یک نقشِ دل ربا بر لوح ِ ادب

یک نقشِ دل ربا بر لوح ِ ادب

محترم خالد اقبال یاسر نے ’’لوح ‘‘ کے گزشتہ شمارے پر گفتگو کرتے ہوئے کہیں لکھا ہے کہ ’’کسی رسالے کے لیے معیاری مواد کی فراہمی، تدوین، ادارت، کتابت بمعنی کمپوزنگ، پروف خوانی، ترتیب، تزئین، طباعت اورپھراشاعت جان جوکھوں کاکام ہوتا ہے۔ اتنے پیچیدہ اورنازک پیشہ ورانہ مراحل سے گزر کر جب کسی پرچے کا کوئی شمارہ قاری کے ہاتھ لگتا ہے تو اسے قطعاً احساس نہیں ہوتا کہ اس کے مدیر کو اپنا مجلّہ اس تک پہنچانے میں کیسی پتّے ماری کرنا پڑی ہوگی بشرطیکہ مدیرممتازاحمدشیخ کی طرح واقعی مدیر ہو ورنہ بہت سے ادبی پرچوں پرایک سرسری نظر ڈالتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ کس پرچے کا مدیر ہے اور کس کا ندارد‘‘۔میں اس رائے سے کلی طورپر متفق ہوں کہ سہ ماہی ’’لوح‘‘واقعی ایک عمدہ جریدہ ہے اور اس کے مدیر بہت باکمال انسان۔یقین جانئے کہ ادب کو ایسے ہی دیوانوں نے پروان چڑھایا ہے۔کسی صلہ کی پروا کیے بغیر محترم ممتاز احمد شیخ کی لگن اورادب سے کمٹمنٹ کاایک نقشِ دل ربا حال ہی میں’’لوح‘‘ کے افسانہ نمبر کی صورت سامنے آیا ہے۔ افسانے کی ایک سو پندرہ سالہ تاریخ کا یہ نقشِ حسیں اپنی مثال آپ ہے ۔کیا کیا گل ہیں جو اس باغ میں کھلے ہیں،کیا کیا رنگ ہیں جو اس چمن زار میں چمک رہے ہیں اور کیا کیا خوشبوئیں ہیں جو اس گلزار کا حصہ ہیں۔افسانوی ادب کا قریباً ہر خوبصورت افسانہ اس تاریخی دستاویز میں شامل ہے ۔ ممتاز شیخ صاحب نے گیارہ سو بیس صفحات پر مشتمل اس انتخاب میں دو سو کے قریب افسانے کس جاں گسل مرحلے کے بعد منتخب کیے ہوں گے،کس کرب کو انھوں نے بھوگا ہوگا،اس کا اندازہ لگانا ہی کس قدر مشکل اور جاں سوز ہے کہ ایسے دیوانے اب خال خال ہی نظر پڑتے ہیں۔ افسانے کے اولین معماروں کی نمائندہ تخلیقات سے لے کر عہدِ حاضر تک کے کئی اہم لکھاریوں کی تحریریں اس تاریخی دستاویز کا حصہ بنی ہیں۔اس خصوصی شمارہ میں شامل افسانوں کو چھ ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تاہم روایت کے ضمن میر باقر علی کا افسانہ’’ برا خاوند‘‘ شامل ہے۔پہلا دور اختر اورینوی سے آغازہوتا ہے اوران کے بعداعظم کریوی،اوپندر ناتھ اشک،پریم چند،راشد الخیری،سجاد حیدریلدرم سے ہوتا ہو نیاز فتح پوری پر ختم ہو تا ہے۔دوسرا دوراحمد علی، سجاد ظہیراور رشید جہاں پر مشتمل ہے۔تیسرا دور اختر انصاری سے ہوتا ہوا احمد ندیم قاسمی،بلونت سنگھ ،رجندر سنگھ بیدی،منٹو،عصمت چغتائی،غلام عباس سے آگے بڑھ کر ممتازمفتی پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔چوتھا دور آغا بابر سے ہوتا ہوااشفاق احمد،جمیلہ ہاشمی،بانو قدسیہ،خدیجہ مستور،قدرت اللہ شہاب،حسن عسکری،ممتاز شیریں،نیئر مسعود سے ہوکر ہاجرہ مسرور پر ختم ہوتا ہے۔