہ اختیار نہ کیا جاتا۔ لیکن اس کی سچائی یا مبنی بر حقیقت ہونا طے کرنا تو مطلوب ہی نہ تھا۔ اسے تو بھوکے بھیڑے کی طرح نادان بھیڑوں کی عقل کھا جانے کے لئے چھوڑا گیا تھا۔ سو وہ چر لی گئی! طالبان کے لئے نفرت پیدا کرنے خوفزدہ کرنے کا ایک حربہ تھا۔ سو وہ استعمال کر لیا گیا۔
اس ضمن میں یہ بھی توجہ طلب بات ہے کہ اس معاشرے کی ہمدردیاں کس رخ پھیری جا رہی ہیں؟ انسانی حقوق کا واویلا‘ بدکاری کو میلی آنکھ سے دیکھنے کے جرم پر تو اتنا شدید ہے۔ لیکن لال مسجد‘ جامعہ حفصہ کی جلی ہوئی لاشوں‘ لاہور میں عقوبت خانے میں رکھی گئی معصوم بچیوں کے حقوق کے ضمن میں ایک مکمل سناٹا اور خاموشی کیوں ہے؟ شریعت کی پابندی کرنے والا کیا زمرہ انسانیت سے خارج ہو جاتا ہے؟ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور مذکورہ بچیوں کی آہیں کراہیں‘ سسکیاں سنوانے‘ سنانے کی کھوج کسی این جی او‘ کسی چینل کے حصے کیوں نہ آئی؟ شریعت پر چلنے کا جرم ایک پلڑے میں اور دوسرے میں بدکاری کا گناہ؟ وجہ تو معلوم ہے کہ این جی اوز کے تمام فنڈز تو ایسی ہی موبائل ویڈیوز اور کوریج‘ بیانات مذاکرے‘ سیمینار سے وابستہ ہیں۔ دونوں طرف مسئلہ پیش کا ہے۔ ایک طرف اللہ کے خوبصورت وعدے ہیں جو جنت کے مرغزاروں میں نہروں‘ باغوں میں رحمانی ضیافت کے وعدے ہیں اور دوسری طرف ڈالر ہیں‘ پانچ سات ستارہ ہوٹل‘ دنیاوی شہرت‘ کیمروں کی کلک‘ کلک کرتی سج دھج ہے تاہم علمی سطح پر پڑھنے سمجھنے کی ضرورت ہنوز تشنہ ہے کہ عورت کے معاملے میں اسلام اتنا حساس کیوں ہے۔ اگر بالفرض ویڈیو سچی ہے تو طریق کار کی غلطیوں سے قطع نظر ذرا نگاہ بھر کر اسلام کا نظام جرم و سزا دیکھ تو لیا جائے۔ اب نہ سہی آخر امام مہدیؑ اور بالآخر حضرت عیسیٰؑ کی آمد پر تو پوری دنیا اسی شریعت کے آگے سر جھکائے گی۔ روئے زمین پر چالیس سال تک اس کی حکمرانی رہے گی۔ آخر وہ نظام ہے کیا؟ کیا اسے ہم گوروں سے سمجھیں گے؟ قرآن و حدیث کے علم سے کوری این جی اوز کی بیبیاں ہمیں بتائیں گی؟ حالانکہ… ’نہیں‘ بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔ اور حق اگر کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور اس کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ نہیں بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر ان کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں۔ (المومنوں 70, 71) (جاری ہے)