افغانستان میں امریکی پالیسی

افغانستان میں امریکی پالیسی

امریکہ نے شمالی کوریا سمیت مزید تین ملکوں پر سفری پابندی عائد کر دی ہے جبکہ افغانستان میںاپنے مفادات کی جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔امریکہ میں صدر ٹرمپ کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی متنازع سفری پابندی کی فہرست میں اضافہ کر کے ایران، لیبیا، شام، یمن اور صومالیہ کے علاوہ اب شمالی کوریا، چاڈ اور وینزویلا کو بھی اس فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس نئی فہرست کو صدارتی فرمان کی صورت میں جاری کیا کہ امریکہ کو محفوظ بنانا میری اولین ترجیح ہے۔ اور ہم اپنے ملک(امریکہ) میں کسی بھی ایسے فرد کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے جو ہمارے لیے خطرے کا باعث بنے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق فہرست میں اضافے کا فیصلہ مختلف ممالک کی حکومتوں کی جانب سے دی گئی معلومات کے بعد کیا گیا ہے۔وینزویلا پر لگائی گئی پابندی صرف ان کے سرکاری ملازمین اور اْن کے اہل خانہ پر لاگو کی گئی ہے۔ لگائی گئی سفری پابندی کے اولین حکم میں سوڈان بھی اس فہرست کا حصہ تھا لیکن امریکی مفادات کی انتہا یہ ہے کہ جو ممالک امریکہ کی من وعن مان لے اس پر سے پابندیاں اٹھالی جاتی ہیں وگرنہ ظالمانہ بے جا پابندیوں میں جکڑ دیا جاتاہے۔ اس نئی فہرست میں سے سوڈان کا نام نکال دیا گیا ہے۔اعلان کے مطابق عراق نے بھی امریکی شرائط پوری نہیں کی تھیں لیکن شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے اور معلومات فراہم کرنے کی وجہ سے اس پر یہ پابندی اٹھالی گئی ۔یاد رہے کہ فروری میں اعلان کیے جانے والے اس حکم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اسے مسلم ممالک پر پابندی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اعلان کے بعد ملک بھر میں اس کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کیے گئے اور عدالت میں اسے چیلنج کیا گیا۔آئندہ ماہ امریکی سپریم کورٹ میں اس پابندی کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوگی۔اسی طرح سے شمالی کوریا نے امریکی حکومت کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا تعاون کرنے سے انکار کیا تھا جس کے بعد ان کے شہریوں پر امریکہ سفر کرنے پر ممانعت عائد کر دی گئی ۔افریقی ملک چاڈ امریکہ کا انسداد دہشت گردی میں اہم ساتھی ہے لیکن اس نے امریکہ کے ساتھ دہشت گردی سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں جس کی وجہ سے ان کے شہریوں پر بھی سفری پابندی عائد کی گئی ہے۔ لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا کے چند سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ انھوں نے امریکی حکومت کے ساتھ شہریوں کی تصدیق اور تفتیش میں امریکہ سے تعاون نہیں کیا تھا۔ یہ پابندی 18 اکتوبر سے لاگو ہوگی اور وہ افراد جن کے پاس جائز ویزا ہے وہ اس پابندی سے مستشنی ہوں گے۔ مزید یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ دنوں ایک جھوٹی خبر کا بھی شکار ہوئے ہیںکہ جب انھوں نے ایران کے میزائل تجربے کی خبر پر ٹویٹ کردیا۔امریکی صدر نے ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک خبر کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کا تجربہ مشرق وسطیٰ میں امریکی حلیف اسرائیل کے لیے خطرہ ہے۔ ایران نے ابھی اسرائیل تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ وہ شمالی کوریا کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ یہ اس معاہدے کی پاسداری نہیں جو ہم نے ان سے کی ہے۔خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کے حق میں بھی نہیں ہیں۔لیکن بعد میں انھیں پتہ چلا کہ یہ ویڈیو دراصل سات ماہ پرانی تھی اور ایران نے حالیہ کسی میزائل کا تجربہ ہی نہیں کیا۔ ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود ایران کے میزائل تجربے پر اسرائیل ناراض ہے ، قبل ازیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کی تضحیک کی اور کہا کہ ان کے پیش روؤں نے ایران کے ساتھ جو جوہری معاہدہ کیا ہے وہ امریکہ کے لیے 'شرمندگی کا باعث ہے۔'دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ ان کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور اسرائیل جیسے کسی ملک کے لیے وہ خطرہ نہیں ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ کی تقریر کے ایک روز بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی کسی کو نہیں دھمکایا ہے اور ہم کسی کی دھمکی کو برداشت بھی نہیں کریں گے۔ رواں سال جنوری میں ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کے بعد امریکہ نے اْس پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے میزائل کا تجربہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو بھی دھمکی دی ہے کہ میزائل پروگرام کی وجہ سے وہ جوہری معاہدہ ختم کر دیں گے کیونکہ میزائل پروگرام کے ذریعے ایران جوہری ہتھیار لے جانے کی معلومات حاصل کر رہا ہے تاکہ جوہری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ اس پر عمل کر سکے۔دیگر مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ نے افغانستان میں بھی اپنی مفادات کی جنگ چھیڑ رکھی ہے اور اس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان بھی میدان جنگ بناہوا ہے ۔
امریکہ کی نئی پالیسی اس وقت تمام مسلم ممالک اور خاص کر پاکستان پر آشکار ہو گئی ہے کہ جب حامد کرزئی کا ایک حیران کن بیان منظر عام پر آیا ہے کہ امریکہ کی نئی پالیسی میں خطے کے لیے خونریزی کا پیغام ہے۔شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر پر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایسا پہلی بار نہیں کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی میں خطے کے لیے لڑائی اور خونریزی کا پیغام ہے اس نے بار بار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر تنقید کی ہے۔ امریکہ کی اس سیاست میں خطے کے خلاف کوئی سازش یا کوئی حکمت عملی ہے۔ نئی پالیسی میں افغانستان اور خطے کے لیے امن اور امید کا کوئی پیغام نہیں کیونکہ اس میں بات چیت اور قیام امن کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔امریکہ انتہائی اقدام سے پہلے پاکستان سے بات کرے گا۔ پاکستان افغانستان مذاکرات کی فلاپ فلم ہے ۔ہم نے کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کے خلاف ملٹری ایکشن ہونا چاہیے، وہ ہم نہیں چاہتے۔ہم پاکستان کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں لیکن پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ ایک باعزت اور خودمختار ملک جیسا سلوک کرنا ہو گا۔ ایران، روس اور چین نے افغانستان میں میدان جنگ بنایا ہوا ہے، ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کی نئی پالیسیاں اور روش کی وجہ سے خطے کے ممالک اب شک میں مبتلا ہیں کہ امریکہ افغانستان میںکیا کر رہا ہے؟ ۔حالات دن بدن کیوں خراب ہوتے جا رہے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان نہ بنے‘۔ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، جڑے ہوئے بھائی ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں، کیونکہ پاکستان ہمارا بھائی ہے اور لازم ہے کہ ہمارے مضبوط رابطے اور رشتے رہیں۔اس کے باوجود امریکہ اس کا حامی نہیں کیو نکہ دنیا بھر میں مسلم ممالک میں خونریزی،بدامنی، دہشتگردی اصل میں امریکی ایجنڈا ہے ۔ ایسے حالات میں پاکستان کو اپنی مثبت سوچ اور قومی مفادات پر مشتمل پالیسی اپنانی ہو گی ۔پاکستان ایک پرامن، محبت کرنے والا باہمی رواداری والا ملک ہے جس نے ہر دور میں عالمی قوتوں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کیا ہے اور یہ تعاون کسی حد تک جاری رہے گا ۔