پیپلز پارٹی کی نئی حکمت عملی

پیپلز پارٹی کی نئی حکمت عملی

پیپلز پارٹی نے ایم کیوایم کو تحریک انصاف سے دور ر کھنے کے لئے منانے کا فیصلہ کرلیا اور مختلف آپشن پر غور شروع کردیا۔ اس ضمن میں پیپلزپارٹی نے دوہری حکمت عملی بنائی جس کا ایک مقصد خورشید شاہ کو 2018ء تک اپوزیشن لیڈر برقرار رکھنا ہے تو دوسری جانب وہ تحریک انصاف کاراستہ ر وکنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حلیف جماعت مسلم لیگ کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف دوسری جماعتوںکے ساتھ کوئی اتحاد بنانے میں کامیاب نہ ہو۔ دونوںپاپولرجماعتیں 2018ء سے قبل اپوزیشن کو کمزوردیکھنا چاہتی ہیں۔ اس ضمن میں سابق صدرآصف علی زرداری سرگرم ہوگئے ہیں۔ ان کو ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے اتحاد پر تشویش ہے‘ وہ ایم کیو ایم کی ناراضگی دور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے رفقاء سے ا س ضمن میں صلاح و مشورے کئے اور خورشید شاہ سے بھی مشاورت کی۔ سابق صدر نے کہا کہ وہ سیاست میں دوست بنانا چاہتے ہیں‘کسی سے دشمنی نہیں چاہتے۔ اس مقصد کے لئے پیپلزپارٹی شہری علاقوں کے ارکان قومی اورصوبائی اسمبلی کے لئے مراعات کے ایک پیکیج پر غور کررہی ہے۔باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے لئے نمبر گیم میں پیپلزپارٹی کو برتری حاصل ہے‘ لیکن پانسہ کسی بھی وقت پلٹ سکتاہے اور تحریک انصاف کامیاب ہوسکتی ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق تحریک انصاف دو تین ووٹوں سے جیت سکتی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری پر عزم ہیں کہ پیپلز پارٹی کو سیاسی طورپر تنہا کرنے والے ناکام ہوں گے بلکہ ہم مخالفین کو سیاسی حکمت عملی کے ذریعہ تنہا کردیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ایم کیو ایم سے بھی تعلقات بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے حالانکہ دونوں جماعتوں کے ساتھ گزشتہ دنوں کشیدگی کا عنصر نمایاں تھا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان تو پہلے ہی رابطے قائم ہیں۔ آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کے ساتھ ان تمام ممکنہ آپشنز پر تبادلہ خیال کیا ہے جن پر پیپلزپارٹی عمل کرسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے تعلقات ٹھیک نہیں لیکن صورتحال اس قدر گھمبیر ہوگئی ہے کہ دونوں جماعتوں کو ناچاہتے ہوئے رابطے بحال کرنا پڑے۔ رضا ربانی کی طرح اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پیپلز پارٹی میں مسلم لیگ (ن) کے آدمی کہلاتے ہیں‘ یہ اعزاز پہلے اعتزاز احسن کو بھی حاصل تھا‘ یہ اس زمانے کی بات ہے جب اعتزاز احسن نے نواز شریف کے ساتھ لانگ مارچ کیا اور جنرل کیانی کا آصف علی زرداری کے بجائے اعتزاز کو فون آیاتھا۔ اس فون کی بدولت عدلیہ بحال ہوئی تھی‘ گویا اس وقت کی طاقت کو ایک جنرل نے بحال کیاتھا‘ جس کا کریڈیٹ سیاستدانوں نے لیا تھا اوراب تک لیتے ہیں‘ یہ وہ زمانہ تھا جب اعتزاز احسن مسلم لیگ جوائن کرنے کے لئے پر تول ر ہے تھے اور آصف علی زرداری کاخیال تھا کہ اعتزاز احسن مسلم لیگ میں جاکر پیپلزپارٹی کو کمزور کریں گے‘ ان کایہ بھی خیال ہے کہ اعتزاز احسن اوررضا ربانی اسٹیبلشمنٹ کے آدمی ہیں‘ لیکن خورشید شاہ کو پسند کرتے ہیں اور ان کی ایسی کوئی رائے نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مسلم لیگ کی صدارت سنبھالنے کے بعد پیپلز پارٹی چراغ پا ہوگئی اوراس نے ایک شخص کے لئے قانون میں تبدیلی مذاق قرار دیدی اور کہا کہ نوازشریف کے حق میں ترمیم سے پارلیمنٹ کو نقصان پہنچاہے جبکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ترمیم کا خیر مقدم کیا اور نواز شریف کو مبارکباد دے ڈالی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران پیپلز پارٹی نے نواز شریف کی پارٹی صدارت کی راہ ہموار کرنے والے ترمیمی بل کو چیلنج کرنے کافیصلہ کرلیا۔ تحریک انصاف اورایم کیو ایم پہلے یہ فیصلہ کرچکی ہیں یہ سوال بدستور موجود ہے کہ کیا پیپلزپارٹی مسلم لیگ کے ساتھ مفاہمتی عمل کا حصہ بنے گی؟
آصف علی زرداری کو نوازشریف کا ایک پیغام مل چکا ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے ساتھ پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ کے درمیان مفاہمت کی سیاست زندہ ہو گئی۔ سابق صدر کو سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کا پیغام بھی پہنچا دیا گیا۔ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف سے آصف علی زرداری تک جو پیغام پہنچائے گئے ہیں ان میں سب سے اہم یہ مشورہ ہے کہ نوازشریف محاذ آرائی کی سیاست ترک کر دیں۔ 28 جولائی کے بعد مسلم لیگ نے آصف علی زرداری کو یہ پیشکش کی تھی کہ دونوں پارٹیاں ہاتھ ملا لیں لیکن اس وقت آصف علی زرداری بلند پرواز پر تھے اور ان کو یقین تھا کہ این آر او ہو جائے گا لیکن اب آصف علی زرداری ایسی صورتحال میں پھنس گئے ہیں کہ وہ مسلم لیگ کی مدد سے بحران کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ نہ صرف پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کو زندہ کرنا چاہتی ہے بلکہ وہ سابق وزیراعظم کو بحران سے نکال کر دوبارہ منصب پر بٹھانا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ کی یہ بھی خواہش ہے کہ آئینی ترامیم کے ذریعے اعلیٰ عدالتوں اور دیگر اداروں کا کردار محدود کر دیا جائے گا۔ احتساب کیلئے نئے بل کی تیاری کے بعد ججوں کی مدت ملازمت میں کمی کیلئے مجوزہ بل کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے‘ ججوں اورجرنیلوں کے احتساب کی بھی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ آئندہ صرف بیوروکریسی‘ ججوں اور جرنیلوں کے گرد شکنجہ کسا جائے گا‘ سیاستدان مستثنیٰ ہوں گے۔ ان اقدامات کے ساتھ سیاسی صورتحال نازک اورفیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کی سیاست بہت پہلے زندہ ہو گئی تھی‘ دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے رابطوں کے بعد یہ طے ہو گیا کہ قومی اسمبلی سے نیب کا ترمیمی بل منظور کرایا جائے گا‘ اس فیصلے کے ساتھ آصف علی زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت کی تھی کہ سندھ اسمبلی سے منظور کئے گئے نیب بل پر پیشرفت نہ کی جائے‘ اب دونوں جماعتوں کے درمیان جمود ٹوٹ رہا ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالات کے جبر نے آصف علی زرداری کو ایک بار پھر فرینڈلی اپوزیشن بننے پر مجبور کر دیا ہے‘ ان کے پاس آپشن ختم ہو گئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