تیل اور گیس کے منصوبے پر دوبارہ عمل کی ضرورت

تیل اور گیس کے منصوبے پر دوبارہ عمل کی ضرورت

خیرپورٹامیوالی شہر سے جنوب کی طرف ایک کلومیٹر فاصلہ پر چولستان موجود ہے جو بہاول پور ڈویژن کے دو تہائی حصہ پر مشتمل جبکہ 66 لاکھ 55 ہزار 355 ایکڑ پرمحیط ہے۔ یہ سونا اگلنے والی زمین نہری پانی کی کمی کی وجہ سے بنجر اور بے آباد پڑی ہے اگر خیرپورٹامیوالی کی بہاول کینال میں سے چولستان کیلئے نہر نکالی جائے تو یہ بنجر علاقہ سرسبز اور شادابی میں تبدیل ہو سکتا ہے اور اس نہر کے اردگرد چولستانی لوگوں کو جن کی 2013 سے درخواستیں منظور ہو کر ایم ڈی چولستان کی ٹیبل پر الاٹمنٹ کے انتظار میں پڑی ہیں۔ عملدرآمد کر کے نہ صرف علاقہ کو خوشحال بلکہ پاکستان سے بھوک اور افلاس کا بھی خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں تعینات ہونے والے ایم ڈی چولستان وسیم انور خاں سے چولستانیوں کی توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں کہ مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق سینیٹر چودھری سعود مجید ایم پی اے و صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے آبپاشی چودھری خالد محمود ججہ اور صوبائی وزیر ملک محمد اقبال چنڑ جو چولستان ترقیاتی ادارہ بہاول پور کے چیئرمین بھی ہیں کی مشترکہ کاوشوں سے عنقرب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بہاولپور میں ایک جلسہ عام کے دوران چولستانیوں میں الاٹمنٹ آرڈر تقسیم کریں گے۔ چولستان نہ صرف زرعی اراضی کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس میں تیل اور گیس کے ذخائر بھی موجود ہیں جو پاکستان کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان کی حکومت نے امریکہ کی ایک آئل کمپنی سے چولستان میں تیل نکالنے کا معاہدہ کیا۔ یہ 1980-81 کی بات ہے۔ امریکہ کی آئل کمپنی نے پورے چولستان میں سروے کیا اور دس مقامات پر تیل نکلنے کے نشانات لگائے اور خیرپورٹامیوالی کے نزدیک ٹوبہ ککری کے مقام پر کنواں کھودنے کا کام شروع کیا۔ یہ غالباً 1983 کی بات ہے۔ کنویں کی کھدائی پر تقریباً دو ماہ سے زائد عرصہ صرف ہوا اور امریکی ماہرین نے حکومت اور عوام کو خوشخبری دی ۔ کنویں میں بڑے پیمانہ پر تیل موجود ہے۔ کنویں سے نکلنے والے موادکو آگ لگا کر عوام کو بھی دکھایا گیا۔ اس وقت کے قومی اور مقامی اخبارات میں بھی تیل کے نکلنے اور مبارکباد کی خبریں شائع ہوئیں اور پورے علاقہ میں بلکہ ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انتظامیہ نے چولستان کو قومی شاہراہ کے ساتھ ملانے کیلئے بڑی سڑک تعمیر کرنے کا سروے بھی کرایا گیا اور آئل ریفائنری کی تعمیر اور دیگر انتظامات کا جا ئزہ لیا گیا مگر اچانک امریکی کمپنی نے جو خدشہ ظاہر کیا بھارت کے ساتھ ساز باز کر کے یہ کہدیا کہ تیل موجود ہے لیکن کم مقدار میں ہے۔ اخراجات زیادہ ہیں اور یہ بھی کہا کہ کنویں کا بور کرنے والی ’’رگ‘‘ چھوٹی ہے ۔ کنویں کو بند کردیا جو اس وقت بھی سیل شدہ حالت میں موجود ہے۔ سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ زیرزمین تیل کا بہاؤ بھارت کی طرف جاتا ہے انہیں تشویش تھی کہ پاکستان میں تیل نکلنے سے بھارتی کنوؤں کی تیل کی مقدار کم ہو جائے گی۔ اب حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ چولستان میں تیل و گیس کی تلاش کے منصوبے کو سی پیک منصوبے میں شامل کرکے چولستان میں تیل کی تلاش کے کام کو دوبارہ شروع کیاجائے۔