لاس ویگاس لہولہان

لاس ویگاس لہولہان

عامر رضا گجر
گیارہ ستمبر کے بعد امریکی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ گزشتہ سال جون میں اور لینڈو نائٹ کلب پر حملہ ہوا تھا جس میں 50 ہلاک اور 59 زخمی ہوئے۔
لاس ویگاس کے حملے نے وہ ریکارڈ توڑ دیا اس بار ہلاکتیں 70 اور زخمی 500 سے زیادہ افراد ہوئے اور لینڈو حملہ کے بعد صدر اوبامہ نے ان حادثات کو بلاثبوت مذہب سے جوڑنے کو غلط ٹھہرایا تھا۔ تمام حقائق کے باوجود حملہ آور افغانی نژاد مسلمان تھا اس لئے مغربی میڈیا نے اسے مذہبی رنگ دے دیا اور عوام کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
مغربی ذرائع ابلاغ کے اس رویہ پر ایک لطیفہ یاد آتا ہے یورپ میں کسی خاتون پر ایک کتے نے حملہ کر دیا‘ پاس سے گزرتے ایک شخص نے جان پر کھیل کر اس کی جان بچائی۔ اگلے دن اخبار میں اس کی تصویر اس خبر کے ساتھ لگی انگریز ہیرو نے عورت کو کتے سے بچا لیا۔ اس شخص نے اخبار کے دفتر فون کر کے کہا کہ وہ انگریز نہیں ہیں مقامی مسلمان ہوں۔ اخبار نے پھر خبر لگائی خطرناک دہشت گرد نے بے ضرر پالتو کتے پر حملہ کر دیا۔
لاس ویگاس میں حالیہ حملہ کرنے والا 64 سالہ ریٹائرڈ اکاؤنٹنٹ اسٹیفن کریگ پیڈک ہے۔ اسٹیفن کے بھائی ایرک نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والد ایک بنک لٹیرے تھے جن کا نام ایف بی آئی کے سب سے زیادہ مطلوب فہرست میں تھا اور ان کو ایک بار جیل سے فرار ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ 1969ء میں پیڈک کو دماغی مریض قرار دیا گیا تھا۔ ایرک کے مطابق اس کے بھائی کو بندوقوں کا شوق نہیں تھا۔ اسٹیفن کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا۔ مغربی میڈیا دہشت گردی کو ایک فعل نہیں بلکہ فرد سے جوڑ کر دیکھتے ہیں اور حملہ آور کے مذہب کی بنیاد پر طے کرتے ہیں کہ وہ دہشت گرد ہے یا جنونی جس کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہو یہی وجہ ہے کہ اسے مغربی میڈیا دماغی مریض قرار دے رہا ہے۔ پولیس کے مطابق سٹیفن کے گھر سے 18 رائفلیں‘ گولہ بارود‘ بڑی تعداد میں گولیاں بھی ملی ہیں اور حیرت کی بات ہے جس بندوق سے اس نے قتل و غارت کی ہے وہ رائفل ممنوع ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیڈک کا ماضی میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور نہ ہی اس حملے سے پہلے وہ مشکوک تھا۔ امریکی نوجوانوں کے اندر کارفرما اشتعال انگیزی کے پس پشت اسلحہ رکھنے کا بنیادی حق بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صدر اوبامہ نے اپنے دور حکومت میں اسے ساقط کرنے کی بارہا کوشش کی لیکن اسلحہ ساز سرمایہ داروں نے ایوان کے ارکان کو خرید کر انہیں ہر بار ناکام کر دیا۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ امریکہ میں ہر سال 33 ہزار سے زائد افراد فائرنگ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو تہائی خود کشی کرتے ہیں۔
لاس ویگاس قتل عام سے قبل 2007 میں ایک طالب علم نے ورجینیا یونیورسٹی میں 32 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ 2012ء میں ایک قاتل نے 26 سکول کے بچوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ پچھلے سال دو مختلف واقعات میں 9 افراد قتل ہوئے۔ یہ مثالیں شاہد ہیں کہ اسلحہ رکھنے کا جنون جرائم کے ارتکاب میں معاون ثابت ہوتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ جمہوریت اس عفریت کی پرورش کرتی ہے اس کے باوجود جو لوگ مغرب کی ذہنی غلامی میں گرفتار ہیں وہ اقبال کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
اٹھا کر پھینک دوباہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
الیکشن ممبری کونسل صدارت
بنائے خوب آزادی کے پھندے
میاں بخار بھی چھیلے گئے ساتھ
نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے