لیہ کا سیاسی اور انتخابی منظر نامہ

لیہ کا سیاسی اور انتخابی منظر نامہ

قومی الیکشن ایک سال کی دوری پر ہیں مگرمتوقع امیدوران کی طرف سے مقامی حلقہ کے شہروں سیمت پبلک مقامات پر آویزاںتعارفی و خیر مقدمی بڑے بڑے پینا فلیکس اور ہوررڈنگ بورڈز نے الیکشن کا سا سماں باندھ رکھا ہے۔امیدوران میں غیر معمولی جوش و خروش،سیاسی مقاصد سے عوامی رابطوں میں تیزی ،دور دور تک جنازوں میں شرکت یقینی ہو چکی ہے۔سیاستدانوں کے لب و لہجہ میں حیرت انگیز طور پرسائستگی کا عنصر نمایاںاورآدم بیزاری سے آدم شناسی کی سوچ اور احساس اہمیت کا عمل تیز تر ہو رہا ہے۔na181 کا حلقہ تحصیل کروڑ،کچہ ،چوبارہ کے غیر آباد ریگزاروں،فتح پور کے علاقوں اور دیہاتوں پر مشتمل ہے اور رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد348176ہے ۔اور pp262 جو این اے ۱۸۱ کی ذیلی ونگ ہے میں رجسٹرڈ ووٹر زکی تعداد155838ہے ۔ جو مہاجر پنجابی برادری اور مقامی سرائیکی برادری پر مشتمل ہے ۔الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے سرائیکی مہاجر لازم و ملزوم ہیں اسی لئے دونوں برادریوں کا ووٹ اور ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ہر مرتبہ سرائیکی ،پنجابی پینل ہی سامنے آتے ہے۔تاحال سامنے آنے اور گردش کرنے والے مضبوط امیدوران کے ناموں میں زیادہ تر کا تعلق روایتی سیاستدان گھرانوں سے ہی ہے۔ماضی میںتین دہائیوں پر قائم مضبوط سیاسی گھرانے سواگ کے ریگولر امیدوار کی بجائے اسی گھرانہ کے نئے امیدوار صاحبزادہ محبوب الحسن جو کہ دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں پہلے بھی اپنے چچا صاحبزادہ فیض الحسن ایم این اے جومسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 118319کے بھاری ووٹوں سے الیکٹ ہوئے کے کورنگ امیدوار کے طور پرقومی سیاسی میدان میں انٹر اور ریکارڈ پر1443ووٹ حاصل کر چکے ہیں کااین اے۱۸۱ سے الیکشن لڑنے کا اعلان اور مصروف چوکوں پر نصب بینرز خاندان میں پڑی دراڑوں کا پتا دے رہے ہیںجس سے باالخصوص این اے میںسیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ون ٹو ون مقابلہ کا تصور ختم ہو جائے گا مسلم لیگ ( ن(اور روحانی عقیدت کاووٹ بینک تقسیم ہو کر رہ جائے گا جبکہ نفاق کی بنا پر مسلم لیگ علاقائی طور پر دو دھڑوں میں پہلے ہی منقسم ہے جسے سیاسی حلقے مسلم لیگ کی ڈیفی شنسی گردانتے اورسیاسی ناقدین تر نوالہ کے طور پر لیتے ہیں ۔سابق ایم پی اے چوہدری الطاف جو ماضی میں مسلم لیگ (ق)کے صوبائی امیدوار کے طور پر 10003ووٹ لے چکے اسی حلقہ سے قومی اور صوبائی امیدوار کے طور پر حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ووٹرز میں گہرا تجسس اور قیاس آرائیاںتحریک انصاف کے متوقع امیدواروں کے بارے بھی پائی جاتی ہیں جس میں شہر میں تحریک انصاف کے رہنماسابق قومی وزیر سردار بہادر خان سیہڑجو سابقہ الیکشن میں پی پی پی کے ٹکٹ پر 74719ووٹ لیکر رنر اپ رہے تھے اب قومی الیکشن کے امیدوار ہیںاور رہنما تحریک انصاف سابق امیدوار قومی اسمبلی نیازمحمد گجرجوپی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ماضی میں20628ووٹ حاصل کر چکے کا کمبائن تصاویر والے پینا فلیکس کا آویزاں ہونا ہے جبکہ اسی حلقہ سے معروف زمیندارتحریک انصاف کے ایم پی اے اور متحرک رہنما عبدالمجید خان نیازی جو 35645ووٹ لیکر منتخب ہوئے اسی حلقہ سے این اے کا الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ حلقہ میںپی ٹی آئی کے قومی اور ذیلی ونگز کے ٹکٹوں کی تقسیم بہادر خان سیہڑ کی خواہش اور مرضی سے ہی ہو گی کیونکہ انہوں نے نیاز احمد جھکڑ اور سیف الدین کھوسہ جیسے قد آور سیاستدانوں کے ساتھ گروہی طور پرمشروط پی ٹی آئی جوائن کی تھی جبکہ بعض حلقے اور عوامی آراء عمران خان سے قربت اور پارٹی کو بھاری فنڈنگ کی بنا پر ٹکٹ کے مستقبل کے فاتح ایم پی اے عبدلمجید خان کو سمجھتے ہیں ۔ این اے ۱۸۱ پر ماضی میں گذشتہ تین دہائیوں سے سواگ اور سیہڑ خاندان ہی ایک دوسرے کے مضبوط حریف کے طور پر سامنے آتے رہے ہیںجبکہ اسی حلقہ سے ماضی میں چوہدری نور محمد مرحوم آزاد حثیت سے قومی امیدوار کے طور پر 45000ہزار ووٹ لے کر اپنی سیاسی اہمیت کا لوہا بھی منوا چکے ہیں۔ گذشتہ صوبائی الیکشن کے با اثر امیدوار چوہدری اطہر مقبول جو صاحبزادہ فیض الحسن کے ساتھ سیاسی وابستگی بنا کر27230ووٹ لیکر رنر اپ رہے تھے اورسابق صوبائی وزیر ملک احمد علی اولکھ جنہوں نے 24819ووٹ حاصل کئے تھے بھی اسی حلقہ سے امیدوار کے طور پر سامنے آئیں گے ۔بلاول بھٹو کا پیپلز پارٹی کو فعال کرنے اسے نشاۃ ثانیہ کا دور دینے کی کاوشوں سے علاقہ میں پیپلز پارٹی کا مورال بڑھا اور اس کے ٹکٹ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے پارٹی کا قومی ٹکٹ دو مرتبہ منتخب ہونے والے ایم پی اے ملک اللہ بخش سامٹیہ اور صوبائی ٹکٹ سابق یوسی ناظم چوہدری عین الحق کے بیٹے یو سی چئر مین چوہدری انعام الحق کو ملنے کی توقع ہے ماضی کی بجائے این اے اور پی پی پرامیدواروں کی تعداد یقینی طور پر بڑھ جانے کا سیاسی منظر ٹرانزلوسینٹ سے ٹرانسپیرنٹ کی طرف گامزن ہے۔ماضی میں اس حلقہ سے آزاد امیدوران ،بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی،ایم کیو ایم،اسلامی تحریک پاکستان،آل پاکستان مسلم لیگ،اور پاکستان جسٹس پارٹی کے امیدوران حصہ لے چکے ہیں۔عوامی بیٹھکوں میںالیکشن اورامیدوار ڈسکس ہونے کا بڑھتا رجحان ان کی سیاسی ترقی ،بیداری ،بالیدگی اور دلچسپی کا مظہر ہیں۔سرمایہ درانہ نظام کی بدولت تمام معروف پارٹیز کے ٹکٹ نظریاتی ورکر کی بجائے مضبوط سیاسی خانوادوںجو سیہڑ ،سواگ ،گوجر ،گیلانی،آرائیں، سامٹیہ،اولکھ،سید گھرانے، بودلہ وغیرہ کو ملنا ہی متوقع ہیں۔جس کے لیئے کوششیں،سیاسی تعلقات بروئے کار لائے جا رہے ہیں ۔ ماضی کی طرح نئے الیکشن میں پینل ، امیدواروں کی گروپ بندی اور دھڑے بندی سیاسی جماعتی وابستگی سے بالا تر ہو سکتی ہے جس سے مقامی سیاسی افق میں تبدیلیاں اور اتار چڑھاؤ کو مضبوط فور کاسٹ کے طور پر لیا جا رہا ہے۔علاقہ میں پارٹی نظریاتی و ذہنی وابستگی کا ووٹ بینک تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے کا میابی کا دارومدار امیدواران کی مقامی گروپ بندی ،سیاسی و شخصی اثر بیک گراونڈ اودیگر لوکل سپورٹ عوامل پر منحصر ہوگا۔