جماعت اسلامی کے نئے امیر کا انتخاب

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو سید منور حسن واضح برتری سے جماعت اسلامی کے نئے امیر منتخب ہو چکے ہیں۔ سید منور حسن کا عہدہ امارت کے لئے انتخاب جماعت اسلامی کے نظریاتی اراکین کی اجتماعی دانش اور پختہ سوچ و فکر کا مظہر ہے کیونکہ وہ جماعت اسلامی کی لیڈر شپ کو اعلیٰ اخلاق و کردار، ذہنی بالیدگی، مذہبی رواداری اور سیاسی سمجھ بوجھ کے بہترین معیار پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ سید منور حسن کی صورت میں جماعت اسلامی کو ایسا رہنما ملا ہے جو ذاتی زندگی میں فقیر منش انسان ہونے کے باوجود انتہائی سمجھ دار اور مضبوط شخصیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی جماعت اسلامی کے اجتماعی مقاصد کے حصول کے لئے وقف کی ہوئی ہے اور عملی زندگی میں کبھی ذاتی منفعت کو پرکاہ برابر اہمیت نہیں دی۔ اگر وہ آج اپنے ذاتی اثاثوں کا اعلان کر دیں تو شاید بہت سارے دنیا پرست مذہبی جماعتوں کے لیڈران کے سرشرمساری سے جھک جائیں وہ ذاتی طور پر انتہائی ذہین، ذکی الحس اور خوش مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع المطالعہ اور صاحب علم شخصیت ہیں وہ زمانہ طالب علمی میں بائیں بازو کی تنظیم کے ساتھ بھی منسلک رہے مگر بعد میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی شخصیت اور تحریروں سے متاثر ہو کر اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہو گئے اور جلد ہی اس کے ناظم اعلیٰ بن گئے۔ تاہم سوشلسٹ نظریات کے مطالعہ نے بھی ان کی شخصیت پر نمایاں اثرات مرتب کئے اور انہوں نے ہمیشہ زندگی میں اپنے آپ کو ڈی کلاس رکھا جس کی وجہ سے وہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اپنے جیسے لگتے ہیں اور یہی ایک لیڈر کا قابل ستائش وصف ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہم عصر مذہبی رہنماؤں کے برعکس ذاتی جاہ و جلال اور کرو فرسے کوسوں دور رہتے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں انتہائی نامساعد حالات میں ایم کیو ایم کا دلیری اور جیداری سے سیاسی مقابلہ کیا جس کی وجہ سے ان کے مخالفین بھی ان کا بے حد احترام کرتے ہیں اگرچہ اپنے امیر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جماعت اسلامی کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے اور وہ پاکستانی معاملات میں امریکی عدم مداخلت، سیکولر عزائم کی مزاحمت اور دینی جماعتوں کے اتحاد کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ان کا یہ بیان جماعت کی قدامت پرست اور روایتی فکر کی ترجمانی کرتا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ محض مذہبی جماعتوں کے سیاسی اتحاد کے لئے اپنے پیش رو قاضی حسین احمد کی طرح مولانا فضل الرحمن کی سیاسی فریب کاری کا شکار ہونے کے لئے بھی تیار ہوں گے یقیناً نہیں۔ جبکہ آج قاضی صاحب مولانا فضل الرحمن کا اپنے سامنے ذکر سننا بھی پسند نہیں کرتے کیونکہ انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ ایم ایم اے کی سرحد حکومت میں جماعت اسلامی نے محض بدنامی مول لی جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے اقتدار کی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور ثابت کیا کہ ؎
’’ہر خرقہ سالوس کے اندرھے مہاجن‘‘
لہٰذا نو منتخب امیر جماعت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ جینوئن مذہبی جماعتیں کون سی ہیں جن کی سوچ و فکر سیاسی منافقت سے پاک ہے اور وہ نظر اسلام اور نفاذ دین کو دنیاوی مفادات اور اقتدار پر ترجیح دیتی ہیں اور جماعت اسلامی ان سے اس لئے اتحاد چاہتی ہے کہ وہ اس کے اسلامی نصب العین سے ہم آہنگ ہیں۔ مذہب کے نام پر دہشت گردی، گلوبلائزیشن عالمی اور سیاسی اقتصادی حالات کے پیش نظر جماعت اسلامی کی قیادت کو بھی لازماً اپنے ورلڈ ویو کو بدلنا ہو گا اور اس عمل کا آغاز جماعت اسلامی کی قیادت سنکیانگ کے مسئلے پر چین کی حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے اور یقیناً یہ پاکستان کے مفاد میں پاک چین تعلقات کی مضبوط کے لئے قابل تعریف قدم ہے۔ لہٰذا پاکستانی عوام یہ امید کرتے ہیں کہ سید منور حسن جماعت اسلامی کے بنیادی مقاصد سے منطبق رہتے ہوئے جماعت اسلامی کی پالیسیوں کو عہد حاضر کے جدید تقاضوں میں ڈھالنے کے لئے اپنی دانشورانہ سوچ اور قائدانہ صلاحیتوں کو ضرور بروئے کار لائیں گے تاکہ پاکستان کا نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ اسلام کی متوازن اور عملی سوچ کے پیروکار اور قول و فعل کے تضاد سے مبرا باکردار لیڈروں کو اپنا رول ماڈل تصور کر سکے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ جماعت اسلامی کے تنظیمی نظام کے اندر کمزور ہوتا ہوا لیڈروں اور ذمہ داروں کا ذاتی احتساب کا نظام پھر سے فعال ہو تاکہ آج کے دور قحط الرجال میں کم از کم جماعت اسلامی کے عمائدین ذاتی مفادات اور منافقت سے بالاتر ہو کر سچی دیانت اور حقیقی امانت کے حامل اعلیٰ معیار کا نمونہ نظر آئیں مجھے سید منور حسن سے امید ہے کہ وہ جماعت اسلامی کے امیج اور کردار کو بہتر بنانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور کبھی مصلحت پسندی اور اقربا پروری کا شکار نہیں ہوں گے اور ہمیشہ میرٹ پر اپنے ساتھیوں کو پرموٹ کرینگے کیونکہ وہ مسلک ایسے اہلحدیث ہیں جن کے اندر درویش صفت متصوف انسان دوست صوفی چھپا بیٹھا ہے اور بقول اقبال ؒ ؎
حالات کے قدموں میں قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے کوئی تارا تو زمین پر نہیں گرتا