ہتک عزت اور سائبر کرائم (2)

ہتک عزت اور سائبر کرائم (2)

سائبر کرائم ایکٹ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لاگو ہے ۔سائبر کرائم ایکٹ اگر منصفانہ بنیادوں پر نافذ العمل ہو تو اس سے ملک و قوم دونوں کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ سائبر کرائم قانون میں کچھ بے تکی شقیںہیں جن پر شدید تحفظات کی وجہ سے اسے انسان دوست نہیںکہا جاسکتا اور نہ ہی اسے لوگوں کے حقوق کا ضامن قرار دیا جاسکتا ہے،البتہ اسے سیاسی و سماجی حضرات کے جائز و نہ جائز حقوق کا رکھوالا ضرور قرار دیاجاسکتا ہے۔ ہتک عزت الگ بات ہے اور اس آڑ میں کسی شخص کا ذاتی ڈیٹا چیک کرنا،اسکے گھر والوں کو تنگ کرنا اور پورے گھر کو قصووار سمجھنا کچھ اور چیز ہے۔ سائبر کرائم ایکٹ کو یوزر فرینڈلی بنا نا حکومتی مشن ہونا چاہیے نہ کہ غیر ضروری چیزوں میں لوگوں کو الجھانا اور ان ریسٹ پیدا کرنا مطمع نظرہو۔آزادی اظہار رائے انسان کو جینے کا بنیاد ی حق بھی فراہم کرتی ہے اوراظہارمیں تجاوز سے بھی روکتی ہے۔بھینسا، موچی اور ناجانے کتنے فراڈیے سائبر کرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں ان پر کسی کی آنکھ نہیں جاتی۔اگر ہم قرآن مجید سے سائبر کرائم اور حقوق العباد کو سمجھنے کی کوشش کریں تو ہمیں سینکڑوں آیات قرآنی خواتین کے حقوق، جانوروں کے حقوق، نوکروں کے حقوق،بچوں کے حقوق ، غیرمسلموں کے حقوق،والدین کے حقوق وغیرہ کی بات کرتے ہیںاورلوگوں کے راز، اندازتکلم اور غرض ہر قسم کی عزت و ناموس کی حفاظت کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ آج ہم نے قرآن جیسی عظیم کتاب الٰہی سے سبق لینا چھوڑ دیا ہے ۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
سائبر کرائم کی بے صبری میں پاس شدہ شقوں میں کچھ پر نظرثانی ضرور ی ہے جن میں’’ (1)صارفین کے حساس اعداد و شمارکوچیک کرنا۔(2) NATIONAL RESPONSE CENTRE FOR CYBER CRIME'' کے تحت مستثنی افسران (ایف آئی اے)'' کو کسی بھی تحقیق کے دوران کسی بھی کمپیوٹر، موبائل فون یا دیگر آلہ کو غیر مقفل کرنے کی اجازت ہونا۔(3) موبائل فون لیپ ٹاپ پر کچھ بھی دیکھتے ہوئے ہر کسی کو مانیٹر کیا جانا (4) شق 28کے تحت آپکے لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور موبائل کی جانچ کسی وقت بھی کی جاسکتی ہے صرف ایک نوٹس کی ضرورت ہوگی۔(5)شق 29کے تحت حساس ادروں کے لئے ایک سال تک آپکا ڈیٹا محفوظ کرکے رکھا جائے گا تاکہ بوقت ضرورت کام آئے (6)بغیر وارننگ کے کسی کو بھی اُٹھایاجاسکتا ہے اور اس بات سے قطع نظر کہ جرم کے مرتکب فردکی عمر کیا ہے کیونکہ اس سائبر کرائم بل میں جرم کرنے والے کی عمر کا تعین نہیں کیا گیا۔
سوشل میڈیا کا کنٹرول ہاتھ میں لینے سے حکومت کا فائدہ کم بیرونی عناصر کا زیادہ لگتا ہے۔(7)شق5 کے مطابق اگر دکاندار یا کوئی اور آ پکا ڈیٹا شیئر کرے تو وہ جیل جا سکتا ہے۔شق19 اور 20کے مطابق پیغام بھیجنے پر تین ماہ قید ہوگی۔(8)دوست ممالک کے خلاف بھی کچھ پوسٹ کیے جانے پر جیل جانا ہوگااورکسی ا دارے یا شخص معلومات تک رسائی کرنے کی کوشش میں تین ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہوگا، برائے مہربانی وضاحت کریں دوست ممالک کی صف میں بھارت بھی شامل ہے؟۔(9) غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنا جرم ہوگا اور سات سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ ہوگا۔مگر جرم کے زمرے میں صرف بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنا جرم ہوگا، بالغوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنا جرم نہیں۔(10) سائبر کرائم بل میںاپنے عقیدے کا پرچار کرنا منع ہے اور اقلیتوں کے بارے میں بھی کچھ نہ کہا جائے، لکھا ہے لیکن توہین رسالت کا کہیں ذکر نہیں ہیـــ‘‘ شامل ہیں۔
ویسے کیا ہی اچھا ہوتا کہROPAایکٹ کی طرح کی ایک قانون سازی ہوتی جو ان تمام لوگوں کو بھی سوشل میڈیا یا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر ریپریزینٹیشن کی اجازت نہ دیتی جو کہ کریمنل ریکارڈیافتہ ہیں۔بنیادی نقطہ یہ ہے کہ سائبر کرائم بل کی مبہم شقوںکو نکال کر صحیح شقوں کو شامل کیا جائے۔اس بل کا از سر نو جائزہ لے کرحقیقی معنوں میں قابل عمل شقیںڈالی جائیں جو کہ چھوٹے بڑے سب کے لیے برابری کی بنیاد پر نافذ العمل ہوں، تاکہ جزاوسزا کا عمل شروع ہوسکے۔