پانچواں دور میںانتظارحسین،انورسجاد،رشید امجد،منشا یاد،مستنصر تارڑاور مظہر السلام جیسے معروف افسانہ نگاروں سمیت متعدد لکھنے والے شامل ہیں جبکہ چھٹے دور میں امجد طفیل،خالد فتح محمد،سلیم آغاقزلباش،شاہین کاظمی،محمد حمید شاہد اور نجیبہ عارف جیسے کئی اہم لوگ موجود ہیں ۔اس اہم شمارے میں خواجہ حسن نظامی،عطاالرحمن خاکی،محمودالظفرسہیل عظیم آبادی،محمد خالد اختراورعرش صدیقی کے نام نظر نہیں آئے(معلوم نہیں کیوں)۔ افسانوں کا یہ انتخاب اس بات کا گواہ ہے کہ مدیر نے انتخاب میں غیر جانب داری سے افسانے کے ارتقائی سفر کی تاریخ مرتب کردی ہے ۔ایسی جامع تاریخ اور ایسی دستاویز کم از کم میری نظر سے گزری ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ’’فنون ‘‘ کے غزل نمبر کے بعد کسی ایک صنف پر اتنا جامع اور خوبصورت انتخاب میں نے نہیں دیکھا ۔ انتخاب میں شامل ہر افسانہ نہ صرف یہ افسانہ نگار کی اہم تخلیق ہے بلکہ افسانوی ادب کی تشکیل و ترتیب ،عہد بہ عہد افسانے کا ارتقا اور اس کی تیز رفتار ترقی کا عکاس بھی ہے۔ ورق در ورق ہمیں ایک نیا منظر دیکھنے کو ملتا ہے اور ہر منظر کوئی اور منظر ترتیب دیتا ہوا۔ "لوح" کا یہ شمارا افسانوی ادب کی پوری روایت کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ۔ اس انتخاب کے جستہ جستہ مطالعہ سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ افسانے کی روایت نے جس تیزی سے اپنی فنی حیثیت منوائی ہے اور جس تیزی سے وقت کے بدلتے تقاضوں کا ہم نوا ہوا ہے اس کی مثال تلاش کرنا مشکل ہے۔حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ افسانے نے اپنی فنی سلامتی کے لیے کبھی کوئی دبائو قبول نہیں کیا اورمخالف ہوا کا مقابلہ کرتے ہوئے اس نے اپنے توانا اور ثابت قدم ہونے کا ثبوت بہم پہنچایا اور رومانیت، حقیقت نگاری، جدیدیت، علامت نگاری، تجریدیت اور مابعد جدیدیت کی غمازی کرتے آگے بڑھتے افسانے نے موضوعی اور تکینیکی و ہیئتیی سطح پر اپنی فنی Validity برقرار رکھی۔پریم چند اردو افسانے کو داستان سے زندگی کی طرف لے کر آئے اور اسے ایک نئی فضا اور نئی دنیا سے آشنا کیا تو بعد کے آنے والوں نے انہی کے جلائے چراغ کی روشنی میں سفر کرکے افسانے کو بام کمال تک پہنچایا۔حرف آخرکی صورت مدیر نے افسانے کے سفر کا جس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ جائزہ لیا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے۔ ’’لوح‘‘ حقیقی معنوں میں لوح ِادب کانقشِ دل ربا ہے۔"لوح " کے پہلے شمارے نے قارئین کی جس طرح توجہ حاصل کی اور بعد کے شماروں نے جس طرح قارئین کا اعتماد قائم رکھا اس کا سہرا صرف اور صرف ممتاز شیخ صاحب کے سر ہے ۔ افسانہ نمبر کا یہ تاریخی شمارہ ادبی تاریخ میں تا دیر یاد رکھا جائے گا۔ اس کارِ کمال پر مجھ سمیت تمام پڑھنے والے ممتاز احمد شیخ کی خدمت حرف تحسین پیش کرتے ہوئے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اب ’’لوح‘‘ کے غزل اور نظم نمبر کا ڈول بھی ڈالیں گے ۔