مصالحتی سنٹر کے حوصلہ افزاء نتائج

مصالحتی سنٹر کے حوصلہ افزاء نتائج

تنازعات کے حل کا متبادل فورم (Alternative Dispute Resolution )یعنی عدالتی روائتی سماعت سے الگ طریقہ کار سے حل طلب یا تصفیہ طلب مقدمات کو فریقین کے مابین سہولت کاری سے بطور ثالث اس کا پائیدار حل نکالا جائے۔ اس مقصد کے لیے پہلاAlternative Dispute Resolution سنٹر لاہور میں رواں سال مارچ میں قائم کیا گیا یتھا جس کا افتتاح چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کیا تھا۔ سنٹر کے حوصلہ افزا نتائج کو دیکھ کر اس کا دائرہ کار صوبہ کے تمام اضلاع تک بڑھا دیا گیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وکلا اور عدلیہ کے درمیان اور پیشہ وارانہ تعلقات کے فروغ سے غیر ضروری مقدمے بازی اور عدالتی وقت کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا فورم تشکیل دیا جائے جہاں ایسے مقدمات کو منتقل کیا جائے جوکہ تصفیہ طلب ہوں جس میں فریقین بھی راضی ہوں کہ ان کے مقدمات کو مصالحت یا ثالثی کے زریعے نمٹایا جائے۔ جس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ زیر التواء مقدمات کی تعداد جوکہ سپریم کورٹ اور ماتحت عدلیہ میں 18 لاکھ سے زائد مقدمات بنتی ہے کو کم کیا جائے اور نئے مقدمات کی بھی سکریننگ ہوکہ کون سا مقدمہ کس سطح پر رکھاجائے ۔متبادل تنازعاتی حل Alternative Dispute Resolution ADR سنٹر کے قیام پیچھے ایک یہ مقصد بھی تھا ۔
دیگر شہروں کی طرح یکم جون سے ڈیرہ غازیخان میں بھی Alternative Dispute Resolution سنٹر کا افتتاح ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منیر احمد چوہدری نے کیا سنٹر میں بطور سہولت کار جج غلام اصغر رضوی کو تعینات کیا گیا ہے ۔ الٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولوشن (اے ڈی آر)کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے کیونکہ یہاں دونوں فریقین کے مابین سب سے پہلے ملاقات کا اہتمام کیا جاتا ہے اور دنوں کو ایک دوسرے کے روبرو سنا جاتا ہے تاکہ حقائق کے ساتھ ساتھ دونوں کے دعوؤں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ دوسری مرتبہ دونوں فریقین کو الگ الگ کمروں میں بیٹھا کر سنا جاتا ہے اور مصالحتی عمل کے دوران ممکنہ حل کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دونوں فریقین کو کیس کے حوالے سے مکمل راز داری کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی بات بغیر کسی ڈر یا لالچ کے بتا سکیں یہاں قانونی پیچیدگیوں اور بحث سے بچتے ہوئے مسئلے کے حل کی کوشش کی جاتی ہے۔اے ڈی آر مصالحتی سینٹرز میں سستے اور بروقت انصاف کی فراہمی کی بدولت عوام کا رجحان مصالحت کی جانب بڑھ رہا ہے، سائلین کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے میڈی ایٹرز یعنی سہولت کار ججز کی تعداد میں اضافہ کیا گیاہے۔ اگر اسی طرح یہ نتائج دیتے رہے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ہماری عدلیہ سے 50 فیصد سے زائد مقدمات اے ڈی آر مصالحتی سینٹرز کے ذریعے حل ہوجائیں گے۔ ڈیرہ غازیخان میں قائم ہونے والی مصالحتی سنٹرنے مجموعی طور پر 154 مقدمات کی سماعت کے دوران 80 مقدمات میں فریقین کے درمیان صلح کروا کر مقدمات کو نمٹا دیا ہے۔ 32 مقدمات کو فریقین کی غیر حاضری کی وجہ سے متعلقہ عدالتوں کو بھیج دیا گیاہے۔ اے ڈی آر جج غلام اصغر رضوی نے ملاقات کے دوران بتایا کہ اس دوران جن مقدمات کی مصالحت ہوئی ہے ان میں سول ، کریمنل ، فیملی اور گارڈین کورٹ کے کیس شامل ہیں۔مزید براں انہوں نے بتایا کہ33 مقدمات ایسے ہیں جس میں فریقین مصالحت پر راضی نہ ہوئے یہ کیس بھی واپس متعلقہ کورٹ میں بھیج دیئے گئے۔ فریقین کے مابین صلح کے نتائج دیرپا ثابت ہوتے ہیں اور تنازعات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتے ہیں کیس کا فیصلہ(مصالحت) جلد اور بغیر کسی اخراجات کے ہوتا ہے۔یہاں مقدمہ بازی نہیں مصالحت کے لیے حل نکالا جارہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہاس کلچر کو فروغ دینے کی خاطر عوام کے اندر مصالحت کی اہمیت وافادیت کو اجاگرکیا جائے۔ میڈیا اور وکلاء برادری اس سلسلے میں سب سے بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ابتداء میں یہاں وہ کیس منتقل کئے جارہے جوکہ پہلے سے عدالتوں میں زیر سماعت ہیں یہ سلسلہ اسی طرح کامیابی سے چلتا رہا تو عین ممکن ہے کہ فریقین براہ راست یہاں رجوع کریں ماہرین کا کہنا ہے کہ تنازعات کا فوری طور پر مقامی سطح پر اگر حل نکال لیا جائے تو یہ تنازعات بڑے حادثات اور جھگڑوں میں تبدیل نہیں ہوتے۔ مقامی مسائل یا تنازعات اسی طرح تصفیہ طلب درخواستوں کو مقدمات میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے ۔