روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام

روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام

جمہوری حقوق ، بنیادی حقوق، انسانی حقوق و امن پسندی کی نام نہاد پر چارک خون آشام ڈائن آنگ سان سوچی کی ناک کے نیچے بدھ دہشت گرد میانمار(برما) فوج کی نگرانی اور تعاون سے ہزاروں بیگناہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کر چکے ہیں۔ وہاں مظالم کا آغاز 3جون 2012ء کو اس وقت ہوا کہ جب دارالحکومت رنگون میں گیارہ بے گناہ مسلمانوں کو بسوں سے اتار کر فوجیوں اور بدھ مت غنڈوں نے انتہائی بیدردی سے شہید کر دیا ۔ 20ہزار سے زائد رروہنگیا مسلمان 2013ء میں سفاکی سے قتل کیے گئے ، ہیومن رائٹس واچ نے 2013ء میں اپنی 52صفحات پر مشتمل سروے رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ میانمار میں نسلی فسادات کی ذمہ دار وہاں کی فوج سیکورٹی ایجنسیاں اور بدھ مذہب کے نام نہاد پیشوا ہیں لیکن انسانی و جمہوری حقوق کے علمبردار ممالک اور تنظیموں نے ان انکشافات پر کوئی توجہ نہیں دی ، حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار کی فوج نے سرکاری طور پر باقاعدہ مہم چلا کر رخائن میں آگ و خون کا کھیل کھیلا ہے اور فوج و بدھوں نے باہم مل کر رخائن کے 80علاقوں کو جلا کر خاکستر کر دیا جبکہ یونیسف کی ایک مفصل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 3لاکھ 91ہزار روہنگیا مسلمان ہجرت کر کے بنگلا دیش جانے پر مجبور ہوئے ۔ اس وقت بنگلا دیشی کیمپوں میں 2لاکھ 30ہزار بچے بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہیں ، 36ہزار بچوں کی عمریں ایک سال سے بھی کم ہیں ، 92ہزار بچے پانچ سال سے کم عمر کے ہیں ،52ہزار حاملہ خواتین شدید صدمات سے دوچار ہیں ،12اگست 2017ء کے بعد میانمار سے تسلسل کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم ، ان کے گھروں کو جلانے ، معصوم بچوں کو نیزوں پر زندہ پرونے اور خواتین کی اجتماعی آبروریزی کے دل ہلا دینے والے واقعات میں سے کچھ کی فلمیں سوشل میڈیا ، پر وائرل ہوئیں تو مسلم رہنمائوں میں ترکی کے صدر طیب اردگان فوری حرکت میں آئے اور ان کی رگ ایمانی پھڑک اٹھی اور اعلان کر دیا کہ اگر اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہ کیا تو وہ ترکی کی فوج وہاں بھیجنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ ان کی اس ایمان افروز دھمکی نے کام دکھایا اور عالمی میڈیا ، بی بی سی ، سی این این وغیرہ نے میانمار مظالم کے واقعات نشر کرنے شروع کر دئیے اور وزارت خارجہ پاکستان نے بھی آنکھ کھول کر روایتی بیان جاری کر دیا ۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر اور پاکستان کے عوام نے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہروں جلسے ، جلوسوں کا انعقاد شروع کر دیا مسلمانوں کے جذبات اس وقت اور زیادہ بھڑک اٹھے کہ جب آنگ سان سوچی نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام کو قانونی اور آئینی طورپر درست قرار دینے کے بھیانک دعوئے کیے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان و آزادکشمیر کے مظاہروںمیں ترکی صدر طیب اردگان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا اور بازاروں میں ان کی تصاویر نمایاں مقامات پر چسپاں کرنے کے علاوہ جلوسوں ، جلسوں میں ان کی تصاویر نمایاں نظر آئیں ۔ ان مظاہروںسے خطاب کے دوران مقررین کا مطالبہ تھا کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے بلاوئے پر لندن یاترا کی بجائے میانمار جانا چاہیے تھا اور برما سے تجارتی سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیاجائے پاکستان اور آزادکشمیر کے دیگر شہریوں کی طرح آزادکشمیر کے اہم سب ڈویژن ڈڈیال میں روہنگیا مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور برما فوج و بدھ غنڈوں کے مظالم کیخلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا ، احتجاجی جلوس کی قیادت الحاج جمیل اقبال ملک ، علامہ نواز بشیر جلالی ، کے ڈی چوہدری ، سید ابرار شاہ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر محمد اسحق ، چوہدری خلیل احمد ، چوہدری ممتاز ایڈووکیٹ اور دیگر رہنمائوں نے کی جلوس کے شرکاء نعرہ بازی کرتے ہوئے شہر کے مرکزی مقام مقبول بٹ شہید چوک پہنچے جلوس نے جلسہ کی شکل اختیار کر لی ۔ جلسہ کی صدارت الحاج جمیل اقبال ملک نے کی ۔ صدر میاں محمد بخش سوسائٹی آزادکشمیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے انسنایت سوز مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہے اقوام متحدہ کو فوری طور پر میانمار میں امن فوج بھیج کر مسلمانوں کی نسل کشی بند کروانی چاہیے اور تمام مسلمان رہنمائوںکو مصلحتوں کے خول سے باہر نکل کر غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردگان جیسا مجاہدانہ کردارادا کرنا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے امریکی صدر ٹرمپ آنکھیں دکھا رہا ہے مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے ایٹمی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کردار قائدانہ ہوناچاہیے تھا لیکن پاکستان کی قیادت پاناما کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے ۔ سید ابرابر شاہ ایڈووکیٹ، ممتاز چوہدری ، الحاج جمیل اقبال ملک نے اپنی تقاریر میں مطالبہ کیا کہ پاکستان روہنگیا مسلمانوں کی عملی مدد کرئے اقوام متحدہ کو دوہرا معیار ترک کر کے مسلمانوں کی نسلی کشی فوری طور پر بند کروانا چاہیے ۔مقررین نے کہا کہ کشمیر فلسطین ، یمن اور دیگر علاقوں میں بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں امت مسلمہ کو او آئی سی کا پلیٹ فارم مضبوط کرنا چاہیے اور مغرب کی ترقی میں لگائے گئے وسئال اسلامی ممالک واپس لے کر مسلم ممالک پر صرف کریں ۔ مقررین نے دلائی لامہ سے مطالبہ کیا کہ وہ میانمار کا دورہ کر کے وہاں بدھ مت کے غنڈوں کے مظالم دیکھ کر فیصلہ کریں کیا ان کا مذہب ایسے ہی مظالم کا درس دیتا ہے ۔۔۔۔؟